48

چند باتیں ” گناہوں کی کھیتی “کے حوالے سے


ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
نئی دہلی

ابو الکلام رحمانی صاحب پیشے سے معلم ہیں، البتہ اردو صحافت سے بھی ان کی گہری وابستگی رہی ہے ، اسی کے ساتھ ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف سے بھی ان کا تعلق استوار رہا ۔ رحمانی صاحب کی تحقیق و تجزیہ اور انشائی ادب پر سات کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ اس وقت ان کے 23افسانوں کا مجموعہ ’ گناہ کی کھیتی ‘ میرے سامنے ہے ۔ افسانہ نگار نے اپنے گرد و پیش پھیلی سماجی نا ہمواریوں اور مذہب و سیاست کے چولے میں ملبوس دو رنگی چالوں کو بطورخاص اپنی کہانیوں میں سمونے کی کوشش کی ہے ۔ ذیل میں ان کے جملہ افسانوں کا ایک سرسری تجزیہ پیش ہے ۔
’ ہوئے مر کے ہم جو رسوا ‘ مجموعے کا پہلا افسانہ ہے ۔ اس کہانی میں تمثیلی پیرایے میں تقسیم ِ ملک کے کرب کا اظہار کیا گیا ہے۔ ’ نظروں کے دریچے میں نوجوانی کے الڑھ پنے کو بتایا گیا ہے ۔ ’خون کے رشتے ‘ میں جدید و قدیم تہذیبوں کا تصادم دکھایا گیا ہے ۔ ’گناہ کی کھیتی ‘ میں ایک سماجی حقیقت کو واشگاف کیا گیا ہے کہ ایک رئیس زادہ ایک غریب لڑکی کی عزت سے کس قدر کھلواڑ کرتا ہے اور اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے؛ یہاں تک کہ لڑکی کو ماں بناکر کلنک کا ٹیکا بھی اس کے ماتھے پہ لگا دیتا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنی باضابطہ شادی بھی کر لیتا ہے لیکن دو بچوں کی ماں بننے کے با وجود وہ غریب کنواری ہی رہتی ہے ۔ اس نا انصافی کے خلاف نہ کوئی ہندو کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مسلمان ، نہ کسی ایماندار و مالدار کو اس کی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی دیندار کو ۔ افسانہ نگار ایک سوال قائم کر کے اپنی کہانی ختم کرتا ہے کہ ” آخر اس میں قصور کس کا ہے ؟ زہرہ کا یا افسر علی کا یا پورے سماج اور معاشرے کا ؟۔ ’ لا وارث ‘ میں بھی بڑے ہی لطیف انداز میں تحفظ ِ آبرو کے نام پر بے آبروئی کا قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ ’ مہر فاطمی ‘ میں ان صاحبان ِ جبہ و دستار کو بے لباس کیا گیا ہے جو گفتار کے تو بڑے غازی ہوتے ہیں مگر کردار کی غازیت میں ان کی سطح صفر ہوتی ہے ۔ جہیز کی لعنت پر اس میں گفتگو کی گئی ہے ۔ ’ جنم جنم کے پھیرے ‘ میں سرسری ہی سہی تانیثیت کا راگ چھیڑا گیا ہے اور افسانہ نگار نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مرد اساس معاشرے میں عورتوں نے جب جب اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہے تب تب اس کی قیمت انھیں اپنی جانوں کی بھینٹ دے کر چکانی پڑی ہے۔ ’ افسانہ لکھ رہی ہوں ! ‘ دیگر افسانوں کے مقابلے ذرا طویل ہے اور بنت بہت ٹھوس ہے ۔ اس میں بھی جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی حوا کی ایک بے بس بیٹی کا المناک قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ ’تماشہ ‘ میں آفات سماوی کے وقت مدد کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایسے مواقع پر ایک گروہ کام کم کرتا ہے اور اس کی آڑ میں لیڈر بننے کی کوشش زیادہ کرتا ہے لیکن دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو خالص اللہ کے لیے اللہ کے بندوں کی مدد کرتا ہے ، اس کے سامنے کوئی ہندو ہوتا ہے نہ کوئی مسلمان ، بس انسانی رشتے کی بنا پر وہ پورے خلوص اور تن من دھن کے ساتھ دوسرے انسان کی خدمت کرتا ہے ۔ ’ پُنر جنم ‘ افسانے کے علاوہ سب کچھ ہے ۔ اسے ایک انشائی مضمون یا رپورتاژ کے زمرے میں بھی رکھا جا سکتا ہے تاہم اسے افسانہ ماننے سے میرا اشہب ِ قلم منکر ہے ؛ ہاں اسے اردو زبان کی انتہائی البیلی اور اچھوتی سوانح عمری کا نام دیا جا سکتا ہے ۔’ سرخ سویرا ‘ میں بنگال کی اشتراکی حکومت کی منافقت کو بیان کیا گیا ہے ۔ فنی لحاظ سے یہ افسانہ انتہائی عمدہ اور قابل مطالعہ ہے ۔پلاٹ گٹھاہوا ، مکالمہ چست اور کہانی کا اٹھان فطری ہے ۔ ’میں اور تم ‘ میں انتہائی سرسری طور پر اشتراکیت اور مذہب کا ٹکراﺅ دکھایا گیا ہے ۔ ’ بٹوارہ ‘ اس کہانی میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غلط فہمی سے کس طرح معمولی چنگاری شعلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور پوری آبادی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ افسانہ اچھا ہے لیکن اسراف ِ الفاظ قدرے اکتاہٹ کا باعث ہے ۔ ’ دھوپ چھاﺅں ‘ میں ایک مختصر مگر پاکیزہ محبت کا بیان ہے ۔ ’ آئینہ ‘ میں دھرم پریورتن کے نام پر ہندو ﺅں اور مسلمانوں کو ٹھگنے والے پاکھنڈیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے ۔ ’ اور جب نقاب اٹھ گیا ‘ میں دو ایسے شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے ایک بظاہر انتہائی شریف النفس اور دوسرا رذیل دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت اس کے بر عکس تھا جس کا پردہ بہت بعد میں فاش ہوا اس لیے ہر چمکدار شئی سونا ہوجائے ضروری نہیں ۔ ’ خلیج ‘ میں فیملی پلاننگ پر روشنی ڈالی گئی ہے ، یہ عمل کس دھرم میں جائز ہے اور کس میں ناجائز ، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن جیتے جی بچوں کو بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے چھوڑ دینا تو کہیں بھی جائز نہیں ہے ۔ ’ میخانے سے مسجد تک ‘ میں بچوں کی بے جا حمایت اور مسجد جیسی پاکیزہ جگہ کا نماز کے علاوہ محض استنجا وغیرہ کے لیے غلط استعمال کو بتایا گیا ہے ۔ ’ ریزہ ریزہ زندگی ‘ جدیدیت سے متا ¿ثر ایک علامتی کہانی ہے۔ نہ سمجھے خدا کرے کوئی کچھ ۔ ’ سراب ‘ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت اور مجبوری میں کیسی حسین و جمیل اور پڑھی لکھی لڑکی جاہل لڑکے کی بھیٹ چڑھ جاتی ہے ۔ ’ مقدمہ ‘ یہ ایک ڈرامائی افسانہ یا ڈراما ہی ہے ، اس میں کاتب ِ تقدیر کا ایک ماورائی دربار لگایا گیا ہے اور ایک بادشاہ سے اس کی سلطنت کے بارے میں بازپرس ہو رہی ہے اور نظام ِ مصطفی کے قیام کی کوششوں کی وجہ سے اسے شہیدوں کا درجہ عطا کیا جاتا ہے ۔ شاید جنرل ضیاءالحق کی طرف اشارہ ہے ۔ ’ میں بھی صاحب ِ کتاب ہوا ‘ اس مجموعے کی یہ سب سے لمبی تحریر ہے ، اسے بھی افسانہ کے بجائے انشائیے کا نام دیا جائے گا ۔ ادبی دنیا میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اسے بڑی جرأت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ یہ انشائیہ محض ایک انشائیہ نہیں ؛ معاصر ادبی منظر نامے پر ایک تازیانہ بھی ہے ۔ ’ جھوٹ کا انعام ‘ افسانہ نگار کی یہ پہلی کہانی ہے جو ماہانامہ ” مسرت “ پٹنہ ، مارچ 1967میں شائع ہوئی تھی ، یہ ایک قدیم روایتی کہانی سے ماخوذہے اور بقول افسانہ نگار یہی کہانی بعد میں ان کی افسانہ نگاری کا زینہ ثابت ہوئی۔
ان افسانوں میں ’ لا وارث ‘ اور ’میں اور تم ‘ کو افسانے کے بجائے افسانچے کے زمرے میں رکھنا چاہیے ، اسی طرح ’ پُنر جنم ‘ اور میں بھی صاحب ِ کتاب ہوا ‘کو افسانے کی جگہ انشائیہ کہنا چاہیے ۔ مجموعی طور پر ان کہانیوں کا کینوس بہت وسیع نہیں ہے تاہم جو بات بھی کہی گئی ہے وہ بڑے سلیقے سے کہی گئی ہے ۔ ابو الکلام رحمانی کے افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت طویل نہیں ہوتے اور قاری بآسانی اسے پڑھ لیتا ہے بلکہ زبان کی شیرینی ایسی ہوتی ہے کہ کہانی خود کو پڑھوا لیتی ہے اور اختتام پر قاری کو ایک گونہ تشنگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے ۔ان کہانیوں کا سب سے بڑا امتیاز ان کی تخلیقی زبان ہے ۔ زبان ایسی مانوس اور شستہ و رواں ہے کہ کہیں جھول محسوس نہیں ہوتا ۔ افسانے قابل مطالعہ اور افسانہ نگار لائق مبارکباد ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں