104

ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتا ب ”نئی صدی کا اردو افسانہ“کا اجرا


میرٹھ:(پریس ریلیز)
”یہ کتاب تحقیق کے طالب علموں کے لئے بے حد مفید صابت ہوگی۔ارشاد سیانوی نے اپنی تنقیدی بصیرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ۱۲وی صدی میں ۱۲ کہانیوں کے حوالے سے کئی بدلاؤ پیش کئے گئے ہیں۔ ابھی کئی بڑے نام چھوٹ گئے جن کو شامل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ “یہ الفاظ ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی، (ڈپٹی ڈائریکٹر، انفارمیشن،میرٹھ،اور سابق مدیر ماہنامہ نیا دور،لکھنؤ) کے تھے جو شعبہئ اردو میں منعقدہ پروگرام ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی دوسری تنقیدی کاوش”نئی صدی کا اردو افسانہ“ کی رسمِ اجراء کے مو قع پر ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ اردو اپنے طالب علموں کو جس طرح تراش خراش کر منظر عام پر لا رہا ہے،وہ دیگر اداروں کے لئے مثال ہے۔اس موقع پر معروف افسانہ نگار محترم خورشید حیات نے کہا ”فکر نو کی تجلیوں کو نئی تنقید کے کوہِ طور پر دیکھنا ہو تو ڈا کٹر ارشاد سیانوی کی کتاب”نئی صدی کا اردو افسانہ“ کے ورق ورق کا مطا لعہ ضروری ہے کہ اکیس کہانیوں پر انہوں نے جو تجزیے کیے ہیں اسے پڑھ کر مجھے ایسا لگا کہ ہر کہانی پر تجزیہ کرتے وہ تحلیل کے مراحل سے گذرے ہیں۔اردو فکشن پر ریسرچ کرنے وا لے طلباء کے لیے یہ کتاب کافی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈا کٹر ارشاد سیانوی کی تنقید بین العمومی رویوں کے ساتھ مجھے کبھی رو مانی تو کبھی رو حانی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ کہانی کی روح میں اتر کر تجزیہ کرتے ہیں۔ تنقید کے مروجہ اصو لوں سے انحراف ڈا کٹر ارشاد کی شناخت ہے۔اس سے قبل پرو گرام کا آغازمفتی را حت علی صدیقی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔پرو گرام کی صدارت،صدر شعبہئ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کی۔مہمان خصو صی کے بطور پروفیسر سنجیو کما ر شر ما وائس چانسلر، مہاتما گاندھی سینٹرل یو نیورسٹی، بہار نے شرکت کی جبکہ مہمانان ذی وقار کے بطور ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی، (ڈپٹی ڈائریکٹر، انفارمیشن،میرٹھ)سید معراج الدین (سابق چیئر مین،پھلاؤدہ)اور معروف فکشن نگار خورشید حیات شریک ہوئے۔استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے انجام دیے۔سبھی مہمانان نے مل کر کتاب کی رونمائی کی۔کتاب کا تعارف ڈا کٹر آصف علی نے پیش کیا۔پروفیسر سنجیو کمار (شیخ الجامعہ، مہاتما گاندھی سینٹرل یو نیورسٹی، بہار )نے کہا، اولاد اور طالب علم آگے بڑھ جائے اور اگر ان سے شکشت بھی مل جائے تو باپ اور استاد کو بہت خوشی ہوتی ہے۔ اردو شعبہئ کی جہاں ایک طرف بین الاقوامی سطح پرشناخت بنی ہے وہیں اس کے طلبہ اپنیتخلیقات و تصنیفات کے ذریعہ پہچان بنا رہے ہیں۔ سید معراج الدین پھلاؤدہ نے کتاب کے بارے میں کہا کہ ۱۲صدی ایک Challenge کا دور ہے جس میں آئے دن نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ایمان داری سے لکھنے والوں کی کمی ہے۔ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتاب میں ایمان داری دیکھنے کو ملتی ہے۔اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے کہا کہ کتاب کا اجرء ہر ادیب کے لئے خواب ہوتا ہے۔ارشاد کا یہ خواب آج پورا ہو رہا ہے۔جب کوئی کتاب چھپ کر آ جاتی ہے تو وہ پڑھنے والوں کی ہو جاتی ہے۔ نئی صدی کے افسانہ کو ڈاکٹر ارشاد نے کیسے دیکھا اور کنہیں منتخب کیا یہ ان کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے نئے افسانہ نگاروں کی شمولیت پر کہا کہ اگر معروف ادیب افسانہ نگار کو ہی انتخاب میں شامل کرتے رہیں گے تو نئے اور اچھے مصنف کب سامنے آئینگے؟ ان پر کب لکھا جائے گا۔ ہر ناقد اپنے معیار اور مقصد کے مطابق لکھتا ہے۔اس کتاب میں بھی ارشاد نے آزادانہ طور پر انتخاب و تجزیہ کیا ہے۔
اس موقع پر سبھی مہمانان کو مومینٹو پیش کئے گئے۔ پروگرام میں ڈاکٹرجمال احمد صدیقی، ڈاکٹر سیدہ، انجینئر رفعت جمالی، حاجی عمران صدیقی، ڈاکٹر تعظیم جہاں، بھارت بھوشن شرما، انل شرما، فیضان انصاری، ڈاکٹر ودیا ساگر، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹریونس غازی، ڈاکٹرارشادانصاری، طاہر سیفی، آفاق احمد خان، محمد شمشاد، سعید سہارنپوری، شناور اسلم، شعیب، مدیحہ اسلم، وشودیپ سدھارتھ، مظہر سیانوی، ڈاکٹرظہیر، محمد علی، ڈاکٹرحکیم، ماسٹر آصف، کوثر پروین، گلزار احمد، محمد شہزاد، حافظ محمد آزاد، ابدال خالق، علی محمد، ماسٹر منےّ خاں، نظیرمیرٹھی، اظہار ندیم، اسد قمر، وصی حیدر اور ان کے علاوہ شہر کے معزز حضرات، مختلف اسکول، کالج کے طلبہ و طلبات اور اساتذہ ئکرام موجود رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں