128

کتاب، کتب بینی اورکتاب میلوں کی اہمیت



اے رحمن (علیگ)
دنیا کی ہر زبان میں ’کتاب‘ ایک مقدس لفظ ہے،اب بھی، جبکہ کمپیوٹر ، انٹر نیٹ اور موبائل فون نے تمام دنیاے علم و آگہی کو ایک عام آدمی کی مٹھی میں بند کر دیا ہے،کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اور مذکورہ جدید ایجادات کو وہ تقدس حاصل نہیں ہو سکا، جو کتاب سے منسوب ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مطبوعہ کتاب کی ابتدا کو مؤرخین عموماً جو ہانس گوٹنبرگ کے ذریعے1440 عیسوی میں ایجاد کردہ مطبع یعنی پرنٹنگ پریس سے وابستہ کرتے ہیں؛ لیکن قرآن میں مذکور ’ صحف الاولیٰ‘ اور ’ صحف ابراہیم و موسیٰ’ سے ثابت ہوتا ہے کہ کتاب کا تصور دو ہزار سال قبل مسیح یعنی حضرت ابراہیم کے زمانے میں موجود تھا۔مصر کی ہیرو غلیف یعنی تصویری تحریر اور میسوپوٹامیا کی سمیریائی تہذیب میں بچر شکل(Cuneiform) تحریر تقریباًایک ہی دور یعنی ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح ایجاد ہو چکی تھیں اور انسان نے اپنے خیالات، محسوسات اور مشاہدات کو مٹی کی الواح (تختیوں) پتھر اور چمڑے پر منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ تحریر کے وجود میں آتے ہی قدیم مصریوں نے دریاے نیل کی دو شاخوں کے درمیان بہتات سے اگنے والے ایک نرسل نما پودے PAPYRUS سے ایک موٹا کاغذ بنایا اور اس پر تحریر کیا جانے لگا۔ طویل تحریریںScroll یعنی طومار(مرغول یا پلندہ) کی شکل میں ہوئی تھیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے فرعونِ مصر خوفو کے مقبرے کی کھدائی کرکے کئیScroll بر آمد کیے، جو ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کے تحریر شدہ ثابت ہوئے۔ اس سے بآسانی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ صحیفۂ ابراہیمScroll کی شکل میں ہی رہا ہوگا۔ قدیم مصر میں مردے کے ساتھ ایک طولانی تحریر دفن کرنے کا رواج تھا،جو ان کے عقیدے کے مطابق متوفی کے زیر زمین سفر کو آسان کرتی تھی۔ اس تحریر کو ’ موت کی کتاب‘Book of the Dead کہتے تھے یعنی اس تحریر کے لیے لفظ ’ کتاب ‘ استعمال ہوتا تھا۔ یہ کتاب تصویری تحریر میں ہوتی تھی۔
کتاب کی اہمیت اور عظمت کا ادراک بھی انسان کو جلد ہی ہو گیا تھا اور اشاعتِ علم میں کتاب کے کردار اورتاثیر نے کتاب کو وہ تقدس عطا کیا کہ آج بھی بلا تخصیص مذہب و عقیدہ لوگ عام کتاب کو بھی ہاتھ سے گر جانے پر بڑے احترام سے اٹھا کر چومتے اور آنکھوں سے لگاتے ہیں۔جبکہ موبائل فون ہاتھ سے گر جانے پر لوگ عام طور سے گالی دیتے سنے گئے ہیں۔
طباعت یعنی پرنٹنگ کی تاریخ کو مغربی مؤرخین نے1440 عیسوی میں گوٹنبرگ کے ٹائپ پریس کی ایجاد سے محض اپنے تعصب کے زیر اثر وابستہ کیا ہے؛ کیونکہ دنیا کی پہلی مطبوعہ کتاب بدھسٹ فلسفے پر مبنی Diamond Sutra ہے، جو لکڑی کے بلاک کے ذریعے868عیسوی میں چین کے تانگ دور حکومت میں طبع ہوئی اور آج بھی مکمل حالت میں برٹش میوزیم میں موجود ہےاوراگر گوٹنبرگ کے متحرک ٹائپ کو بھی پیمانہ بنایا جائے، تو بھی چین کو سبقت حاصل رہے گی؛ کیونکہ وہاں1041عیسوی میں بائی شینگ نے اس ٹائپ سے چھپائی کا طریقہ ایجاد کر لیا تھا اور اسی کو ترقی دے کر گوٹنبرگ نے اپنی مشین بنائی۔
پندرہویں صدی میں کتاب اپنی موجودہ کاغذی شکل میں آ چکی تھی اور ہر ترقی یافتہ زبان میں کتابوں کی طباعت، ترجمہ اور اشاعت کا کام بھی شروع ہو گیا تھا۔ کتاب علم کے اکتساب کا ذریعہ بھی تھی اور تفریح طبع اور وقت گزاری کا مشغلہ بھی۔ علم دوستی عام ہوئی اور کتاب خریدنا، پڑھنا اور محفوظ رکھنا ایک مقبول شوق بنتا چلا گیا۔ کلاسیکی ادب کے ترجمے ہوئے، عوامی ادب تخلیق ہوئے اور زورو شور سے پڑھا جانے لگا۔ دوسری زبانوں کے ادب سے لوگوں کی دلچسپی بڑھی اور ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی، جہاں دنیا بھر کا ادب جمع کرکے نمائش کے لیے پیش کیا جائے۔ لہٰذا دنیا کا پہلا کتاب میلہ جرمنی کے فرینکفرٹ شہر میں مقامی کتب فروشوں نے1454 میں منعقد کیا۔ فرینکفرٹ اس شہر مینزMainz کے قریب واقع ہے،جہاں جو ہانس گو ٹنبگرگ نے1440 اپنا پرنٹنگ پریس قائم کیا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جس مقام پر یہ میلہ لگایا گیا،وہاں اس سے قبل قلمی مسودات کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ سترھویں صدی تک فرینکفرٹ کتاب میلہ دنیا کا اہم ترین کتاب میلہ رہا لیکن یوروپ کی نشاۃ ثانیہ نے وہاں ایک عظیم سیاسی اور ثقافتی انقلاب بپا کر دیا تھا جس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ جرمنی کے ہی شہر LEIPZIG نے1622 میں ایک نہایت شاندار کتاب میلہ کا انعقاد کیا،جس کے سامنے فرینکفرٹ کتاب میلہ کی چمک ماند پڑ گئی۔ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم کے ما قبل سیاسی بحران اور خود جنگ نے پورے یوروپ کو الٹ پلٹ دیا، کتاب میلے تو کہاں ہوتے۔ پھر جب امن کا دور دورہ ہوا،تو 1949میں فرینکفرٹ کتاب میلہ بھی دوبارہ شروع کیا گیا اور اس وقت سے آج تک یہ دنیا کا سب سے بڑا تجارتی کتاب میلہ ہے۔
فی الوقت دوسرا اہم ترین کتاب میلہ لندن میں ہوتا ہے،حالانکہ اس کا آغاز1971 میں لندن کے ہوٹل برنرز کے تہہ خانے سے ہوا تھا،جہاں ایک مقامی ناشر نے چند میزوں پر کتابیں سجا کر چھوٹے درجے کے ناشرین کو لائبریریوں اور عام قارئین کو کتابو ں کی جانب ملتفت کرنے کا طریقہ سکھانے کی کوشش کی تھی،جو بعد کو ایک بڑی نمایش میں تبدیل ہوئی۔ اب کتاب میلوں کو ایک تجارتی طریقۂ نمائش ہی نہیں؛ بلکہ عوام کو کتاب اور پڑھنے کی طرف راغب کرنے کا طریقہ بھی سمجھا جانے لگا۔
1972 میں نئی دہلی کے پرگتی میدان میں عالمی کتاب میلے کا آغاز ہوا،جس کاا فتتاح صدر جمہوریہ وی۔ وی ۔ گری نے کیا تھا۔ ابتدا میں یہ میلہ دو سال میں ایک مرتبہ ہوا کرتا تھا؛ لیکن پھر اسے سالانہ کر دیا گیا اور2013 سے اسے قومی بک ٹرسٹ انڈیا ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے اشتراک و تعان سے منعقد کرتا ہے۔ اس میں ہندوستان کی تمام درج فہرست زبانوں کے ناشرین اور کتب فروشوں کی شمولیت ہوتی ہے اور انگریزی کتب کے متعدد ملکی اور غیر ملکی ناشراپنی کتابیں نمائش اور فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔
1976سے کلکتے کے ناشرین کی ایک تنظیم نے وہاں چھوٹے پیمانے پر کتاب میلہ کا آغاز کیا تھا،جو اب ایشیا کا سب سے بڑا اور دنیا کا تیسرا بڑا غیر تجارتی کتاب میلہ بن گیا ہے۔
نئی دہلی کا عالمی کتاب میلہ شروع ہونے والا ہے اور کتابوں کی ہنوز اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امسال میلے میں تاجرانِ کتب اور ناشرین کی تعداد پہلے کی بہ نسبت زیادہ ہے۔افسوس ہے کہ اردو پر اس کا اطلاق نہیں ہوتااور اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو کے بارے میں بلند بانگ نعروں کے باوجود لوگوں میں اردو کتابیں پڑھنے کا شوق کم ہوتا جا رہا ہے۔کتاب میلوں میں شریک و موجودکسی زبان کے قارئین اور ناشرین کی تعداد اس زبان کی زندگی اور مقبولیت کا پیمانہ بن چکی ہے۔اردو والوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں