304

کتاب اور کتب خانے:تاریخ اور اہمیت و افادیت

ڈاکٹر ظہیر احمد بابر
کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں کم نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ یہی ہمارا سہارا اور دوست ہوتی ہیں۔ہر شخص قائل ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے ؛لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا ،البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ،وہ اس کے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنے کی شکایت عام ہے، تعلیم یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد لاپروائی، کسل مندی اور بے توجہی کے باعث مطالعہ نہیں کرتی، بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں، تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں، ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی؛ اس لیے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر پاتے اور حاصلِ مطالعہ لکھنے کی توفیق تو بڑے نصیب والوں کو ہوتی ہے۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کریں ؟ایسی کون سی چیز ان میں پوشیدہ ہوتی ہے، جو بنا مطالعہ ہمیں مل نہیں سکتی،اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کی تعریف:
آج کے دور میں لفظِ ’’کتاب‘‘ کی مختلف تعریفیں کی جاتی ہیں:
۱۔ اوراق کا مجموعہ، جس کو مجلد شکل میں رکھا جائے۔
۲۔ لکھے ہوئے اور چھپے ہوئے صفحات کو یکجا کر کے پشت سے سی دیا گیا ہو۔
۳۔ ایک ایسی تصنیف ،جو ہاتھ سے تحریر کی گئی ہو یا چھاپی گئی ہو اور وہ ایک یا ایک سے زائد جلدوں پر مشتمل ہو۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کتاب سے مراد ایک ایسا مطبوعہ مقالہ ہے، جو متعدد صفحات پر مشتمل ہو اور جسے تہہ کرکے ایک طرف سے سجا دیا گیا ہو۔
کتاب کی تاریخ و ارتقا:
انسانی تہذیب کے ارتقاکی داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اس وقت بھی، جب انسان کا ذہن کاغذ اور تحریر کے تصور سے ناآشنا تھا، وہ ریت اور پتھر کی چٹانوں پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ کر اپنا مافی الضمیر دوسروں تک پہنچانا جانتا تھا، بعد ازاں وہ اپنے خیالات، نظریات اور کارناموں کو مٹی کی الواح اور پیپائرس پر منتقل کرنے لگا۔ تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا، وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی، اس طرح پہلے انفرادی یا ذاتی اور بعد میں عوامی کتب خانے وجود میں آئے۔
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی ابتدا اس وقت ہی ہو چکی تھی، جب خالق کائنات نے حضرت آدم ؑ کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر زمین پر اتارا، باری تعالیٰ نے اس وقت اپنے نائب کو ان تمام علوم سے نواز دیا تھا، جن سے فرشتے بھی پوری طرح آگاہ نہیں تھے۔کتاب کی ابتدا کی تاریخ جو ہم تک پہنچتی ہے ،اس کی ابتدا ہمیں دو مشہور اقوام کی تہذیبوں کے مطالعے سے ملتی ہے: وادیِ دجلہ و فرات سے برآمد ہونے والی مٹی کی الواح نما کتابیں اور وادیِ نیل کی تہذیبِ مصر سے برآمد ہونے والی پیپائرس یعنی درخت کی چھال سے تیار کیے ہوئے کاغذ پر تحریری مواد، یہ دو قدیم تہذیبوں کے ابتدائی زمانے کی تحریریں کتاب کہی جا سکتی ہیں۔
کتاب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے طالب علم وادیِ دجلہ و فرات اور وادیِ نیل سے برآمد ہونے والی ان تحریروں کو جدید دور کی کتابوں کی ابتدائی شکل کہہ سکتے ہیں۔موہنجوداڑو (سندھ) ہڑپہ (پنجاب) اور مہر گڑھ (بلوچستان) سے کھدائی کے بعد جو کھنڈرات تہذیب جدید کے افق پر نمودار ہوئے، وہاں سے برآمد ہونے والی پتھر کی چھوٹی چھوٹی تختیوں پر تصاویر اور تصویری خاکے دیکھ کر کتاب کے ابتدائی مراحل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نینوا (عراق) کے بادشاہ آشور بنی پال کے محل سے کھدائی کے بعد جو ہزاروں الواح برآمد ہوئیں، ان سے اس بات کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے۔ اصل میں تحریر کے بعد ان مٹی کی تختیوں کو دھوپ میں خشک کر لیا جاتا تھا اور پھر ان کو حفاظت سے تندور میں پکا کر پختہ کر لیا جاتا تھا۔ ان الواح پر باقاعدہ نمبر درج ہوتے تھے ؛تاکہ ان کی بروقت شناخت کی جا سکے۔
اہلِ یونان سقراط اور سقراط سے پہلے کے علما کے علوم و نظریات کو زیادہ دیر تک اپنے سینوں میں محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے، وہ کوئی ایسا ذریعہ تلاش کر رہے تھے، جس میں اس بیش قیمت خزانے کو منتقل کر کے حفاظت سے رکھ سکیں اور وہ ذریعہ کتابیں اور کتب خانے ہی ہو سکتے ہیں؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یونان کے کلاسیکی عہد میں صرف یونان میں 11 ؍سو سے زائد مصنفین موجود تھے، جن کی اپنی تحریروں سے شاندار کتب خانوں کا وجود میں آنا بعید از قیاس نہیں۔ یونان کے قدیم کتب خانوں میں سے جس کتب خانے کے وجود کو دلائل کی روشنی میں اور تاریخی شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے، وہ ارسطو کا کتب خانہ ہے،ارسطوکا کتب خانہ سیکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا، ارسطو کا کتب خانوں کی ترقی میں سب سے بڑا حصہ سکندر اعظم کو علم و ادب کی طرف پھیر دینا ہے، بطلیموس نے سکندریہ میں بہت بڑا کتب خانہ قائم کیا، یہ شاندار کتب خانہ صدیوں تک علم و حکمت کا مینار رہا، یہ شاندار کتب خانہ رومیوں اور عیسائیوں کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
ہارون الرشید اور اس کا بیٹا مامون الرشید کتب خانوں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں بیت الحکمت کے نام سے ایک عظیم کتب خانہ قائم کیا، جس کا فیض ہلاکو خاں کے حملۂ بغداد (تیرھویں صدی) تک جاری رہا۔ یہ پہلا پبلک کتب خانہ تھا ،جو اعلیٰ پیمانے پر قائم کیا گیا تھا، اس بے نظیر کتب خانے میں عربی، فارسی، سریانی، قبطی اور سنسکرت زبانوں کی 10؍ لاکھ کتابیں تھیں۔
کتاب کیوں اہم ہے؟
کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب کے پاس ان کی اپنی متبرک کتاب موجود ہے، ان کتابوں اور صحیفوں میں اس وقت کی اقوام اور فرقوں کو راہِ راست اور زندگی کے صحیح اصولوں اور ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کی جابجا تلقین کی گئی ہے۔ گویا کہ خدا تعالیٰ نے خود انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے پیغمبروں پر کتابیں نازل فرمائیں اور خدا کے پیغامات کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔ حتیٰ کہ اس نے اپنے پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کے ذریعے آخری پیغام بھی قرآن مجید کے ذریعے ہی ارسال فرمایا۔ قرآن مجید ،جو دنیا کے لیے آفاقی پیغام پر مبنی ہے، اس کی ابتدا ہی لفظ ’’کتاب‘‘ سے ہوتی ہے، یعنی ذلک الکتاب لا ریب فیہ۔ یوں یہ بات قابلِ غور ہے کہ انسانوں کی ہدایت اور پیغام رسانی کا بہترین ذریعہ خدا ے بزرگ و برتر نے کتاب ہی کو ٹھہرایا ہے۔
کتابیں ایک کاغذی پیراہن ہی نہیں لییہوتیں؛ بلکہ ان کا پیغام آفاقی ہوتا ہے۔ کتابیں کسی سوسائٹی کے افراد کی تربیت اور تعلیم میں جو کردار ادا کرتی ہیں، آج کا متمدن معاشرہ اس کی افادیت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، کتابیں فرقہ واریت، علاقائیت اور قومیت جیسے محدود جذبوں سے ہٹ کر معاشرے کو انسان دوستی، بھائی چارہ اور روحانی قدروں کو جلا بخشتی ہیں ،جس سے قاری اور اس کے ارد گرد رہنے والے افراد پوری طرح مستفید ہوتے ہیں۔ کتاب اپنے قاری کو ایک جذباتی پیغام ہی نہیں دیتی ؛بلکہ اس کی شخصیت کو پوری طرح معاشرے کے لیے زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھاتی ہے اور دوسروں کے لیے اس کی شخصیت کو جاذب نظر اور پرکشش بھی بناتی ہے، آج کی ترقی میں کتاب نے جو مفید کردار ادا کیا ہے، اس کی بدولت انسان نے تسخیرِ کائنات کیلیے کمندیں ڈالنی شروع کر دیں۔ آج وہ خلائی دور سے بڑھ کر چاند کی سرزمین پر اپنے قدم جما چکا ہے اور کائنات کے دوسرے سیاروں پر پہنچنے کی کوششوں میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تسخیر کائنات کے لیے چند گام اور بڑھنے کی دیر ہے۔حصول علم کا بنیادی ذریعہ کتاب ہے،کتب خانے کتابوں کا ذخیرہ کہلاتے ہیں،جو اپنے دامن میں عقل و دانش کے صدیوں پرانے جواہرپارے سمیٹے وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ بدلنے والی قوموں اور حالاتِ زمانہ کے حقیقی خدوخال کی امین بن کر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کافریضہ ادا کرتے ہیں۔ دورِ جدید میں عوامی کتب خانے قوم کے عمرانی، اقتصادی، سیاسی، مذہبی، ادبی، سائنسی اور فنی ارتقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ معاش ہو یا معاد، دین ہو یا دنیا سب کا دارومدار علم پر ہے اور علم کے حصول کا اہم ذریعہ کتاب ہے۔ قلم، تحریر اور کتاب نے انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا میں ہمیشہ تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ کتاب اپنے ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے مختلف روپ اور شکلیں دھارتی رہی، مگر اس کا پیغام لوگوں اور قبیلوں تک کسی نہ کسی طرح متواتر پہنچتا رہا۔ اس پیغام کی روشنی میں اہل دانش اور مفکرین نے اپنی قوموں کے لیے گراں قدر کارنامے انجام دیے۔ آج کی ترقی بلاشبہ کتاب کی مرہون منت ہے۔ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے حالات اپنے ایجاد کردہ آلات کی بدولت کہیں سے کہیں پہنچا دیے،جبکہ بیسویں صدی کے اواخر میں انسان نے چاند و سورج پر کمندیں ڈال دیں۔ علم و سائنس کی ترویج و ترقی کے موجودہ دور نے انسان کی ترقی کے گزشتہ تمام ریکارڈز کی بساط الٹ دی ہے، سائنس و تحقیق نے دنیا کی طنابیں سمیٹ کر رکھ دی ہیں، اطلاعاتی سہولتوں کی بدولت تحقیق اور ایجادات ہر سال ،ہر ماہ اور ہر لمحہ کوئی نہ کوئی حیرت انگیز کارنامہ انجام دے کر دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رہی ہیں۔ ان تمام ایجادات و اختراعات کے پس پردہ وہ اطلاعاتی دھماکہ کارفرما ہے، جس میں کتاب نے ایک اہم عنصر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
جہالت اور لاعلمی کو دور کرنے کے لیے کتابوں کو دوست بنانا ہو گا، کتب خانوں سے ناطہ جوڑنا ہو گا۔ عوام کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے ؛کیونکہ باخبر شہری اپنے ملک کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے شہری کے اپنے ملک کے لیے اچھا کردار ادا کرنے میں اچھی کتابیں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، معاشرہ کی تعمیر میں حصہ لینے کے لییجدید سائنسی معلومات اور ٹیکنالوجی، ادب و تاریخ، عمرانیات و اخلاقیات جیسے مضامین کی درس و تدریس کے لیے کتابوں کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ضروری ہے؛ تاکہ اس ملک کے عوام باعزت زندگی گزار سکیں۔
کتب خانوں کی تاریخ:
کتب خانو ں کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے ،جتنی قدیم انسان کی تہذیب ہے۔ تہذیب کے آغاز سے ہی انسان نے ہر دور میں حاصل ہونے والے علم کا ریکارڈ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ کتب خانوں کی تاریخ کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے ،جب انسان کے پاس لکھنے کے لیے کاغذ قلم نہ تھا اور وہ مٹی کی تختیوں، چمڑے اور ہڈیوں پر تحریر کو محفوظ کرتا تھا۔ آج ہم لائبریری کی تاریخ کے اس عہد میں سانس لے رہے ہیں، جہاں بات مائیکروفلم سے بھی آگے جا چکی ہے۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آشور بنی پال، سکندریہ کا کتب خانہ، عیسائی، ایرانی، ساسانی، یونانی، رومی کتب خانے، عربوں کے کتب خانے ،یورپ اور برصغیر کے حکمرانوں کے کتب خانے بہت مشہور ہیں۔
قدیم دور کے کتب خانوں میں آشور بنی پال، کتب خانہ سکندریہ اور کتب خانہ پرگامم قابل ذکر ہیں۔سرزمین عراق کی تہذیب میسو پوٹیمائی کہلاتی ہے۔ وادی میسو پوٹیما کے مختلف شہروں کے کھنڈرات سے اس امر کی کافی شہادتیں ملی ہیں کہ وہاں پر سرکاری، مذہبی اور نجی کتب خانے موجود تھے۔کلدانی میں سارگن بادشاہ نے ایک کتب خانہ قائم کیا، جسے دنیا کا قدیم ترین کتب خانہ قرار دیا جاتا ہے۔ آشوریوں نے 200ق،م سے500ق،م تک شاندار کتب خانے قائم کیے،آشوری عہد کا سب سے اہم کتب خانہ شاہی کتب خانہ تھا ،جسے سارگن دوم نے 705ء میں قائم کیا۔آشور بانی پال نے اپنے داداسارگن دوم کے قائم کردہ کتب خانے کو اپنے دارالخلافہ منتقل کر کے اسے اپنے نام سے موسوم کر دیا۔ آشور بنی پال کے کتب خانے میں 2؍لاکھ 30 ہزار مٹی کی تختیاں تھیں اور اس کتب خانے کو پہلا عوامی کتب خانہ بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کا پہلا منظم کتب خانہ سکندریہ تھا اور اس میں منہ مانگی قیمت پر کتب خرید کر رکھی جاتی تھیں ،اس میں رکھے گئے مواد کو مضامین کے اعتبار سے رکھا جاتا تھا، اس کا قیام 323 ق،م میں مصر میں عمل میں آیا اور اس میں ذخیرۂ کتب 9؍لاکھ تھا۔ اس کی تعمیر و قیام میں بطلیموس دوم نے اہم کردار سرانجام دیا تھا۔یونانی کتب خانوں میں کتب خانۂ ارسطو، کتب خانۂ افلاطون اور پرگامم کا کتب خانہ قدیم ترین ہیں۔ افلاطون کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک شاندار کتب خانہ موجود تھا، جو اس کی وفات کے بعد کہا ں گیا ،کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے، البتہ ارسطو کے کتب خانے کے حوالے سے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ سیکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا ،جو کہ ایک اندازے کے مطابق4؍سو رولز پر مشتمل تھا۔ نجی کتب خانوں کا بانی ارسطو کو کہا جا تا ہے، ارسطو نے کتب خانوں کی تنظیم و ترتیب سائنسی بنیادوں پر رکھنا شروع کی تھی۔
قدیم یونان کا دوسرا اہم ترین کتب خانہ پرگامم ہے، جسے اتالوسی دوم نے 137ء سے 159ء تک قائم کیا۔ پرگامم کا مواد پیپرس رولز اور پارجمنٹ پر مشتمل تھا اور یہ ذخیرہ دولاکھ کے لگ بھگ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں ادب، تاریخ، سائنس، ریاضی، فلسفہ، مذہبیات، سیاسیات اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر ذخیر�ۂکتب زیادہ تھا۔سرزمینِ روم میں عوامی کتب خانے، نجی کتب ا ور مخصوص کتب خانے موجود تھے۔ 360ء سے 370ء تک روم میں 28عوامی کتب خانے موجود تھے۔کتب خانہ پلینی،سسرو،اٹیکس،سانونیکس اور سیلوسی کالیکس روم کے مشہور کتب خانے ہیں۔روم کے یہ تمام کتب خانے16ویں صدی تک نیست و نابود ہو گئے۔چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند میں کتب خانے موجود تھے، جنہیں زیادہ تر مذہبی عمارتوں میں قائم کیا جاتا تھا،کتب خانہ نالندہ یونیورسٹی، وکرم شیلا، جین لائبریری اورسرسوتی بھنڈار برصغیر کے قدیم کتب خانے ہیں،پرانے وقتوں کے عظیم کتب خانوں کی دو اہم خصوصیات علم دوستی اور حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور ان کی ہیئت و تنظیم میں ہم آہنگی تھی۔
کتب خانے جو مٹ گئے:
تاریخِ اسلام کے تلخ حقائق میں سے ایک دردناک حقیقت کتب خانوں کا نذر آتش ہونا ہے، جس کے باعث میراثِ اسلامی اور علومِ شریعت کا کثیر حصہ دنیا سے مفقود ہو گیا۔ چند واقعات حسب ذیل ہیں:
1۔503 ہجری میں طرابلس (لیبیا) پر عیسائیوں نے قبضہ کیا، تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا دیا۔
2۔656 ہجری میں ہلاکو خان نے بغداد تاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کو دریاے دجلہ میں پھینکوا دیا، دریاے دجلہ میں غرق کی جانے والی کتب کی تعداد 6؍ لاکھ سے متجاوز تھی،بغداد میں علامہ سید رضی موسوی کا کتب خانہ ،جہاں نہج البلاغہ جیسی معرکۃ الآرا کتاب تالیف ہوئی ،دریا برد ہو گیا۔
3۔تاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کیے اور تمام کتب دریا میں ڈا ل دیں، جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا۔تاتاریوں کا یہ سیلاب صرف بغداد تک ہی محدود نہ رہا؛ بلکہ ترکستان، خراسان، فارس، عراق اور شام سے گزرا اور تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا۔
4۔سپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیے گئے۔
5۔Cardinal Ximenesنے ایک ہی دن میں 80؍ ہزار کتب نذرِ آتش کر دیں۔
6۔صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر، شام، سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ و برباد کر دیا، ان کتب کی تعداد 30؍لاکھ سے زائد تھی۔
7۔ قاضی ابن عمار نے طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی ،جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں،یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران برباد کر دیا گیا۔
8۔فاطمینِ مصرکے دور میں قاہرہ کے قصرشاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا ،جسے صلاح الدین ایوبی نے جلا کر خاکستر کر دیا۔
9۔420ھ میں سلطان محمود غزنوی نے رے فتح کیا ،تو وہاں کے کتب خانوں کوجلوا دیا۔
10۔صاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ’’جو دارالکتب ،رے‘‘کے نام سے معروف تھا، سلطان محمود غزنوی نے جلا کر تباہ کر دیا۔
11۔ اسلامی دنیا کے سب سے پہلے عمومی کتب خانہ میں، جسے ابو نصر شاپور وزیر بہاء الدولہ نے381ھ میں بغدادا کے محلہ کرخ میں قائم کیا تھا، اس کتب خانے میں دس ہزار سے زائد ایسی کتب تھیں ،جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں کی لکھی ہوئی تھیں۔یاقوت الحموی ،جس نے دنیاے اسلام کے بہتر سے بہترین کتب خانے دیکھے تھے، لکھا ہے کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی کتب خانہ نہ تھا۔ اس کتب خانہ کو مؤرخین نے ’’دار العلم‘‘کے نام سے موسوم کیاتھا۔یہ مایہ ناز کتب خانہ 451ھ میں طغرل بیگ سلجوقی نے جلا دیا۔
12۔ بغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ تا 420ھ کئی مرتبہ جلایا گیا۔آخری مرتبہ 448میں اس طرح جلایا گیا کہ اس کا نام بھی باقی نہ بچا۔
13۔ 549ھ میں ترکوں کے ایک گروہ نے ماوراء النہر سے آکر نیشا پور کے کتب خانے جلا دیے۔
14۔ 586ھ میں ملک المؤید نے نیشا پور کے باقی ماندہ کتب خانوں کو جلا کر تباہ کر دیا۔
کتب خانو ں کی اہمیت:
کتاب اور کتب خانوں کی افادیت اور اہمیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہل علم کسی ملک میں پائے جانے والے کتب خانوں کو اس ملک کی ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا مقصود ہو، تو وہاں پر موجود تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لیناہو،تو وہاں پر موجود کتب خانوں کودیکھا جائے۔ کتب خانے جتنے فعال ہوں گے، تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہوں گے، جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک ہم اپنے تعلیمی نظام کو جدید سائنسی خطوط پر استوار نہیں کر سکے۔ ملک میں شرح خواندگی افسوس ناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے ہم ترقی کے ہر شعبے میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کتاب اور کتب خانے کی مدد سے ہم ان عظیم شخصیتوں سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں ،جن کے اقوال زریں ہماری زندگی کی قیادت کرتے ہیں۔ کتاب ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اس کے ذریعے ہم ماضی کے سبق آموز واقعات اپنی آئندہ زندگی کے لیے مشعل راہ بناتے ہیں۔ کتاب اور کتب خانے صرف کاغذ کے خشک اوراق کا مجموعہ نہیں ہیں ؛بلکہ زندگی کی گوناگوں عملی مصروفیات، تجربوں، عمل اور عقل، چلنا پھرنا وغیرہ کا ایسا خزانہ ہیں، جس کی مدد سے ہر شخص اپنی زندگی کی خامیوں کو دور کر سکتا ہے، کتابوں کی مدد سے دماغ اور ذہن تسکین پاتے ہیں۔ اچھی کتاب ہماری رہبری اور عزمِ مسلسل پیدا کرتی ہے، اس کے مطالعے سے ہم اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہو کر اپنی فکر کو روشنی بخشتے ہیں۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان ارسطو، سقراط، افلاطون، بو علی سینا، غزالی واقبال جیسے عظیم مفکر اور اہل دانش موجود نہیں ہیں، تاہم ان کے خیالات اور افکار پر مبنی جو کتابیں ہمارے کتب خانوں میں اور گھروں میں موجود ہیں، انہوں نے ان کو زندۂ جاوید بنا دیا ہے۔
لاعلمی ایک بڑا جرم ہے، اس سے نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کتابیں ہیں۔ کتابیں امیر اور غریب، جوان، بوڑھے، بچے، عورت، مرد سب کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہیں، ان پر کسی ایک طبقہ یا کسی ایک جنس کا حق نہیں ؛بلکہ اس سے پوری انسانی برادری یکساں طور پر فیض یاب ہو سکتی ہے۔ کتابیں علم کی تشنگی مٹاتی ہیں، قوت عمل کو بڑھا دیتی ہیں اور انسانی زندگی کو سہل اور مہذب بنا دیتی ہیں۔ پڑھنے والے اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں۔مشہور فلسفی ایمرسن کا کہنا ہے: ’’اچھی کتاب مثالی دوست اور سچا ساتھی ہے، جو ہمیشہ سیدھے راستہ پر چلنے کی صلاح دیتی ہے‘‘ ایک اور عالم کے مطابق کتابوں کا پیار ہی انسانوں کو اپنے خالق کے پاس پہنچانے والا راکٹ ہے۔ سقراط نے خوب کہا ہے: ’’جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں ،وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں ،وہ تو زندہ مردوں کا قبرستان ہے۔‘‘
تعلیم وہ روشنی ہے ،جس کے بغیر ترقی کی راہ پر چلنا ناممکن ہے۔ جن ممالک میں تعلیم کم ہے، ان کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے؛ کیونکہ ناخواندہ اور غیر تعلیم یافتہ عوام ملکی ترقی میں اس طرح بھرپور حصہ نہیں لے سکتے ، جس طرح تعلیم یافتہ لوگ لیتے ہیں۔ ناخواندگی سے غربت، مہنگائی، قتل و غارت، رشوت ستانی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ تعلیم وہ زینہ ہے، جس سے افراد ترقی کی منازل طے کرتے ہیں اور قومیں عروج حاصل کرتی ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کی ہزاروں داستانیں کتب خانوں سے وابستہ رہی ہیں۔ جن اقوام نے اس راز کو پا لیا، وہ آج بام عروج پر ہیں اور جنہوں نے کتب خانوں کی اہمیت، افادیت سے صرف نظر کر لیا وہ آج دنیامیں شاہراہ ترقی سے بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ کتابیں زمانے کی رفتار کے مطابق ہمارا ساتھ دیتی ہیں، زمانۂ امن اور جنگ میں ہمارے اندر انقلابی روح بیدار کر دیتی ہیں۔ کتابیں مہمل اور موزوں دونوں طرح کی ہوتی ہیں، اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ اچھی اور بری کتاب میں تمیز کرکے بہتر طور پر فائدہ اٹھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کتاب اور کتب خانے:تاریخ اور اہمیت و افادیت” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں