65

ڈاکٹرانوارالحق کے انگریزی ناول’’لانگ ویٹ‘‘ کے اردو ترجمہ کا اجرا


نئی دہلی :(پریس ریلیز) آج شام ڈائنامک امریکن انسٹیوٹ بٹلہ ہاوس جامعہ نگر میں ڈاکٹر انوارالحق کے انگریزی ناول لانگ ویٹ کے اردو ترجمہ شب انتظار گزری ہے کا اجرا عمل میں آیا،یہ ترجمہ وسیم الحق علیمی نے کیاہے۔اجراکی تقریب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرس اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پرشعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے ترجمہ کی ضرورت اور اہمیت پر معلومات افزا گفتگو کی۔ انہوں نے اپنے عزیز دوست اور ناول کے مصنف ڈاکٹر انوارالحق اور عزیز شاگرد اور ناول کے مترجم وسیم احمد علیمی کی طبعی مماثلتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنف اور مترجم دونوں اردو اور انگریزی میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں۔’’شب انتظار گزری ہے‘‘ ناول پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ناول’’لفظوں کا لہو‘‘ کے خالق اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر سلمان عبد الصمد نے کہا کہ مترجم نے ترجمہ کو تخلیق کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مترجم نے کامیابی کے ساتھ موقع و محل کے اعتبار سے تشبیہات و استعارات کااستعمال کیا ہے۔انہوں نے ناول میں پیش کردہ تہذیب و ثقافت اور دیہی زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ناول میں موضوعات کے تنوع کی درجہ بندی کی اور ناول کے تعلق سے نیک خواہشات کا اظہار کیا، ان کے علاوہ آواز چیریٹبل ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر خان رضوان، جامعہ کے ریسرچ اسکالر توحید حقانی اور ناول کے مترجم وسیم احمد علیمی کے عزیز دوست سیف اظہر نے بھی ناول اور ترجمہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ڈائنامک کے ڈائریکٹر جناب رینڈل لانگ جو نسلا ایک انگریز ہیں ،مگر اردو سے کافی شغف رکھتے ہیں ،وہ بھی اس محفل میں موجود تھے، انہوں نے انگریزی اور اردو دونوں نسخوں پر انگریزی میں اپنے تاثرات پیش کیے، جس کو وسیم احمد علیمی نے فی البدیہہ اردو میں منتقل کر کے سامعین کے سامنے رکھا، جناب رینڈل لانگ نے کہا کہ ہر کہانی تخلیق کار کی نجی زندگی سے تعلق رکھتی ہے اور ہر قاری اس کو اپنی نجی زندگی کے حادثات و واقعات سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کہانی شکم مادر میں پرورش پارہے جنین کی طرح ہوتی، جب وہ تخلیق کار کے شعور سے گزر کر صفحۂ قرطاس پر اترتی ہے، تو ایسے ہوتی ہے جیسے کوئی نوزائیدہ بچہ ماں کے شکم سے اس کائنات رنگ و بو میں آتا ہے، جناب لانگ کی اہلیہ محترمہ ہیڈی لانگ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، ایک انگریز خاتون کی زبان سے رواں اردو سن کر سامعین حیرت زدہ رہ گئے، ناول کے مصنف ڈاکٹر انوارالحق اور مترجم وسیم احمد علیمی دونوں نے ترجمہ اور تخلیق کے درمیانی تفریق پر سامعین سے اپنے نجی تجربات ساجھا کیے۔
نظامت کے فرائض شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ میگزین کے چیف ایڈیٹر میر مرتضی رشید نے انجام دیے، تلاوت فیض الرحمن نے کی اور محمد بلال نے نعت نبی پیش کی۔پروگرام کے دوران نئی نسل کے دو نمائندہ شاعر اہتمام صادق اور محمد ساجد نے اپنی اپنی غزلوں سے سامعین کو لطف اندوزکیا۔ پروگرام کا اختتام کتاب’’شب انتظار گزری ہے‘‘ کی رونمائی پر ہوا۔ اس محفل میں مختلف یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرس اور طلبہ و طالبات کے علاوہ ڈاکٹر زاہد ندیم احسن، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، عبد الرحمن، حنبل رضا، سفیر صدیقی، مشرف رضا، تسنیم سر اج الحق، حنا تبسم، سعدیہ بانو، اظہر رضا، جسیم رضا، حسان رضا، محمد اشتیاق، محمد مہتاب خان،افضال ساحل، خطیب الرحمن اور کثیر تعداد میں محبینِ اردو نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں