44

چاہیے نور تو قرآں کو نگاہوں سے لگا

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 96

فضیل احمد ناصری

پہلے تو مالک و مختار سے تنہائی کر
بعد ازاں قوم کو اللّٰہ کا سودائی کر

حسن خود آئیگا اے قیس قدمبوسی کو
عشق پر سان چڑھا! لالۂ صحرائی کر

ہر گھڑی آئنہ بینی ترے شایاں تو نہیں
جانِ یعقوب ہے تو، تو نہ زلیخائی کر

ہے اسی میں ترے ایماں کا تحفظ اے دل
اپنے معبود سے مضبوط شناسائی کر

خلوت و ظلمتِ شب کا بھی مداوا تو ہے
شمعِ امّید جلا ، انجمن آرائی کر

چاہیے نور تو قرآں کو نگاہوں سے لگا
تیز تر آج ہی پھر قوتِ بینائی کر

تاکہ ہر فرد میں خدمات کا جذبہ ابھرے
اپنے خُردوں کی ذرا تو بھی پذیرائی کر

آستیں کھول! دکھا دے یدِ بیضا سب کو
اپنے انداز کو پھر شعلۂ سینائی کر

چھوڑدے مجھکو مرے حال پہ، لڑنے دے مجھے
تو قلم کار ہے ، جا ! قافیہ پیمائی کر

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں