95

چوکیدار کی چوری اور سینہ زوری


عبدالعزیز
نریندر مودی کو گجرات کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے ملک میں کوئی شہرت حاصل نہیں تھی اور نہ ان کو کوئی بخوبی جانتا تھا۔ ایک دو بار ایل کے ایڈوانی کی اس رتھ یاتراؤں میں شامل تھے۔ گودھرا ٹرین سانحہ اور گجرات کا خونریز فساد نریندر مودی کی شہرت کا سب سے بڑا سبب بنا۔ 2002ء میں گجرات کے فساد میں مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ سے مودی راتوں رات شہرت کے بام عروج پر پہنچ گئے اور آر ایس ایس کی آنکھوں کے تارا ہوگئے۔ آر ایس ایس کو ایک ایسے آدمی کی تلاش تھی جو مسلمانوں کی دشمنی اور عناد میں ساری حدیں توڑ سکتا ہو۔ سنگھ پریوار کو یہ کردار مودی کی شخصیت میں نمایاں طور پر نظر آئی۔ جب ایل کے ایڈوانی کی فرقہ پرستی اور مسلمان دشمنی ان کو وزیر اعظم کے عہدے تک نہیں پہنچا سکی تو 2014ء میں آر ایس ایس کی نظر انتخاب نریندر مودی پر پڑی۔ اس کے سربراہوں نے بی جے پی کی قیادت کو مجبور یا مائل کیا کہ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا جائے۔ ایل کے ایڈوانی اور بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈران نے مودی کی امیدواری کی مخالفت کی مگر آر ایس ایس کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ بی جے پی کے ان لیڈروں کا بس نہ چلا۔ نریندر مودی وزیر اعظم کیلئے بی جے پی کے امیدوار ہوئے۔ انھیں ہندستان کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ کتنے بڑے فرقہ پرست اور اقلیت دشمن ہیں۔ یہ چیز ان کے چہرے اور شخصیت سے جھلکتی تھی۔ اس کے ساتھ جس کی اور ضرورت تھی اور جس کے سہارے وہ الیکشن میں کامیاب ہوسکتے تھے، اس کیلئے ایسے نعروں کا ایجاد کیا گیا اور ایسی پالیسی مرتب کی گئی جن کے سہارے وہ کامیاب ہوسکتے تھے۔
”سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘، ’ہندستان پہلے‘، ’ڈیجیٹل انڈیا‘، ’میک اِن انڈیا‘، ’مینی مم گورنمنٹ میکسی مم گورننس‘(Minimum Government Maximum Governance)، ’اچھے دن آئیں گے“ اس طرح کے بہت سے نعروں کی مدد اور ڈیولپمنٹ کی پالیسی اور بے حساب وعدوں (مثلاً ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ جو کالا دھن سے آئے گا ڈال دیا جائے گا۔ ہر سال دو کروڑ نوکریاں بے روزگاروں کو مہیا کی جائیں گی) سے عوام کو ایسا سنہرا سپنا دکھایا گیا کہ عوام گمراہ ہوئے بغیر نہیں رہے۔ وزیر اعظم ہونے کے بعد اپنے آپ کو کبھی چائے والا، کبھی چوکیدار، کبھی پردھان سیوک بناکر پیش کرتے رہے۔ چوکیداری کا جو معاملہ تھا وہ کچھ اس طرح ہوا کہ آج تک ان کا پیچھا چھوڑ نہیں رہا ہے۔ راہل گاندھی نے ”چوکیدار چور ہے“ کا شور اس قدر زور سے کیا کہ پورے ملک میں ’چوکیدار چور ہے‘ کی آوز گونج اٹھی۔ اس داغ کو مٹانے کیلئے چوکیدارنے اپنے تمام رفقائے کار کو اپنے نام کے ساتھ ’چوکیدار‘ چسپاں کرنے کیلئے زور زبردستی راضی کرلیا۔ لیکن وجیہ مالیا، للت مودی، نیرو مودی، میہول چوکسی ملکی بینکوں اور دیگر ذرائع سے کروڑوں اربوں کی رقم لے کر ملک سے فرار ہوگئے۔ چوکیدار چوکیداری کے اس داغ کو مٹا نہ سکا تھا کہ رافیل جنگی طیارے کا گھوٹالہ بھی اس کیلئے وبالِ جان ثابت ہوا۔ ان وجوہات سے چوکیدار کی چوری ازہر من الشمس ہوگئی۔ چوکیدار نے لاکھ جتن کیا مگر اسے مٹا نہ سکا۔ الیکشن کا موسم آیا جب بھی یہ چوکیدار کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ پلوامہ سانحہ اور بالا کوٹ ایئر اسٹرائیک یقینا نریندر مودی کیلئے ایک سہارا بنا۔ چوکیدار کی چوری بمقابلہ ایئر اسٹرائیک ابھی تک جاری ہے۔
چوکیدار کی چوری ان لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں ہے جو فرقہ پرستی کے نشے میں دھت ہیں لیکن جو لوگ نشے میں نہیں ہیں حقیقت پسند اور انصاف پسند ہیں ان کے نزدیک چوکیدار کی چوری عیاں ہوگئی۔ چوکیدار اس معاملے میں سینہ زوری سے کام لے رہا ہے۔ سینہ زوری یہ ہے کہ جو لوگ اس کی طرف انگلی اٹھا رہے ہیں چوکیدا ر ان کا منہ بند کرنے کیلئے انھیں نہ صرف چور کہہ رہا ہے بلکہ سرکاری ادارے ای ڈی کے ذریعے ان پر چھاپے ڈلواکر ان کا منہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ الیکشن ایک ایسا موسم ہوتا ہے جس میں کسی کا منہ بند کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب کوئی شخص چوری کرتا ہے اور سینہ زوری دکھاتا ہے تو وہ جھوٹا بھی ہوتا ہے۔ چوری اور جھوٹ کی وجہ سے اس کی جہالت اور لاعلمی طشت از بام ہوجاتی ہے۔
مودی نے جب تاریخ کا کوئی واقعہ بیان کیا یا مذہب کے کسی واقعہ کو پیش کیا تو ان کی جہالت سامنے آئی۔ مثلاً جب وہ بہار میں انتخابی مہم کے دوران جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکندر اعظم جب بہار پہنچے تو بہاریوں نے ان کو مار بھگایا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سکندر اعظم بہار تک پہنچ نہیں سکے اور ان کو ہندستان کے سرحدی علاقے سے اپنے ملک واپس ہونا پڑا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جس سے ان کی لاعلمی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ بہت سے مقامات پر انھوں نے سائنسی علم بتانے کی کوشش کی اور بتایا کہ پلاسٹک سرجری ہندو سنسکرتی کی دین ہے۔ ان کا اشارہ گنیش گنپتی کی طرف تھا۔ اس طرح بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جس سے مودی کی جہالت اور لاعلمی کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے۔ گزشتہ روز مغربی بنگال میں ایک انتخابی جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے نہایت سفید جھوٹ بول کر اپنے جھوٹے ہونے کا بھرپور ثبوت پیش کیا۔ انھوں نے کہاکہ ترنمول کانگریس کے چالیس ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں۔ 23مئی کے بعد سب کے سب ترنمول کانگریس چھوڑ دیں گے۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ جس کو وہ چھپا نہیں سکتے۔ دوسری چیز جسے ہارس ٹریڈنگ کہتے ہیں اس کیلئے اپنی پارٹی کو اکسا رہے ہیں۔ ایسا شخص آج ہمارے ملک کا وزیر اعظم ہے۔ جو نہ علمی دیانت سے کوئی واسطہ رکھتا ہے، نہ سچائی سے کوئی رشتہ ہے اور نہ آئین اور دستور کا لحاظ ہے اور نہ ہی بھائی چارہ کے جذبے سے کوئی لگاؤ ہے۔
یہ ملک کی کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ اب بھی بہت سے لوگ ایسے شخص کی حمایت میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ مودی اور سنگھ پریوار کے چہرے پر رہا سہا مکھوٹا تھا وہ بھی اتر گیا۔ اسے اب یوگی، پرگیہ کے چہرے سے ساری دنیا دیکھنے میں کامیاب ہوگئی۔ نریندر مودی کی جس پارٹی یا جماعت میں تربیت ہوئی ہے وہ جمہوریت سے کہیں زیادہ دہشت گردی پر یقین رکھتی ہے۔ دیش بھکتی،رام بھکتی، دھرم بھکتی اس سب کی قلعی پرگیہ ٹھاکر نے یہ بیان دے کر کھول دی ہے کہ ملک کا ہیرو ہیمنت کرکرے اس کے سراپ (بد دعا) سے اس کی جان چلی گئی۔ چوکیدار کی چوری اور سینہ زوری اور جھوٹ سب عیاں ہوچکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سے ان کا گراف کتنا نیچے گرتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں