48

کشمیر کے بارے میں طوفان انگیز فیصلہ؟

عبدالعزیز
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں کہا تھا کہ ”جب بھی کشمیر کے بارے میں سوچا جائے یا وہاں کا مسئلہ کا حل کرنے کی کوشش کی جائے تو تین چیزیں ضرور سوچنا چاہئے: انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت“۔مگر آج جو لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کا صدارتی حکم کے تحت اعلان کیا گیا ہے اس میں نہ جمہوریت ہے، نہ کشمیریت ہے اور انسانیت کا کوئی دخل ہے۔ جمہوریت اس لحاظ سے نہیں ہے کہ اس فیصلے میں کشمیریوں کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف ایک طرح سے اعلانِ مخاصمت ہے اور کشمیریت کو بھی پورے طور پر نظر انداز کیا گیا۔ انسانیت تو ایک لحاظ سے پارہ پارہ ہوگئی۔ اس سے جو کچھ کشمیر میں ہوگا وہ اچھا نہیں ہوگا۔ نہ ملک کیلئے اور نہ کشمیر کیلئے، کیونکہ شاہ اور مودی سے پہلے ہر سیاسی لیڈر یہی کہتا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ گولی سے نہیں بولی سے حل ہوگا۔ بولی کا راستہ اب شاید باقی نہیں رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں فوجیں پہلے سے بھی بہت زیادہ تعینات تھیں اور مزید35 ہزار فوج حالات کو قابو کرنے کیلئے بھیجی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ہند کو معلوم ہے کہ اس فیصلے سے کشمیر میں ہنگامہ، شور شرابہ اور تشدد بڑھ سکتا ہے۔ کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے جذبات اور احساسات کا خیال کیا گیا ہے جو کشمیر کو تین ٹکڑے کرنا چاہتے تھے۔ تازہ فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اب جاکر کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہوا، کیونکہ دستورِ ہند وہاں پورے طور پر لاگو نہیں تھا۔ لیکن شاید اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ دونوں دفعات جنھیں ختم کر دیا گیا ہے یہ بھی دستور ہند کا حصہ تھا۔ اور ان لوگوں نے اس دفعات کو شامل کیا تھا جو ملک کی آزادی کیلئے لڑے تھے اور کشمیر کے حالات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ آج ان بزرگوں کوبھی نظر انداز کیا جارہا ہے جو دور تک سوچتے تھے اور کشمیریوں کے جذبات و احساسات کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے تو وہ بے دھڑک اور بے خطر اور بغیر سوچے سمجھے کام کرنے کی عادی ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں بھی ایسے ایسے کام ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عوام پریشان رہے، اس کے باوجود جارحانہ قومیت اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر پچھلی سرکار دوبارہ قائم ہوگئی۔ دوسری مدت میں بھی حیرت انگیز اور تعجب خیز کاموں پر ہی یہ سرکار اپنی توجہ دے رہی ہے۔ جہاں تک لوگوں کی فلاح و بہبود کا معاملہ ہے اس کی طرف سے اس کی توجہ ہٹی ہوئی ہے۔ ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ الیکشن کے موقع پر معیشت کی دگرگوں حالت پر ووٹروں کی نظر نہیں پڑی۔ یشونت سنہا کا یہ انٹرویو آج ہی(5اگست) انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ میں شائع ہوا ہے۔ پورا انٹرویو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت Collapse (گر) کر جائے گی۔ ایسی صورت میں ساری توجہ معیشت کو بہتر بنانے میں مرکوز کرنا چاہئے تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ معیشت کی ابتر حالت سے عوام کے ذہن کو ہٹانے کیلئے طوفان انگیز فیصلے کئے گئے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کا رد عمل آنا شروع ہوگیا ہے۔ جو اچھا نہیں ہے۔ بہت سے لیڈروں کو نظر بند کردیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل اور کیبل ٹی وی کی سروسز بند کردی گئی ہیں۔ آج جو پوری دنیا کی حالت ہے جو ایک گاؤں اور محلہ کی طرح ہوگئی ہے اس میں باتیں پوشیدہ نہیں رہ سکتیں۔
اب معاملہ ہے کشمیریوں کا ان کو بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تشدد کا راستہ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا۔ اپنے احساسات و جذبات کے اظہار کا راستہ بند نہیں ہے کیونکہ ہندستان کے تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر سینسر شپ لاگو نہیں ہے۔ بیرونی ممالک کے ذرائع ابلاغ پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس لئے کشمیریوں کو چاہئے کہ تشدد کا راستہ اپنانے کے بجائے عدم تشدد کا راستہ اپنائیں۔ کشمیری بہت سے لوگ کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ مزید اس راستے میں جان دینا اور یہ سمجھنا کہ مسئلے کا حل ہوجائے گا، ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر کے مسئلے کیلئے ثالث کی تجویز پیش کی تھی۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تجویز مان لی تھی۔ غلط یا صحیح انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کشمیر کے مسئلے کیلئے ان کو ثالث کی تجویز پیش کی تھی۔ ہندستان کے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں کہاکہ ہندستان کی طرف سے ثالث کی کوئی تجویز نہ پہلے پیش کی گئی تھی اور نہ اب کسی کو پیش کی گئی ہے۔ اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کو ہندستان نے رد کردیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ سرحدوں پر اس وقت جو تناؤ ہے اس لئے ثالث کی ضرورت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ بات پاکستان کی ہے۔ ہندستان کی حکومت اس طرح کی کوئی تجویز ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔
موجودہ حکومت شاید طے کرچکی ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ اب بولی سے حل نہیں کرے گی۔ ظاہر ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے کہیں کا بھی مسئلہ آج تک دنیا میں حل نہیں ہوا۔ امریکہ بہت بڑا ملک ہے اور بہت بڑی طاقت ہے اسے ویت نام کے مسئلے میں جھکنا پڑا تھا۔ بالآخر جنگ کے بجائے ویتنام کا مسئلہ بات چیت سے حل ہوا۔ فلسطین کا بھی مسئلہ ایک زمانے سے لاینحل ہے۔ اگرچہ کشمیر کا مسئلہ ویتنام اور فلسطین کی طرح نہیں ہے کیونکہ کشمیریوں کی تعداد ایسی ہے جو ہندستان کے دستور کو تسلیم کرتی ہے اور ہندستان بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ کشمیر ہندستان کا لاینفک جز ہے۔ اب جبکہ دونوں دفعات کشمیر میں لاگو نہیں ہوں گے جموں اور کشمیر کو انڈین ٹریٹری قرار دیا گیا ہے لیجسلیچر کے ساتھ۔ اور لداخ کو بغیر کسی لیجسلیچر کے کشمیر کو دونوں حصہ مرکز کے ماتحت ہوگا جیسے دہلی، پانڈیچری وغیرہ ٹریٹریز ہیں۔ دہلی کی موجودہ حکومت مکمل ریاست کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ کشمیر کی ریاست کو ٹریٹری میں بدل دیا گیا ہے۔ اگر کسی ملک کے حصے کو State Hood (مکمل ریاست) کا درجہ نہیں دیا جاتا ہے تو یہ بھی ایک مسئلہ باقی رہے گا۔ موجودہ حکومت کا آئندہ منصوبہ کشمیر کے بارے میں کیا ہے اسے اگر ظاہر کیا جائے اور کشمیریوں کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے تو شاید حالات طوفان انگیز نہیں ہوں۔ حالات پہ بھی جلد قابو پایا جاسکتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں