96

ڈاکٹر عبد الوہاب بھی چل بسے

رضوان احمد اصلاحی
امیر مقامی جماعت اسلامی ہند،پٹنہ
آج مورخہ6؍مارچ کو حسب معمول سہ پہر تین بجے دفتر پہنچا،تو دفتر میں موجود ذمہ داران بالخصوص امیرحلقہ جناب نیر الزماں ،سابق امیرحلقہ جناب قمرالہدیٰ اور سلطان احمد صدیقی صاحب بجھے بجھے نظر آئے ،سلام کے بعد ایک ہی جھٹکے میں یہ جاں گسل خبر سنائی کہ ڈاکٹر عبد الوہاب صاحب دربھنگہ کا انتقال ہوگیا ،بےساختہ زبان سے نکلاانا للہ وانالیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب کی ذات اپنے آپ میں ایک انجمن تھی، گرچہ وہ پیشے سے ڈاکٹر وہ بھی سرجن تھے؛لیکن صحیح معنوں میں ڈاکٹر صاحب ملک وملت کے سرجن ہی نہیں فیزیشن تھے، وہ ملت کے درد سے سرشار تھے ،ہمیشہ اس کے درد اور ٹیس محسوس کرتے رہتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ دربھنگہ میڈیکل کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انگلینڈ گئے اور وہاں سے FRCSکرنے کے بعدفوراً دربھنگہ لوٹ آئے ،اسی طرح بہتر تلاش معاش کے لیے سعودی عرب گئے اور محض سات سال کی مختصر مدت گذارکر اپنے وطن لوٹ آئے ۔ یہاں وہ سماجی ،تعلیمی اور فلاحی کاموں میں میں ہمہ تن مشغول اور مصروف ہوگئے۔دربھنگہ میں کوئی بھی دینی ،ملی اور سماجی کام ہوکہ کوئی عوامی مہم،اتحاد ملت کی کوشش ہوکہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی،ملت کی معاشی ترقی کا مسئلہ ہو کہ مسلم نوجوانوں کے تحفظ کامسئلہ،ڈاکٹر صاحب پیش پیش رہتے ۔الغرض ڈاکٹر صاحب کی حیثیت مسلم تھی۔
ڈاکٹر صاحب کے سامنے دین کا ایک جامع تصور تھا ،وہ مطلق مذہبی آدمی نہیں تھے؛بلکہ دین کی جزئیات اور کلیات سے واقف تھے، ان کے اندر ہمیشہ یہ جذبہ رہتا تھا کہ اللہ کی زمین پراس کا دین قائم ہوجائے۔اس کے لیے اپنے آپ کو ڈاکٹر صاحب نے اقامت دین کی تحریک سے وابستہ کیا۔2005سے باقاعدہ جماعت اسلامی ہندکے رکن تھے۔میری ڈاکٹر صاحب سے بہت مختصر ملاقات رہی ہے ،2006میں پہلی ملاقات دربھنگہ میں ہوئی ،اس کے بعد جب کبھی دربھنگہ جانے کا اتفاق ہوا مختصر ہی سہی ڈاکٹر صاحب سے ضرور ملاقات رہی ،وہ بڑی عزت سے پیش آتے تھے ،بے حد محبت اور اپنائیت سے ملتے تھے ،ایک مرتبہ ایک چھوٹی سی پرچی میں خط لکھا،جس میں دعا سلام کے علاوہ اپنائیت کے چند ایسے جملے لکھے،جو آج بھی ذہن میں ازبر ہیں،ان جملوں کا میں نہ اس وقت مستحق تھا اور نہ آج۔
ڈاکٹر صاحب کے پیشہ ورانہ فن کا تذکرہ کرتے ہوئے قمرالہدیٰ صاحب نے بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی پریکٹس غیر معمولی چلتی تھی،دربھنگہ میں ڈاکٹر بنرجی اور ڈاکٹر نواب کے بعد سب سے بڑے سرجن ڈاکٹر عبد الوہاب صاحب ہی تھے،نہ صرف دربھنگہ؛ بلکہ پورا نارتھ بہار ڈاکٹر صاحب سے مستفیض ہوتاتھا،یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کے ہم عصرحاسدڈاکٹروں نے باہر سے آنے والے مریضوں کے درمیان یہ خبر اڑائی کہ ’’ڈاکٹر صاحب کا تو انتقال ہوچکا ہے‘‘۔ مریض بےچارا مرتا کیا نہ کرتا،پچھتا کردوسرے ڈاکٹروں کے یہاں جاتا ،پھر جیسے ہی معلوم ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب زندہ ہیں، توفوراًان حاسدزندہ ڈاکٹروں کے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتا کہ چلومسیحا زندہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب سے ہماری ملاقات 75سال کی عمر کے بعدہی ہوئی ہوگی؛ لیکن عزم،ہمت ،حوصلہ ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا کہ 25سال کا نوجوان کا حوصلہ ہے۔ اللہ تعالی ٰ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا کرے،ملت اور تحریک اسلامی کو ان کا نعم البدل عطاکرے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں