144

کرشنا سوبتی : وقت کے بھیانک تانڈو کے درمیان ایک سپنے کا اَنت


مشرف عالم ذوقی
کرشنا سوبتی چلی گئیں،مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ وہ اس ماحول میں زندہ کیسے تھیں؟یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے،اگر آپ کرشنا سے ملے ہیں، تو اس درد کی کیفیت کا سراغ مل سکتا ہے اور نہیں ملے، تو آپ اس درد کا اندازہ نہیں لگاسکتے کہ وہ زندہ کیسے تھیں،جیسے لاکھوں کروڑوں زندہ رہتے ہیں، کرشنا سوبتی ان میں سے نہیں تھیں اور کوئی دوسرا کرشنا سوبتی ہو بھی نہیں سکتا،وہ ایک چلتا پھرتا آتش دان تھیں،اس آتش دان کا ایک نام نظم بھی ہو سکتا ہے ،ناول بھی، وہ نثر میں شاعری کرتی تھیں اور اپنے ارد گرد چھوٹے چھوٹے فلسفیانہ جملوں سے ایک کائنات تخلیق کر لیتی تھیں،انھیں دیکھتے ہوئے بھی اس بات کا احساس ہوتا تھا کہ آپ اپنے عہد کے اس عظیم مصور سے مل رہےہیں ، جس نے ایک ملاقات میں ہی آپ کو کسی سادہ سےکینوس میں تبدیل کر دیا ہےاور کینوس پر لہو کے رنگوں سے، جو تصویر ابھری ہے ،اس عظیم شاہکار میں حیات و ممات کے فلسفوں سے لے کر وہ زندگی بھی گردش کر رہی ہے ، جس کو خوفناک موسم تسلیم کرتے ہوئےآپ نے قبول تو کر لیا ہے، مگر کرشنا آخری سانس تک قبول نہ کر سکیں،اس آتش دان میں2017 میں انہوں نے ایک کویتا لکھی” ویدک ہیں کرانتی”

ویدک ہے کرانتی
کرانتی بھارت میں / کرانتی نہیں ہے یہ / کوئی غلط فہمی ہے
یہ مہان دھرنا ہے /ویدک کرانتی
گایوں کو بچاؤ / اور شہریوں کو مار ڈالو
دیوی دیوتاؤں کی یہی ہے آگیہ ( حکم )
خبردار / اسکی کوئی نہ کرے نافرمانی/جتنے پاپی ماروگے / اتنا اگلے جنم میں پھل پاؤ گے /
خوشحال زندگی کے لیے یہ ثواب ہے / جنم جنمانتر کے لیے
جو ویدک نظریات کے لیے کرےگا یہ کرانتی /اسے خوشحالی ملے گی / اگلے جنموں میں شانتی ہی شانتی /اس ویدک یگیہ میں ساتھ دو /ہندوتو کی کرانتی / ویدک ہے کرانتی /
کوئی خوش فہمی نہیں ہے / اوم شانتی،اوم شانتی /
اتنے اچھے دن
اس دیش میں پھر کب آئیں گے ؟
(17 فروری 2017)
انکا ایک ناولٹ تھا “اے لڑکی!”یہ لڑکی اس وقت میری نظروں کے سامنے ہے،یہ مختصر ہوتے ہوئے بھی ایک طویل داستان ہے، موت کاانتظارکرتی ہوئی ایک بوڑھی عورت،وہ زندگی کے آر پار دیکھ رہی ہے،کوئی ورق سادہ نہیں،ہزاروں کہانیاں یادوں کی فصیل پر پھیل جاتی ہیں، اس کہانی میں بوڑھی عورت کی پوری زندگی ہے،موت کی ساعت جیسے جیسے قریب آ رہی ہے ، وہ موت کے جشن کی تیاری کر رہی ہے، موت ایک بے خوف دعوت ہے کہ وہ آئے اور لڑکی اس سے ملنے کے لیے تیار ہو،موہ مایا ، یادیں ، زندگی کے بکھرے اوراق ، حوادث کے تجربوں کو کنارے کرتے ہوئے وہ ملنا نہیں چاہتی ، وہ اپنی تکمیل کے صفحوں پر دستخط کرتے ہوئے ملنے کی متلاشی ہےاور وہ تب ملنا چاہتی ہے ، جب بھیانک وقت اپنے سیاہ پنجوں کے ساتھ ہلاکت کی داستان قلمبند کر رہا ہوتا ہے، وہ ناولٹ ایک مکمل نظم ہے ، موت سے زندگی تک کے سفر کو جیسے کرشنا نے جیا ، وہ انکا ہی اسلوب اور ان کا ہی تجربہ ہے،کرشنا کو یاد کرتے ہوئے مجھے بار بار وہ لڑکی یاد آ رہی ہے،وہ کرشنا نہیں تو کون تھی؟
2010 میں کرشنا سوبتی کو حکومت ہند نے سب سے بڑا اعزاز پدم وبھوشن دینے کا اعلان کیا، تو کرشنا سوبتی نے اس اعزاز کو بہت احترام کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کر دیا،ان کے پاس انکار کرنے کا بہتر جواز تھا،انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا’میں ایک بہت سادہ اور معمولی سی فنکار ہوں اور میں یقین رکھتی ہوں کہ دانشوروں کے پاس جو سوچنے کی طاقت ہے، اگر وہ اپنے ملک کے لوگوں کو اور حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں، تو وہ اسے صحیح طریقے سے پڑھ بھی سکتے ہیں،ان کا فرض ہے کہ وہ حکومتی اعزاز اور ایسٹیبلشمنٹ سے دور رہیں’ـ 2002 میں گجرات سے بھیانک آگ کی لپٹیں اٹھیں اور ساری دنیا میں پھیل گئیں،گجرات پر میرے خیال سے سب سے زیادہ ہندی زبان میں لکھا گیا،اس درد کو جس انداز سے ہندی ادیبوں / شاعروں نے محسوس کیا ، اس کا اظہار بھی یہاں ضروری معلوم ہوتا ہےـ درد زندہ ہو گیا تھا،تقسیم وطن کی کہانیاں بوسیدہ اوراق سے باہر آ گئی تھیں،اس درد کو کرشنا سوبتی نے بھی محسوس کیا،”گجرات پاکستان سے گجرات ہندوستان” ایک ایسی تخلیق ہے ، جہاں کرشنا سوبتی کے زخموں اور درد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،گھر تقسیم کیے جانے پر اٹھنے والی دیواروں سے کس قدر اپنی آواز بےگانی ہوکر لوٹتی ہے؟ کس طرح پرائے ہو گئے اپنے ہی صحن کے حصے میں، وجود کا ایک حصہ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور کس طرح کوئی اپنا، پرایا ہو جاتا ہے،کرشنا نے ٹوٹے خواب سجائے،درد کی موسیقی کو آواز دی اور ” گجرات پاکستان سے، گجرات ہندوستان تک” میں سب کچھ لکھ دیا،جسے لکھنا آسان نہ تھاـ
اس ناول کو شنا سوبتی کی سوانح عمری بھی کہا جا سکتا ہے؛ کیونکہ کرشنا نے یہاں اپنی ذاتی زندگی سے بھی بہت کچھ استفادہ کیا ہے،تقسیم کے دوران اپنی جاے پیدائش گجرات اور لاہور کو چھوڑتے ہوئے کرشنا سوبتی کہتی ہیں’یاد رکھنا، ہم یہاں رہ گئے ہیں’ یہ یاد رکھنا ہی درد کی سوغات کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے، ایک گجرات وہ پاکستان میں چھوڑ آئی ہیں، ایک گجرات آگ کی لپٹوں کے ساتھ ہندوستان میں آباد ہےـ کرشنا جب دہلی پہنچتی ہیں، تو ہندوستان کا گجرات انہیں آواز دیتا ہے اور وہ پاکستان کے گجرات کو اپنے یادوں کے سرمایے میں بھر لیتی ہیں ـ ناول کے ابتدائی حصے میں کرشنا سوبتی لکھتی ہیں’پلٹ کر ایک بار پھر ڈبڈبائی آنکھوں سے ، ایک بار پھر اپنے کمرے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا’ بہتی ہواؤ، یاد رکھنا ہم یہاں پر رہ چکے ہیں: ہندوستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
یہ آوازیں کیوں لاپتہ ہیں؟ آواز کانوں میں پگھل رہی ہے، آگے دیکھو،اس خواب کا پیچھا چھوڑ دو، جو پرائے ملک میں غائب ہوگیا ہے’ـ ( ناول سے )
کرشنا سوبتی 18 فروری انیس سو پچیس کو پیدا ہوئیں، ساہتیہ اکادمی اور گیان پیٹھ جیسے انعامات سے بھی نوازا گیا،زندگی نامہ ، دل و دانش ، اندھیرے کے سورج مکھی ان کے مشہور ناول ہیں، ہم حشمت،یادوں اور خاکوں کا حسین سنگم ہے،اس کے تینوں حصّے لاجواب ہیں، ڈار سے بچھڑے ، مترو مرجانی ، یاروں کے یار ان کی طویل کہانیاں ہیں،انہوں نے بہت کچھ لکھا، آخری سانس تک وہ ادب کے لیے وقف تھیں،چورانوے برس کی عمر میں انہوں نے دنیا کو الوداع کہہ دیا، ان کے خوابوں کا گجرات قتل ہو چکا تھا،یہ گجرات مختلف علاقوں اور قصبوں میں پیدا ہو رہا تھا،یہ گجرات اب عالمی نقشے پر بھی آباد تھا،اس لہو لہان گجرات کو دیکھنے کے لیے وہ زندہ کیسے رہتیں،صحافی اور ادیب کو ایسٹبلشمنٹ کے خلاف ہونا چاہیے،ان کایہ پیغام ان کی موت کے بعد ہمیں کوئی راستہ دکھائے گا ،اس کی امید کم لگتی ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں