397

چھوٹے قد کا بڑا آدمی


ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
مشکی پور، جمال پور، کھگڑیا، بہار
faqasmijnu@gmail.com/9718921072
پستہ قد، قبول صورت، سوچ بھری آنکھیں، مائل بہ گورا چہرہ اور چہرے پر خشخشی کھچڑی ڈاڑھی اور ڈاڑھی کے بال بال سے پھوٹتی دانشوری، سادہ لباس،کبھی شرٹ اور کبھی اوکھلائی کرتا زیب ِ تن کئے ہوئے،اگر موسم ِ سرما ہو تو کرتے پر کورٹ یا صدری بھی۔یعنی مولانا عبد الحق،جسے دنیائے ادب حقانی القاسمی کے نام سے جانتی ہے۔
حقانی صاحب سادہ پوشاک کے ساتھ سادہ خوراک بھی ہیں، جو ملا کھا لیا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ان کے دولت کدہ پر کلچرل ناشتہ بھی اکثر دیکھنے کو مل جاتا ہے یعنی چوڑا موڑھی اور اگر بقرعید کا مہینہ ہاتھ لگ جائے تو یہ دونو ں آئٹم ایک تیسری نعمت سے بھی دست و گریباں ہوتے نظر آتے ہیں۔
اگر آپ نے حقانی صاحب کی تحریروں سے ا ن کا سراپا اپنے ذہن میں بنانے کی کوشش کی ہے، تو ان کے حقیقی اور خارجی وجود کی زیارت کر کے آپ کوبڑی مایوسی ہوگی لیکن یہ مایوسی بہت وقتی ہے، جوں ہی حقانی القاسمی کے ساتھ آپ نے چند ساعات گزارے، ان سے گفتگو کی، ان سے علم و ادب پر تبادلہ ئ خیال کیا اور ذرا سی پارکھی نظر سے انھیں دیکھا کہ دفعۃً ساری مایوسیاں مسرتوں میں تبدیل ہو جائیں گی اور آپ پوری تازگی کے ساتھ وہاں سے اٹھیں گے۔
حقانی صاحب قہقہہ کم لگاتے ہیں لیکن زیر ِ لب مسکراہٹ سے ان کے ہونٹ ہمہ لمحہ سجے ہوتے ہیں اور یہ مسکراہٹ نری مسکراہٹ نہیں ہوتی؛اس میں سمندر کی سی گہرائی ہوتی ہے۔ وہ کلیم الدین احمد کی طرح زبان کی شہسواری کم کرتے ہیں،ان کے یہاں گفتار کی غازیت پیچھے اور کردار کی غازیت آگے ہے۔ حقانی کا نطق ان کے قلم میں جذب ہو گیا ہے، روشنائی کی بوند بوند سے ان کے علم و ہنر کی خوشبو پھو ٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ قلم کے ایک ایسے ظلّ ِ الٰہی ہیں جن کی دیوار ِ نقد میں بہت سے نقلی شاعر و ادیب چنے جا سکتے ہیں مگر حقانی قلم تخریب کے بجائے تعمیر پر ایمان رکھتا ہے۔
حقانی بنارس، دیوبند اور علی گڑھ کے خوشہ چینوں میں سے ہیں۔ وہ کئی معاملوں میں تو ماشاء اللہ نرے مولوی ہیں اور ان کی زندگی کے بہت سے رنگ ’مسٹرانہ‘ بھی ہیں۔ حقانی طرز ِ زندگی کے کئی اجزا منٹو کے طرز ِ زندگی سے بھی ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ذہانت، جدت، روایت سے بغاوت، عسرت، خود داری اور جھکنے کے بجائے ٹوٹنے کو ترجیح دینا وغیرہ۔ذہانت کا یہ عالم ہے کہ بیسیوں سال قبل دیکھی ہوئی کتابیں اور پڑھی ہوئی عبارتیں ازبر اور کف ِ دست کی طرح نظر کے سامنے رہتی ہیں۔ جدت و ندرت کا اندازہ حقانی کی کتابوں اور مضامین کے حرف حرف سے مترشح ہے، اس دعویٰ کی دلیل سننے سے کم پڑھنے سے زیادہ ملے گی۔ عسرت کا ذکر میں دانستہ چھوڑتا ہوں لیکن ان کی خودداری کا یہ حال ہے کہ اس کے سامنے وہ اپنے گھر بار کو بھی داؤ پر لگادیتے ہیں، کئی بار تو خیر چھوڑیے… خیر حقانی صاحب کی خودداری عسرت کی کھیون ہار ہے یا عسرت ہی خودداری کی بنیاد اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے، ویسے بھی ان دونوں کا صدیوں پرانا دوستانہ اور مضبوط رشتہ ہے۔
دیوبندمیں رہتے ہوئے اور حقانی صاحب سے ملاقات سے قبل ان کے بارے میں بڑی ایسی ویسی باتیں سنا کرتا تھا، حقانی ٹیڑھا ہے، بے دین ہے، بھٹکا ہوا ہے،باغی ہے۔ بعض احباب سے یہ بھی سنا کہ حقانی القاسمی کو نماز سے تو مطلب نہیں ہے،البتہ مصلیٰ پہ بیٹھ کر گھنٹوں تلاوت و ذکر میں مشغول رہتے ضرور دیکھا گیا ہے، لیکن جب ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی تواسی مصاحبے میں ان کے انداز گفتگو اور طرز ِ نشست و برخاست سے ہی بہت سی شکایات کافور ہوگئیں۔ 2009-10سے آج تک برابر ان سے ملاقات رہی اور ناچیز پر ان کی بزرگانہ شفقت روزافزوں ہے لیکن اس دس سالہ عرصے میں میں نے انھیں تلاوت کرتا ہوا بھی پایا، ساتھ میں نماز بھی پڑھی ہے اور بچوں کو دعائیں گنگناتے ہوئے بھی سنا۔
سچے پکے مسلمان کے اندر پانچ بنیادی عناصر: ایمانیات، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور معاشرت، کی یکجائی از حد ضروری ہے۔ حقانی ایک آدھ عنصر میں ضرور کمزور ہو سکتے ہیں لیکن اکثر میں وہ بہت ہی ٹھوس اور مضبوط ہیں بطور ِ خاص اخلاقیات میں وہ بڑے بڑے نام نہاد دھرم گروؤں اور پیروں سے بھی آگے نظر آتے ہیں۔ پہلی ہی ملاقات میں ان کے اعلیٰ اخلاق کی حرارت سے میری ساری بد گمانیاں پگھل گئیں۔
ان کی شخصیت کی تشکیل ایسے عناصر سے ہوئی ہے جہاں بڑے چھوٹے اور اپنے پرائے کا امتیازمحو ہوجاتاہے۔ وہ معمولی سے معمولی طالب ِ علم سے بھی غیر معمولی انداز میں ملتے ہیں۔ وہ پوری کشادہ دلی کے ساتھ کسی کی بھی علمی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں خاص طور پر عصری جامعات کے ریسرچ اسکالروں کی علمی و تحقیقی رہنمائی کو وسیلہ ئ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں، اس عمل کے لیے کئی بار انھیں اپنے ضروری کاموں کو پیچھے کرنا اور نقصان بھی اٹھانا پڑجاتا ہے۔ حقانی دربار ایسا ہے کہ جو بھی وہاں حاضر ہوتا ہے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، کوئی ادب کا سبو، کوئی صراحی، کوئی شیشہ تو کوئی جام لے کر ہی واپس ہوتا ہے۔
حقانی کی مہمان نوازی بھی قابل ِ رشک ہے۔ معمولی ذریعہ ئ آمدنی کے باوجود انتہائی خندہ روئی اور پورے خلوص و محبت کے ساتھ وہ اپنے مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں اور بے تکلف ماحضر پیش کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں حقانی صاحب سے زیادہ نزہت بھابھی کی محبت، مروت اور خلوص سزاوارِ تشکر ہے۔
حقانی کا دل کینے سے پاک، زبان شکوہ و شکایت سے گریزاں اور دماغ تعمیری سوچ کا حامل ہے۔ و ہ کسی سے دشمنی نہیں رکھتے، ہاں جو دل کا صاف اور بناوٹ سے دور ہوتا ہے وہ ان کے دل کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ سننے میں آتا ہے کہ حقانی کی اسی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بہت سے بزرگانِ ادب نے انھیں خوب بلیک میل کیا بلکہ ان کی ادبی اڑن طشتری پر چڑھ کر کئی لوگوں نے بلندی بھی حاصل کی۔
کئی پروفیسروں اور نقادوں کو حقانی کی قد آوری کے سامنے سرنگوں ہوتے اور تنقیدی عظمتوں کو سلام کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ ادب کے نئے نئے جزیروں کی تلاش میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہیں۔ حقانی مسائل ِ ادب و تحقیق اور تنقید و تخلیق میں شب و روز مستغرق رہتے ہیں، انھیں تحقیق و ادب کا امام محمد کہا جاسکتا ہے، معاصراردو ادب میں ان کے بہت سے تنقیدی استنباطات اور تحقیقی مجتَہدات ہیں جو بڑے روشن اور روشنی بخش ہیں۔ انھیں دور ِ حاضر کے تخلیقی تنقید کی خانقاہ کا مسند نشیں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
دنیا میں بہت سے سخن ور، سخن دان،سخن شناس اور ادیب و شاعر و نقاد ہیں لیکن حقانی القاسمی کا ہے ’اندازِ بیاں‘ اور… در اصل پتھر کا سینہ چاک کرکے نکلنے والے سبز انکور کانام حقانی القاسمی ہے۔ وہ اردو ادب کے بو حنیفہ و غزالی ضرور ہیں لیکن اپنے انداز و ادا میں وہ مقلد کس کے ہیں یا ہیں بھی کہ نہیں، اس کا پتا لگانا مشکل ہے۔ حقانی القاسمی جہادِ زندگانی ہی میں فتحیابی کے قائل ہیں۔ انھیں پھول سے انس کم اور کانٹوں سے لگاؤ زیادہ ہے۔ کیوں کہ ہر لمحہ پھول کو مرجھانے کا خوف بھی دامن گیر رہتا ہے اور انجماد اس کا خاصہ بھی جب کہ کانٹے کو ذبول کا خوف بھی نہیں ہے اور وہ متحرک زندگی کا استعارہ بھی ہے۔
حقانی القاسمی کوکیا نام دیا جائے؟ جب ان کے فن اور حذاقت کی بلندیوں کی طرف نگاہ کر تے ہیں تو انھیں اردو ادب کا سکندر کہنے کو جی چاہتا ہے لیکن دوسری جانب جب ان کے سراپا پر نظر پڑتی ہے تو درویشِ زمانہ کے کئی نام ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگتے ہیں۔
بے ’م‘ کے مسالے سے کوئی کہہ دے کہ حقانی چھوٹا ہے نہ راستے کا ڈھیلا؛وہ پتھر ہے بلکہ پتھر ہی نہیں؛حقانی ایک پہاڑ کا نام ہے،تنگ ظرفوں کو چاہیے کہ لوہار سے کہہ کر اپنا ظرف بڑھوا لیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں