195

کرسمس: اسلامی نقطۂ نگاہ

ام ہشام
عیسائی عقیدے کے مطابق 25؍ دسمبر عیسیٰ مسیح کا یوم ولادت ہے،جبکہ تاریخی اور واقعاتی شہادتیں اس کے خلاف ہیں کہ 25 ؍دسمبر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے،واقعاتی شہادتوں اور قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش موسم بہار میں ہوئی یا پھر بارش کے اوائل میں،چونکہ یہ تہوار پہلے رومن حکومت کے باشندے منایا کرتے تھے، پھر اسے فارس کے عیسائی منانے لگے اور اب تو پوری عیسائی دنیا نے اسے گلے لگا رکھا ہے،25 ؍دسمبرکو منایا جانے والا کرسمس بذات خود غیر مصدقہ تاریخی روایات اور مجہول عقائد کا وضع کردہ ہے،کرسمس منانے کی روایتیں مکمل خودساختہ اور عیسائیوں کے من گھڑت عقیدے پر مبنی ہیں۔آج کرسمس مذہبی نظریہ سے ہٹ کر عیسائیت کے ایک سماجی کلچر کا رخ اختیار کر چکا ہے، حالات یہ ہیں کہ پوری دنیا میں تقریباً 2 کھرب عیسائی وغیر عیسائیوں کے ذریعے منایا جانے والا یہ واحد قومی و سماجی تہوار بن چکا ہے۔
کرسمس کو کئی اور ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا ہے: Neol,Nativity,Xmas,Yule۔اسے منانے کے لئے بڑے وسیع پیمانے پر انتظامات کئے جاتے ہیں،عوامی تعطیلات ہوتی ہیں ،ان تعطیلات کی میعاد ہفتہ ،دس دن یا اس سے زائد بھی ہوتی ہے،چراغاں کیا جاتا ہے، عیسائی وغیر عیسائی باہم مختلف قسم کے پھل، پھول،کیک، مٹھائیاں اورتحائف تقسیم کرتے ہیں۔ چرچ میں جاکر دعا و عبادت کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، آپس میں شراب پلائی جاتی ہے اور غریبوں میں صدقات بانٹے جاتے ہیں،جبکہ کرسمس پر عیسائی مصلحین کا نظریہ کچھ الگ ہے،پروٹسٹنٹ، قدیم عیسائی نظریات کے حامل عیسائی پیروکار، اہل علم اور آرتھوڈوکس یا قدامت پسند 25؍دسمبر کو کرسمس کے منائے جانے پر شدید معترض ہیں،ان کا ماننا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی صحیح اور متعین تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہے؛ اس لیے اتنی دھوم دھام سے ایک جھوٹی تاریخ کا جشن منانا عبث ہے،کرسمس کے رنگ برنگے انداز، بدلتے رجحانات اور کرسمس کی روزافزوں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ خود بھی تشویش کا شکار ہیں، اس سلسلے میں ان کا ماننا ہے کہ کرسمس جیسے مذہبی تہوار کو ’’کمرشیلائزڈ‘‘کردیا گیا ہے۔مصلحین عیسائیت کا یہ بھی ماننا ہے کہ روز مرہ زندگی کے معاملات میں بے ترتیبی اورعائلی، خانگی، سماجی اور معاشرتی ذمے داریوں کی ادائیگی سے رو گردانی اور پھر اس کے کفارے کے طور پر ایک خاص دن متعین کرکے اس میں سارے فرائض سے عہدہ بر ہوجانے کا عقیدہ کسی بھی زاویے سے عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔لوگوں کا کرسمس کے تئیں یہ لگاؤ، دلچسپی، سرمایہ کاروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اپنے سال بھر کے خسارے کو پرافٹ میں بدلنے کی یہ ایک کارگر راہ ہے؛ کیونکہ سال بھر جتنی کمائی محض کرسمس کے ایک دن میں ہوجاتی ہے؛ اس لیے یہ تہوار مادی مفادات سے بھی جڑا ہے۔
ایک عیسائی مفکر اور صحافی ’’Scott Ashly‘‘ اپنی میگزین ’’Beyond‘‘میں لکھتا ہے:
’’اگر لوگوں کو کرسمس منانا ہے ،تو پھر ایک ہی دن کیوں؟سال کا ہر دن عیسیٰ کی قربانیوں اور ان کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے گزارنا چاہیے،یہی اصل خوشی ہے۔ ایک دن متعین کرنا کسی بھی رخ سے صحیح نہیں؛ کیونکہ عیسائیت دنیا کا وہ مذہب ہے ،جو ابھی بھی مکمل طور سے اپنے ماننے والوں پر آشکار نہیں ہوا ہے‘‘۔
اسلامی نقطۂ نگاہ:
اس موقع پرکرسمس کے حوالے سے ہم اسلام کی تعلیمات بھی دیکھتے چلیں،کوئی بھی تہوار یا عید اس امت کی شریعت اور اس کے مناسک کا حصہ ہوتی ہے؛ لہٰذا کسی قوم کی عیدوں پر موافقت ظاہر کرنا، اس کے باقی شعائر پر رضا مند ہونے جیسا ہے،عیسائی اس دن عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی یاد تازہ کرتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ہمارے لیے ایک نبی کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ عیسائی انہیں رب بھی مانتے ہیں،عقیدۂ تثلیث کی حامل ایک ایسی قوم، جو اپنے نبی کو اپنے الٰہ کا بیٹا تصور کرتی ہو اور پوری دنیا میں گھوم گھوم کر اس نا قابلِ فہم اور ناقابلِ قبول شرکیہ عقیدے کو پھیلاتی ہو اور اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زورلگاتی ہو، بھلا توحید سے متصادم انبیا کی توہین پر مبنی اس عقیدے اور اس سے جڑی عیدکی اسلام میں کیا حیثیت ہوگی؟
اللہ فرماتا ہے:
’’اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو‘‘۔
آیت کا حکم واضح ہے کہ ”اللہ کے دشمنوں سے دوستی بہتر نہیں ہے‘‘۔
اس سے بڑی دشمنی، کا معاملہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے لئے اولاد گھڑ لیا جائے؟ (الکہف:۴۔۵)
قرآن کریم میں اس مفہوم کی کئی آیات موجود ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا لینے والا عقیدہ خالص دشنام طرازی، اللہ کی شان میں گستاخی اور ایک سچے نبی کی توہین ہے،اللہ نے اس عقیدے کے حاملین کو اپنی مقدس کتاب میں ’’ضالین‘‘ کا خطاب دیا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے،تو لوگوں کے دو تہوار تھے ،جن میں وہ کھیل تماشہ کیا کرتے تھے آپ نے فرمایا ان دونوں کی کیا حقیقت ہے؟ انہوں نے عرض کیا ان دو مواقع پر جاہلیت میں ہم کھیل تماشہ کر لیتے تھے۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ نے ان دونوں کو بدل کر تمہیں ان سے بہتر تہوار دیے ہیں عید الاضحی اور عید الفطر۔(ابو داؤد: کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺکو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ جاہلیت میں منائی جانے والی کوئی خوشی یا اس کی ہلکی سی رمق بھی مسلمانوں کو مسرور کرے؛اسی لییاللہ کے رسول ﷺنے جاہلیت کے تہواروں کے بدلے مسلمانوں کو عیدین کا تحفہ دیا۔ اور ان کی متابعت کرنے سے منع فرمایا؛کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ امت میں غیروں کی تقلید کا دروازہ اگر ذرا سا بھی کھلا رہ گیا، تو پھر نہ جانے کتنے فتنوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ جیسا کہ آج ہمارے سامنے حالات ہیں، سنتِ نبوی سے انحراف نے ہمارے سامنے کئی طرح کے مصائب لا دیے ہیں؛اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ہر جگہ ،ہر موقعے پر مسلمانوں کو’’مشرکین کی مخالفت‘‘کی ترغیب دی۔
صحابہ کا طرز عمل:
قومی عید اور تہوار کسی بھی انسان کے لیے باعثِ مسرت و اطمینان ہوتے ہیں،لوگ پورے سال اس ایک دن کے انتظار میں گزاردیتے ہیں ،یہ بات آسان نہیں ہوتی کہ محض ایک انسان کے کہنے پر آپ اپنی اتنی بڑی خوشی ترک کردیں؛ لیکن خطۂ عرب میں ایک ایسی قوم گذری، جس نے صدیوں سے چلی آرہی روایات کے تمام بندھنوں کو محض اپنے رسول کے کہنے پر توڑ دیا۔ صحابۂ کرام نے اپنے رسول اکرم محمد ﷺ کے اس فرمان کا نہایت شاندار استقبال کیا۔
کرسمس کے تعلق سے بھی اگر ہم دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ، جو کہ اہل کتاب ہیں اور ان کا ذکر قرآن میں متعدد جگہ پر ہے اور ان کی سماجی، معاشرتی اور مذہبی زندگی اسی طرح ان کی تہذیب اسلام سے قبل ہی ایک تاریخی حیثیت رکھتی تھی، ان کا تہوار کوئی نئی بات نہیں ہے ،یہ صحابہ کے دور میں بھی موجود تھا، پھر بھی صحابۂ کرام نے اس معاملے میں ہمارے سامنے اعتدال کا جو بہترین نمونہ پیش کیا ہے، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی،ایک طرف صحابہ اسلامی حکومت کے ذمیوں(اسلامی حکومت میں رہنے والے غیر مسلم)سے حسن سلوک فرماتے تھے ،تو دوسری طرف ان کی عیدوں سے ان کے میلوں ٹھیلوں سے مکمل پرہیز تھا۔
اس سلسلے میں حضرت عمر کا ایک رویہ ہمارے سامنے ہے کہ انھوں نے صحابہ کو منع کیا اس بات سے کہ وہ عجمیوں کے لہجے اور اسلوب سیکھیں اور ان کی عیدوں پر ان کے عبادت خانوں میں جانے سے منع فرمایا اور کہا کہ اس روز اللہ کی ناراضگی اور اس کا غضب ان پر ناز ل ہوتا ہے‘‘۔( السنن الکبریٰ للبیہقی، باب کراہیۃ الدخول علی اہل الذمۃ فی کنا ئسہم:۶۰۸۶۲)
ایک اورجگہ پر امام بیہقی امام بخاری کی روایت لاتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہواروں کے دن پرہیز کرو‘‘۔
اس سلسلے میں مزید آثارِ سلف بھی اس بات کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کفار و مشرکین کی عیدوں پر ان کو مبارکباد پیش کرنا،شامل ہونا یا خوش ہونا عقیدے کی خرابی اور دین کے بگاڑ کا سبب ہے۔ جیسے ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’احکام اھل الذمۃ‘‘ میں اہل کتاب کی عیدوں پر تہنیت پیش کرنے کی حرمت میں فقہاکا اتفاق اور اس فعل پر فقہا کی شدید نکیر کو بیان کیا ہے۔(ج:۱ص:۱۴۴۔۲۴۴)
امام ابن القاسم جو امام مالک کے شاگرد ہیں ،انھو ں نے بھی اس مسئلے میں تمام فقہاکو متفق پایا ہے۔
اس سلسلے میں عرب کے کبار علما کا کرسمس منائے جانے پر متفقہ طور پر ایک ہی فتویٰ ہے اور وہ حرمت کا ہے۔ شیخ عبد اللہ بن باز، محمد بن عثیمین، عبد اللہ بن جبرین، مفتی محمد ابراہیم، سفر الحوالی، ابراہیم بن محمد الحقیل، ناصر بن سلیمان العمر رحمہم اللہ۔ ان تمام شیوخ نے قرآن و سنت کی روشنی میں جو فتویٰ دیا، وہ کرسمس میں کسی بھی خوشی کے منائے جانے پر نکیر کرتا ہے۔ نیز مذاہبِ اربعہ کے نزدیک بھی ایسی عیدیں کفر و الحاد پر مشتمل ہیں؛ لہٰذا یہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔
کرسمس اور کچھ مغالطے:
کچھ مسلمان اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) سے رواداری، بھائی چارگی نبھانے کے نام پر کرسمس کے موقع پر انھیں مبارکباد دیتے ہیں اور’’میری کرسمس‘‘ یا ’’ہیپی کرسمس‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں؛ لیکن یہ
’’کبرت کلمۃ تخرج من أفواہہم‘‘کے مصداق ہیں۔ بعض لبرل قسم کے اہل علم عوام الناس کو اس قسم کی غلط فہمیوں میں ڈالتے ہیں کہ ہم عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہیں؛ بلکہ خدا کا بندہ اور رسول سمجھ کر محض اپنے عیسائی بھائیوں کی تالیف قلب کے لیے انھیں ذرا سی مبارکباددیتے ہیں، مزید یہ کہ دلیل بھی فراہم کرتے ہیں سورۃ النساء کی آیت: ۶۸ سے:
’’اور جب تمہیں سلام کیا جائے ،تو اس سے اچھا جواب دویا انہی الفاظ کو لوٹا دو، بے شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے‘‘۔
جبکہ آیت کے اصل مفہوم پر غور کیا جائے، تو پتہ چلے گا کہ مذکورہ آیت میں تحیات (سلام) کو لوٹانے کا حکم مشروط ہے اور آیت مبارکہ کہیں بھی یہ نہیں بتلاتی کہ سلام کرنے میں پہل کی جائے ،پھر اللہ کے رسول ﷺ نے بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ اہلِ ذمہ، یہود و نصاریٰ کو سلام کرنا ہو،تو ایک تو ان سے پہل نہ کی جائے ،دوسرے اس میں اضافہ نہ کیا جائے؛ بلکہ صرف ’’وعلیکم‘‘ کہا جائے۔(بخاری: کتاب الاستئذان)
لہٰذاقرآن و سنت دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تالیفِ قلب کا مقصد اوراس کی حدیں شریعت میں محدود ہیں، تالیفِ قلب کتاب و سنت کے خطوط پر ہی ممکن ہے، جس کا مقصد اہلِ کتاب کوا سلام کی طرف راغب کرنا ہو ،نہ کہ ان کے رنگ میں رنگ جانا ہو۔یہ رنگ خواہ ان کے ساتھ خوشی منانا ہو، مبارکباد پیش کرنا ہو یا اپنی جانب سے مالی تعاون پیش کرنا ہو،حرام ہیں۔
کرسمس اور مسلمان:
ہم سبھی یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ اسلام نے ہر ہر موڑ پر اپنے متبعین کے دین و ایمان کی حفاظت کی ہے اور ان کے سامنے لا الہ الا اللہ اور اللہ الصمد کا لازوال تصور پیش کیا ہے۔جس کے بعد مسلمانوں کو کسی دوسری شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔ اس دین فطرت نے انسان کی مذہبی،سماجی،انسانی سبھی طبعی ضرورتوں کو مکمل کردیا، جبکہ اس کے برعکس اہل کتاب جو کہ منکرِ خدا، منکر رسالتِ نبوی ﷺ ہیں اور اللہ اور اس کے رسول نے انھیں ہر جگہ اپنا دشمن قرار دیاہے، مسلمانوں کا ایسی قوم کی نقالی کرنا ان کی ظاہری چکاچوند سے مرعوب ہو کر ان کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا کس صورتحال کی طرف اشارہ کررہا ہے؟یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح آج ہم نے دیگر معاملات میں صراطِ مستقیم کا راستہ چھوڑدیا ہے ،اسی طرح یہاں بھی ہم اس نئی دلدل میں جاپھنسے ہیں، روشن خیال مسلمان ایک بار غور کریں کہ اپنی پنج وقتہ نمازوں میں ہم جن پر ’’ضالین‘‘ اور ’’مغضوبین‘‘ کی لعنتیں بھیجتے ہیں ،اپنے ہر نئے دن کے آغاز پر ہمارے بچے انہی کے اسکولز، کالجز میں مسیح کی مورتی کے آگے Pray کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، آخر کیوں؟
یہی نہیں؛ بلکہ عیسائی مشنری کے ایسے تعلیمی ادارے باقاعدہ سرپرستوں سے ایک رقم کرسمس سیلبریشن کے نام پر وصول کرتے ہیں، ایسے کانوینٹ ،تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کی کثرت ہے،یہ ہمارے وہی بھائی ہیں، جن پر جمعہ کو مسجد کا چندہ گراں اور کرسمس پارٹی کاContribution بخوشی آسان گزرتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جب باطل کے آگے گھٹنے ٹیک دیے جائیں، تو پھر باطل حق کو اپنے اندر ضم کرلیتا ہے، جیسا کہ آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے، مسلمانوں کی گاڑھی کمائی کے بدلے اسکولس بچوں کو Santa Clause(فرضی بزرگ نما انسان) کے ہاتھوں ان کے منہ مانگے تحائف عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے پیش کرتا ہے اور بچے بڑے جوش و خروش سے سال بھر اس کا انتظا رکرتے ہیں، کیا کبھی سر پرستوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ہماری نسل کو ان کے تعلیمی ادارے ان خوبصورت، جاذبِ نظر گفٹ کے پیکٹس میں کیا دے رہے ہیں؟ ہمارے بچوں کو ان تحائف کے ذریعے عیسیٰ علیہ السلام کے مالک و مختار اور رازق ہونے پر یقین کی دعوت دی جارہی ہے، بچوں کے اندر موجود جذبۂ توحید اور ان کے دین و ایمان کو آہستہ آہستہ ٹھنڈی موت دی جارہی ہے اور یہ سلو پوائزن اپنا کام بخوبی نبھا رہا ہے۔ نتیجہ ہمانتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج ایک عیسائی اور مسلمان بچے میں بظاہر کوئی تمیز نہیں کی جا سکتی؛ کیونکہ ہمارے بچے اپنی مذہبی Dignityگنواچکے ہیں،کرسمس کی مخلوطParties میں شرکت، مردوزن کا اختلاط،شراب کے دَورتو اخلاقی زاویے سے بھی محفوظ نہیں ہیں، پھر بھی ہمارے نوجوانوں کو یہ دعوتیں لبھاتی ہیں، مسلمانوں کی جانب سے اہلِ کتاب سے اس قدر میل جول دراصل تعلیما تِ اسلامی سے دوری اور روشن خیالیوں کے جہل اور سرکشی کا نتیجہ ہے۔
کرسمس منائے جانے کے تعلق سے باطل تاویلیں ،نت نئے اندازجو اس وقت رائج ہیں، ان کی کوئی اصل اور ثبوت اسلام میں نہیں ہے۔تقریباً چودہ سوسال پہلے سے یہ تخریبی کام کیا جارہا ہے اور ہم آج ہوش میں آئے ہیں ،جب صلیبی چنگاریوں نے ہمارے گھر اور محلوں کو جلا کر خاک کرنے کی کوشش کی ہے،ہماری نسل سے ان کا سرمایۂتوحید چھین کر انہیں اپنی جھوٹی اور مکار تہذیب عطیہ کردی گئی ہے۔ بلاشبہ اللہ کا یہ قول صادق اترا:
’’اورآپ سے یہود ونصاریٰ ہر گز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آجانے کے،پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ مددگار‘‘۔(البقرۃ:۱۲۰)
ہر مسلمان یہ سمجھ لے کہ کرسمس کلی طور پر ایک غیر اسلامی مشرکانہ تہوار ہے، جو صریحاً اللہ کی ذات اقدس کو چیلنج ہے؛ اسی لیے ضروری ہے کہ اس سماجی وبا کو ہم اپنے پیاروں سے دور رکھیں؛ تاکہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی جا سکے۔ اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاکر اس سیلاب کو روکنے کی ہر ممکن کوشش امت کے ہر فر د پر لاگو ہوتی ہے؛ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے عقیدے کو طریقۂ رسول اور منہجِ صحابہ سے مربوط کریں؛ کیونکہ ہماری مکمل کامیابی عقیدہ کی مضبوطی پر منحصر ہے۔
اپنے ہادیِ اعظم محمد ﷺ کے کسی بھی طریقۂ کار کو ہر گز نہ بھولیں ،جو انہوں نے اس مکار اور عیار قوم سے مدافعت کے لیے اپنے اصحاب کو سکھائے تھے،اس بات کوعاشورہ کے روزے سے ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ صومِ عاشورہ اُس وقت کے یہودیوں کے لیے عید کا دن تھا اور عیدہر قوم کے لییاس کا شعار اور مذہب ہوتی ہے ،پھر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اصحاب کو ان کی مخالفت میں دو روزے رکھوائے، جبکہ عاشورہ کا دن ان کے لیے شرعی حیثیت رکھتا تھا، پھر بھی اس قدر اجتناب! یہ اجتناب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ نبی ﷺ ہمیں کیا دینا چاہتے ہیں اور جس رب کی بندگی اور جس کی عبودیت کا ہم دم بھرتے ہیں وہ ہم سے کس بات کا تقاضا کرتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں