52

کانگریس کو قیادت کا فیصلہ جلد کرنا چاہئے


عبدالعزیز
کانگریس 135سالہ پرانی سیاسی پارٹی ہے۔ برطانوی راج میں یہ پارٹی اے او ہیوم (Allan Octavian Hume) نے 1885ء میں انگریزی حکومت کے تعاون اور عوام کی بھلائی کیلئے قائم کی تھی۔ اس میں کچھ ہندستانی دانشور بھی شامل ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ پارٹی آزادیِ ہند کیلئے آواز بلند کرنے لگی۔مہاتما گاندھی کی سربراہی میں عظیم جدوجہد کے بعد ملک آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد کانگریس کی مسلسل کئی سالوں تک ملک میں حکومت رہی۔ کانگریس کو کئی مصائب و مشکلات سے گزرنا پڑا۔ بڑے سے بڑے بحران میں مبتلا ہوئی۔ اس کے باوجود بڑے سے بڑے بحران کو دور کرنے میں کامیاب ہوئی۔ کانگریس دو حصوں میں تقسیم بھی ہوئی اور کئی ریاستوں میں کانگریس سے الگ ہوکر کانگریس کے کچھ لیڈروں نے کانگریس کے نام پر سیاسی پارٹیاں بھی بنالیں۔ اس کی وجہ سے کئی ریاستوں میں کانگریس پارٹی کمزور ہوگئی۔ دو حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس دوبارہ مستحکم اور مضبوط ہوگئی۔ اندرا کانگریس کو جنتا پارٹی کے ہاتھوں 1977ء میں کراری ہار ہوئی۔ یہاں تک کہ اندرا گاندھی بھی ہار گئی تھیں، لیکن اندرا گاندھی نے ہار سے حوصلہ نہیں ہارا۔ بہادری اور جرأت مندی سے اپوزیشن کا مقابلہ کیا اور پھر کانگریس کی حکومت بھاری اکثریت سے مرکز میں قائم ہوگئی۔
مسٹر پی وی نرسمہا راؤ نے راجیو گاندھی کے اچانک قتل کے بعد حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ اپنی کارکردگی سے کانگریس کو بیحد کمزور کر دیا۔ آر ایس ایس کی ذہنیت والے نرسمہا راؤ نے 1992ء میں سنگھ پریوار سے مل کر بابری مسجد کو شہید کرایا۔ جس کی وجہ سے ملک کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے۔ مسلم اقلیت کے ہزاروں لوگ مارے گئے اور اربوں کی جائیدادیں تباہ و برباد کر دی گئیں۔ سیتا رام کیسری نے صدر کی حیثیت سے کانگریس کو کئی سالوں تک جیسے تیسے سنبھالا۔ 1998ء میں سونیا گاندھی کانگریس کی صدر ہوئیں اور2017ء تک کانگریس کی صدارت کی کرسی پر فائز رہیں۔ 2004ء میں کانگریس برسر اقتدار پھر آئی۔ پہلی حکومت یوپی اے I کے نام سے تھی۔ دوسری بار حکومت یوپی اے II کے نام سے تھی۔ اس طرح دس سال تک یعنی 2014ء تک کانگریس کی حکومت رہی۔ سونیا گاندھی کی صحت کی خرابی اور علالت کی وجہ سے راہل گاندھی کو پہلے پارٹی کا نائب صدر اور پھر صدر کا عہدہ سونپا گیا۔
راہل گاندھی کے بارے میں بہت سے تبصرے ہوئے جس میں یہ کہا گیا کہ ان کے اندر ایسی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ کانگریس جیسی پارٹی کی قیادت کرسکیں گے، لیکن راہل گاندھی نے آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت کا لوہا منوالیا۔ خاص طور پر 2014ء سے لے کر 2019ء تک مودی حکومت سے پنجہ آزمائی کرتے رہے۔ 2019ء کے الیکشن میں بھی انھوں نے کانگریس کیلئے زبردست جدوجہد کی۔ پولرائزیشن، جارحانہ قومیت خاص طور پر پلوامہ کا سانحہ اور بالا کوٹ ایئراسٹرائیک نریندر مودی کیلئے تحفہ ثابت ہوا،انہی وجوہات سے کانگریس کو بڑی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اگرچہ 2014ء سے 2019ء لوک سبھا میں کانگریس کے ممبروں کی تعداد 44 سے بڑھ کر 52ہوگئی، لیکن راہل گاندھی پر شکست خوردگی کا ایسا اثر پڑا کہ انھوں نے بغیر سوچے سمجھے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ کے بعد کانگریس کے اندر جو شکست خوردگی کا احساس تھا وہ پست ہمتی اور انتشار میں تبدیل ہوگیا۔
کئی ریاستوں میں کانگریس کے اندر باہمی لڑائی شروع ہوگئی۔ تلنگانہ میں کانگریس کے کئی ایم ایل اے نے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب میں نوجوت سنگھ سدھو اور امریندر سنگھ نے وزارت کی تبدیلی کی وجہ سے منہ مٹول دیکھنے میں آرہا ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوٹ کو ہٹاکر سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ بنانے کی آواز بلند ہونے لگی ہے۔ مدھیہ پردیش میں جیوترادتیہ سندھیا کے حامی کمل ناتھ کو ریاستی کانگریس سے سندھیا کے حق میں صدارت کیلئے آواز اٹھانے لگے ہیں۔ راہل گاندھی نے میرے خیال سے بغیر کسی مشورے کے ایسا قدم اٹھایا جس سے پارٹی بہت بڑے بحران میں مبتلا ہوگئی ہے۔ راہل گاندھی کو اپنے خاندان کے بزرگوں سے ہی سبق لینا چاہئے تھا کہ انھوں نے کس طرح کانگریس کو کئی بحرانوں کے بعد مضبوط اور مستحکم کیا۔ ساتھ ہی ساتھ بی جے پی سے بھی سبق لینا چاہئے تھا۔ بی جے پی کو 2004ء میں شکست ہوئی تھی اور کانگریس لگاتار دو ٹرم تک یعنی دس سال تک حکومت کرتی رہی۔ بی جے پی دس سال کانگریس سے نبرد آزما رہی۔ اس نے اپنا حوصلہ نہیں ہارا۔ 2014ء میں نریندر مودی کی سرکردگی میں 282 امیدوار جیت کر لوک سبھا میں آئے۔ 2019ء میں تعداد بڑھ کر 303 ہوگئی۔ راہل گاندھی کو بی جے پی نے کس طرح جدوجہد کی،سبق لینا چاہئے۔
کانگریس کے سلسلے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کانگریس میں اچھے لیڈروں کی کمی نہیں ہے۔ اگر کمی ہے تو یہ ہے کہ وہ شاہی گھرانہ یا خاندانی روایات سے باہر نہیں ہونا چاہتے۔ کانگریس کو اس کمی کو دور کرنا پڑے گا۔ راہل گاندھی یا کسی اور کو کانگریس کیلئے ناگزیر نہیں سمجھنا چاہئے۔ کسی نہ کسی کو کانگریس کو جب تک بڑا فیصلہ کی ہمت نہ ہو کارگزار صدر بنالینا چاہئے اور جتنی جلد ممکن ہو۔ اگر راہل گاندھی اپنے استعفیٰ پر اصرار کریں تو کسی اور کو جس کے اندر صلاحیت بھی ہو اور جدوجہد کرسکتا ہو اس کو صدر بنا دینا چاہئے۔ جس قدر دیر ہوگی اسی قدر بحران بڑھے گا اور پارٹی کے نقصان میں بھی اضافہ ہوگا۔
بی جے پی کے بعد ہندستان گیر پیمانے پر کانگریس ہی سب سے بڑی پارٹی ہے؛ یعنی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ اگر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پژمردہ اور پست ہمت ہوجاتی ہے جمہوریت کیلئے بہت بڑا بحران اور خطرہ ہوگا۔ کانگریس کے علاوہ جو دیگر پارٹیاں اپوزیشن میں ہیں ان میں سے کوئی ملک گیر پارٹی نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ریاستی پارٹیاں بھی کانگریس کو بحال کرنے میں جمہوریت کی بقا اور ترقی کیلئے حصہ لیں۔ اس لئے کہ جب جمہوریت ہی باقی نہیں رہے گی تو ملک کی ریاستی پارٹیاں بھی کمزور سے کمزور تر ہوتی جائیں گی۔ بہر حال کانگریس اور راہل گاندھی کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا اور بڑا فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ ان کی پارٹی بحال ہوجائے اور جمہوریت بہت بڑے خطرے سے بچ جائے۔ کانگریس کو 2014ء کے بعد جو حوصلہ تھا اس سے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ 2019ء کے حالات بدل چکے ہیں۔ اگر چہ کانگریس 2014ء میں کئی بڑی ریاستوں میں حکومت کرنے سے محروم تھی لیکن اس وقت کئی بڑی ریاستوں میں اس کی حکومت ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ نتیش کمار (جے ڈی یو سربراہ) کے تیور بدل رہے ہیں۔ شیو سینا بھی شاید بہت دنوں تک بی جے پی کا ساتھ نہ دے سکے۔ اس طرح ’این ڈی اے‘ سے بھی کچھ لوگ نکل کر اپوزیشن کا رول ادا کرسکتے ہیں۔ کانگریس کو سمجھنا چاہئے کہ حالات یا وقت ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ اچھا وقت اب بھی دیر یا سویر آسکتا ہے، لیکن جدوجہد کے بغیر وہ بھی عظیم جدوجہد کے بغیر اچھا وقت یا اچھا دن نہ آیا ہے نہ آئے گا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں