101

کانگریس کا بحران اور راہل گاندھی کا الوداعی خط

عبدالعزیز
عام طور پر جب کسی سیاسی پارٹی کو الیکشن میں شکست یا ناکامی ہوتی ہے تو اس کا سربراہ یا صدر رسماً استعفیٰ دیتا ہے یا استعفیٰ دینے کیلئے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتا۔ اس طرح دو قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں۔ جب راہل گاندھی نے جنرل الیکشن کے نتائج کے بعد 25جون کو کانگریس کے صدارتی عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو کسی کو کوئی خاص تعجب یا حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ سمجھا گیا کہ کچھ دنوں کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اصرار پر واپس لے لیں گے، لیکن لوگوں کا خیال غلط ثابت ہوا۔ راہل گاندھی ورکنگ کمیٹی اور کانگریس کے چھوٹے بڑے لیڈروں اور ورکروں کے اصرار کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہے، استعفیٰ واپس نہیں لیا۔
3جولائی کو اپنا الوداعیہ خط اپنے ٹوئیٹر پر ٹوئیٹ کیا۔ جس وقت ٹوئیٹ کیا اسی روز سے ان کے خط پر ٹی وی نیوز چینلوں پر تبصرہ ہونے لگا۔ دوسرے روز اخبارات میں ان کے خط کا پورا متن شائع ہوا۔ اپنے خط میں استعفیٰ دینے کی بہت سی وجوہات بیان کی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ الیکشن میں پارٹی کی ناکامی کی بڑی ذمہ داری ہم پر اور بہتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیتے تو دوسرے کیسے اور کیونکر دیں گے؟ مجھ پر بڑی ذمہ داری تھی اور جس پہ بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اس پر ہار اور جیت کی بھی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ میں نے استعفیٰ اس وجہ سے دیا ہے کہ الیکشن میں ناکامی اور پارٹی کی کارکردگی کا محاسبہ اور جائزہ بے دریغ کیا جاسکے۔
سب سے دلچسپ بات یہ لکھی ہے کہ الیکشن میں مہم کے دوران ”میں اکیلا اور تنہا ہوگیا تھا، میرے ساتھ کوئی کھڑا نہیں تھا“۔ ان کا اشارہ رافیل طیارے کے گھوٹالے کی طرف تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ”چوکیدار چور ہے“ کا نعرہ جس طرح بلند کرتے تھے اس قدر کانگریس کے چھوٹے بڑے لیڈروں نے نہیں کیا۔ میرے خیال سے راہل گاندھی اپنے سینئر لیڈروں سے زیادہ توقع رکھتے تھے۔ ان کی توقع پر وہ پورے نہیں اترے، جس کی وجہ سے آج وہ یہ بات کہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایک بڑی حقیقت جو ان کے استعفیٰ کے بعد عوام و خواص کے درمیان پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے وزرائے اعلیٰ نے الیکشن میں انتہائی کوتاہی سے کام لیا۔ کانگریس کے بجائے اپنی اولاد اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دلانے میں سرگرم عمل رہے اور ان کی مہم بھی اپنے بیٹے، بیٹیوں اور رشتہ داروں تک محدود رہی۔ جس کی وجہ سے مذکورہ ریاستوں میں کانگریس کو شرمناک شکست یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ راہل گاندھی کو یہی وہ چیز تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے استعفے کا سبب بنی، مگر راہل گاندھی نے اپنے خط میں اس کا تذکرہ مصلحتاً نہیں کیا ہے۔ رافیل ڈیل کے معاملے کا تذکرہ کرنا انھوں نے مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے میں بے داغ نہیں ہیں۔ وہ اس معاملے کو اٹھاتے رہیں گے۔ خط میں ان کا جو سب سے بڑا عزم ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی جس طرح ملک کو تباہ اوربرباد کر رہی ہے اس کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی۔ ہر کمزور طبقے کو خاص طور پر دلتوں اور اقلیتوں کو انتہائی مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تکثیریت کے بجائے اکثریت پسندی کا مظاہرہ ہورہا ہے۔
الیکشن کے بارے میں انھوں نے کہاکہ الیکشن اس وقت صاف ستھرا اور غیر جانبدارانہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ تمام جمہوری ادارے آزاد نہ ہوں۔ میڈیا آزادانہ طریقے سے اپنا کام انجام نہ دیتا ہو۔ جب ایک ہی پارٹی کے پاس سارا دھن اور دولت جمع ہوجائے تو اس کا مقابلہ کوئی آسان نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ حکمراں پارٹی جب تمام سرکاری اداروں کا بے دریغ اپوزیشن کے لیڈروں کے اندر ڈر اور دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہو تو آخر کیسے الیکشن فیئر اینڈ فری (Fair and Free) ہوسکتا ہے۔ الیکشن کے دوران مودی اور شاہ نے جس طرح سی بی آئی، ای ڈی، ای سی اور دیگر اداروں کا استعمال کیا ہے اس کا صحیح تذکرہ کیا ہے۔ راہل گاندھی کے خط میں ان کے صبر سے زیادہ ان کی تنک مزاجی کا بھی مظاہرہ ہے۔
ڈیڑھ ماہ سے زیادہ ہونے کو آئے اور کانگریس کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب دیگر کانگریس لیڈران بھی راہل گاندھی کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ وہ بھی استعفیٰ دے رہے ہیں۔ جیوترا دتیہ سندھیا، ملند دیورا اور کیشب چند یادو بھی اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ اس سے لگتا ہے کہ بحران میں اضافہ ہوگا۔ کانگریس کی ناکامی کا سبب یہ ہے کہ ہندوتو پر ان کا رویہ نرم رہا اور اقلیتوں اور دلتوں پر جو جبر و ظلم پورے ملک میں ہورہا تھا کانگریس نے جس قدر اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے تھی نہیں کرسکی۔ آرٹیکل 370 کی مدافعت کا حق بھی ادا نہیں کیا۔ بے روزگاری، کسانوں کی پریشانی اور نریندر مودی کی بدعنوانی کا ذکر بار بار ہوا لیکن کانگریس مخلوط حکومت کیلئے الیکشن میں ملک گیر پیمانے پر سیاسی اتحاد کرنے میں ناکام رہی۔ جس کی وجہ سے مودی حکومت کا یہ پرچار کہ اپوزیشن ایک کمزور اور ملاوٹ کا اتحاد ہے جبکہ ان کا اتحاد مضبوط و مستحکم ہے۔ عوام نے مودی کی بات مان لی کہ ملک میں مضبوط سرکار ہونا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی اور شاہ کے پاس بے تحاشہ دولت، پروپیگنڈہ مشنری، سرکاری اداروں کی طاقت تھی جس کی وجہ سے اس کو اپوزیشن پر برتری اور فوقیت حاصل تھی۔
راہل گاندھی نے اپنے خط میں اور اپنے بیان میں بھی یہ لکھا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ ملک کو تباہیوں سے بچانے کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس سے پہلے سے دس گنا زیادہ ہمت، عزائم اور ارادے کے ساتھ لڑیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس گھر کے وہ سربراہ تھے وہ گھر بدنظمی کا شکار ہوگیا ہے۔ پہلے تو انھیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گھر کا سربراہ ڈھونڈنے میں بھی چالیس پچاس دن سے زیادہ ہوگئے پارٹی کو کوئی سربراہ بھی نہیں ملا۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کے اندر ناکامی کی وجہ سے مایوسی کا بادل چھایا ہوا ہے۔
پہلا کام پارلیمنٹری پارٹی کا صدر بنانا تھا وہ سونیا گاندھی کو بنایا گیا اور دوسرا کام یہ تھا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کرنا۔ اندازہ یہ تھا کہ ان کے دو بڑے لیڈر ہیں ششی تھرور اور منیش تیواری جو جیت کر پارلیمنٹ میں آئے ہیں ان میں سے کسی کو لیڈر بنایا جائے گا۔ دونوں کی انگریزی بھی اچھی ہے اور ہندی سے واقفیت ہے۔ حکمت اور دانائی کے ساتھ وہ اپنی بات بھی رکھتے بھی ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کو نہ بناکر ادھیر رنجن چودھری کو کانگریس کا پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب کیا۔ چودھری نہ انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں اور نہ ہندی صاف صاف بول سکتے ہیں۔ تعلیمی صلاحیت کے لحاظ سے بھی مذکورہ لیڈروں سے بہت پیچھے ہیں۔ بنگال میں سیاسی میدان میں ان کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے مغربی بنگال کے عہدہئ صدارت سے ناکامی کی وجہ سے ان کو ہٹائے گئے تھے۔ ایک ناکام اور کم صلاحیت کے لیڈر کے چننے کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں بھی کانگریس کی طرف سے کوئی پُر اثر اور معنی خیز مظاہرہ نہیں ہوگا۔ اگر اسی طرح نئے صدر کا بھی انتخاب ہوا تو کانگریس کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی بات کو کانگریس کو مان لینا چاہئے کہ کوئی جواں سال اور پُرجوش لیڈر کو کانگریس کا صدر بنانا چاہئے۔ اور ایسے بہت سے کانگریس میں جواں سال لیڈر ہیں جو کانگریس کو آگے لے جاسکتے ہیں۔ جیوترادتیہ سندھیا اور راجستھان کے نائب وزیراعلیٰ سچن پائلٹ آزمائے ہوئے لیڈر ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی صدارتی عہدہ سونپا گیا تو امید ہے کہ وہ حق ادا کریں گے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں