161

کتاب شناسی کا فن

مفتی محمد یاسر عبداللہ
حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ ’’فراغتے وکتابے وگوشۂ چمنے‘‘ہر اس شخص کے حافظے کا جز ہے ،جس کا کتابوں سے تعلق ہے، مشہورعربی شاعر متنبی کے شعر کا مصرعہ ہے’’وخیر جلیس فی الزمان کتاب‘‘ یعنی زمانے میں سب سے بہتر ہم نشیں کتاب ہے۔ قلم اور کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ قرآن مجید میں قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے:’’ن والقلم ومایسطرون‘‘آخری پیغمبرﷺ پر سب سے پہلی وحی جو آسمان سے نازل ہوئی ،اس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا، گویا یہ امت،امتِ اقرأ ہے اور کتاب اور قلم سے اس کا رشتہ ناقابلِ انفکاک ہے، اسے ہر زمانے میں علم کی خردافروزی، فکر کی تازہ کاری اور عالمِ ایجاد کی تحیرسامانیوں میں دوسروں کا امام اور پیشوا اور سب سے ممتاز اور فائق تر ہونا چاہیے ، اسے ’’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘‘ سے لاگ اور لگاؤ ہونا چاہیے ، صریرِ خامہ کو اس کے لیے نواے سروش ہونا چاہیے اور کتاب خانہ کو اس کے لیے دولت خانہ بننا چاہیے ، اس کی نظر میں ’’چیک بُک‘‘ سے زیادہ ’’بُک‘‘ کی اہمیت ہونی چاہیے ، ایک صاحبِ قلم کی عزت اس کے نزدیک صاحبِ جبروت بادشاہوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے ، بساطِ ورق اور بساطِ قلم کے مقابلے میں مسندِ عیش وتجمل کو ہیچ ہونا چاہیے ، ایک شہنشاہِ قلم کی عزت اورنگ نشیں صاحبِ کَروفر سلطان سے زیادہ ہونی چاہیے ؛ لیکن واے حسرت ونامرادی کہ مسلمان اب علم سے دور اور تعلیم سے نفور ہیں۔ اب وہ علم میں دوسروں سے کوسوں پیچھے ہیں اور گردِ کارواں بھی نہیں ہیں،جبکہ دوسروں کے علم کا کارواں منزل بہ کنار ہے، یارانِ تیزگام نے محمل کو جالیا ہے اور ہم ابھی تک محوِ نالہ ہیں۔ امتِ مسلمہ میں علمی تنزل کا یہ مرثیہ ہندوستان کے نام ور صاحب قلم پروفیسر محسن عثمانی کے گہربار قلم سے ہے۔
یہ تحریر ایسے کتاب دوستوں سے مخاطب ہے، جنہیں کتاب شناسی کے آزمودہ اصولوں سے آشنا کرنا مقصود ہے، جو تجربے کی بھٹی میں تپتے ہوئے یا کتابوں کی سیر کے دوران ہاتھ آئے ہیں۔
(۱) پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں:’’مطالعے کے لیے صحیح کتابوں کا انتخاب ضروری ہے، کتابیں سمندر کی مانند ہیں، ضرورت اور ذوق کے مطابق کتابوں کا انتخاب کرنا چاہیے، اس میں کسی صاحبِ علم اور صاحبِ ذوق کی رہنمائی بھی اشد ضروری ہے، دل کے بارے میں جگر مرادآبادی کا شعر ہے:
کامل رہبر ،قاتل رہزن
دل سا دوست ،نہ دل سا دشمن
جگر مراد آبادی نے دل کے بارے میں جو بات کہی ہے، وہ کتاب پر اس سے زیادہ صادق آتی ہے۔کتابیں انسان کو ساحلِ ہدایت تک پہنچاتی ہیں، کتابیں انسان کو گمراہی کے بھنور میں ڈبوتی بھی ہیں، کتابیں انسان کو گم کردہ راہ بھی بناتی ہیں، وہ کامل رہبر بھی ہیں اور قاتل رہزن بھی ہیں‘‘۔
(۲)ہر علم وفن میں کچھ کتابیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں حوالہ جاتی کتب (Reference books) کہا جاتا ہے، یہی کتابیں فن کے طالب علم کی اولین ضرورت ہوتی ہیں؛اس لیے پہلے مرحلے میں ایسی کتب کے حصول کی تگ ودو کرنی چاہیے۔
(۳)کتاب کی خریداری سے قبل اہل علم اور ماہرین فن سے مشورہ کیجیے اور کتاب کے عمدہ ایڈیشن کے متعلق آگاہی حاصل کیجیے، ایک اچھا محقق کتاب کے حسن کو چار چاند لگادیتا ہے ،جبکہ خود غرض ناشر اسے ماند کردیتا ہے، تاجرانہ ذہن نے بہتیری کتابوں کے بخیے ادھیڑ کر انہیں مصنف کی مراد سے کوسوں دور پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، ایسے ایڈیشن کے مطالعے سے مصنف کے فکر تک پہنچنا دشوار ہے؛ اس لیے کتاب کے کئی ایڈیشن ہوں، تو تقابلی جائزہ لیجیے اور ایسے ایڈیشن خریدیے ،جو اہل علم کے ہاں معتبر ہوں اور جن کا حوالہ دیا جاتا ہو۔
(۴) ایسے مصنفین کی کتابیں قابل ترجیح ہواکرتی ہیں ،جو تحقیقی مزاج کے حامل ہوں، فن پر دسترس رکھتے ہوں، صاحب مطالعہ ہوں اور قلم پر مضبوط گرفت بھی رکھتے ہوں،قلم کو ’’احد اللسانین‘‘(اظہار کا دوسرا ذریعہ) کہا گیا ہے، کتاب مصنف کی فکر کی عکاس ہوا کرتی ہے؛اس لیے معتمد وممتاز مصنفین کو پڑھیے۔
(۵) خریدنے سے پہلے کتاب کی ورق گردانی کرلیجیے؛ تاکہ کتاب کے عیوب سامنے آجائیں، ممکن ہے کہیں بیاض رہ گئی ہو یا کوئی حصہ چھُوٹا ہوا ہو، جلد سالم نہ ہو، دیگر اشیاے ضرورت کی طرح کتاب کی خریداری بھی عمدہ ذوق اور مہارت چاہتی ہے۔
(۶)کتاب پر کسی صاحبِ فن کاتبصرہ (Book review)ہو ،تو اسے پڑھ ڈالیے۔ مقدمہ، پیش لفظ، عرضِ مؤلف وغیرہ دیکھیے، فہرست پر نگاہ ڈالیے، خاتمے سے نتائجِ فکر کا جائزہ لیجیے اور اہل فن سے اس کے مقام ومرتبے کو جانیے۔ بہت سی کتابیں فن کی دسیوں کتب سے مستغنی کردیتی ہیں، آج کل کی نئی کتابوں میں عموماً نئی معلومات کم ہوتی ہیں، اکثر وبیشتر معلومات کا تکرار ہوتا ہے، تاہم بعض کتابیں اس تکرار کے باوجود خوب صورت اسلوب ،ترتیب کی عمدگی یا دیگر اضافی خصوصیات کی بنا پر خریداری کے لائق ہوتی ہیں۔
(۷) ایسے اشاعتی اداروں کی کتابیں خریدنے سے احتیاط برتیے، جو بدمعاملگی یا علمی سرقے میں معروف ہوں، البتہ بعض اوقات ایسے اداروں کے ہاں بھی عمدہ ایڈیشن دستیاب ہوجاتے ہیں۔
(۸) کتابی نمائشوں؍میلوں سے فائدہ اٹھائیے، ان میں دسیوں ممتاز ادارے یکجا ہوجاتے ہیں، جن کتابوں کے لیے سفر کی ضرورت بھی پیش آسکتی تھی، وہ ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوتی ہیں، ایسے میں اچھی کتابیں سستے داموں بھی مل جاتی ہیں، البتہ یہ پہلو ذہن میں رکھیے کہ بعض نمائشوں میں اداروں کو جگہ کے کرایے اوردیگر اخراجات کی بنا پر مجبوراً قیمتیں زیادہ کرنا پڑتی ہیں، ایسے ادارے اگر شہر میں ہی ہوں اور کوئی فوری ضرورت بھی درپیش نہ ہو، تو نمائش کی بجاے ادارے سے کتاب کے حصول کو ترجیح دیجیے، جبکہ وہاں مناسب قیمت میں کتاب ملنے کا امکان ہو۔
(۹) نمائشوں میں بھی اپنی ضرورت کو دیکھیے، رواروی اور دیکھا دیکھی میں کتاب نہ خریدیے؛ بلکہ چھان پھٹک سے کام لے کر ہی انتخاب کیجیے۔
(۰۱) کتابوں پر صرف کی گئی رقم کو بیکار خیال نہ کیجیے،مفید علمی کتابوں پر لگایا گیا مال ’’ہم خرما وہم ثواب‘‘ کا مصداق ہوتا ہے، قیمتوں میں کمی ضرور کرائیے؛ لیکن :
جمادے چند دادم ،جاں خریدم
بحمد اللہ عجب ارزاں خریدم
(چند روپوں کے عوض عزیز از جاں شے حاصل کرلی ہے، شکر ہے کہ یہ سود ا ارزاں ہے، گھاٹے کا نہیں) پیشِ نگاہ رکھیے۔
تلک عشرۃ کاملۃ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں