75

چائے کی کہانی

فیضان الحق

یقین کے ساتھ یہ تو نہیں کہ سکتا کہ پہلے پہل گڑ کی چائے نصیب ہوئی یا شکر کی۔ البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ بچپن میں گڑ کی چائےخوب پینے کو ملی۔ ٹھنڈ کے موسم میں دادی اماں بہت جلد اٹھ جایا کرتی تھیں اور آج تک ان کا یہی معمول ہے۔ اس وقت ہم بچے اپنے اپنے کمروں میں رضائی کے اندر دبکے ہوئے ہوتے تھے۔ امی آ کر خبر دیتیں کہ باہر دادی اماں نے الاؤ جلا دیا ہے۔ ہم بستر سے اٹھتے اور منھ ہاتھ دھل کر سیدھے الاؤ پر پہنچ جاتے، وہیں بیٹھے بیٹھے چاۓ آجاتی، گرما گرم چائے، شیشے کے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں گندمی رنگ کی چائےـ گلاس کے منہ سے بھاپ یوں نکل رہی ہوتی جیسے الاؤ کے شعلے لہرا رہے ہیں۔ بچپن کی بیچینی سکون نہ لینے دیتی اور کبھی کبھی تیزی سے گلاس میں منھ لگا دیتے، ہونٹ جل جاتی، تواپنا سا منہ لے کے رہ جاتےـ
چاۓ کبھی شکر تو کبھی گڑ کی بنی ہوتی۔ مجھے گڑ کی چائے بھی اچھی لگتی؛کیونکہ اس کا ایک خاص ذائقہ ہوتا تھا۔ شکر تو گل کر پانی ہو جاتی ہے؛لیکن گڑ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ وہ چائےمیں گھل کر چاۓ کو گاڑھا کر دیتا ہے۔ اور پھر تو ذائقہ بھی گاڑھا ہو جاتا تھا۔ کتنی صحیح بات کہی ہے چچا غالب نے:
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی!
ارے ہاں! اس شعر سے یاد آیا۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے،چائے کے عاشق زار، شوقین بسیار، چائے سازی کے ہنر میں ماہر، تمام باریکیوں سے آشنا، شکر، پانی، چاۓ تینوں کی مقدار کے پارکھ امام الہند ابوالکلام آزاد کو۔ جنہوں نے پہلی بار اس طبع نازک پر چائے کی اہمیت و افادیت کا سکہ بٹھایا۔ بات تقریبا سات آٹھ سال پرانی ہے جب ‘غبار خاطر’ ہاتھ لگی۔ کتاب کیا ہے، سحر ہے۔ ایک ایک جملہ حفظ کرنے کے لائق اور ایک لفظ قابل ستائش۔ مطالعے میں ایسا غرق ہوا کہ کھانے پینے کا خیال نہ آیا۔ بالآخر وہاں پہنچے جہاں کا ذکر مقصود ہے۔ یعنی چاۓ کا بیان۔ قسم بخدا چائے کو اتنا خوبصورت کسی کتاب میں آج تک نہیں پایا۔ بھول گیا کیتلی میں چڑھی چائے۔ اب چاۓ تو بس وہ تھی، جس کا ذکر مولانا نے کیا تھا۔ چاۓ پیتے پیتے مولانا نے سگریٹ سلگا لی اور کش لیتے ہوئے فرمایا:
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
میں کہہ نہیں سکتا مجھ پر اس وقت کیا کیفیت طاری ہوئی۔ کتاب بند کر دی اور چائےکی دکان پر پہنچ گیا۔
میرے علم کے مطابق وہ چائے کی سب سے اچھی دکان تھی۔ ایک کپ چائے لی اور میز پر بیٹھ گیا۔ ایک سپ ماری ہی تھی کہ غالب کا وہی شعر ”لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی” ذہن میں گھوم گیا۔ مولانا نے تو سگریٹ سے یہ مسئلہ حل کر لیا تھا۔ میں کیا کرتا؟ سگریٹ کو تو کبھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ لیکن لطافت کے ساتھ کثافت والے اس ذائقے کو بھی چکھنا ضروری تھا۔ ایک لمحے ٹھہر گیا پھر اٹھا اور دو نمکین بسکٹ نکالے۔ اب دور شروع ہوا۔ ایک سپ چاۓ۔ ایک بائٹ بسکٹ۔ آخر کسی حد تک کثافت کے ساتھ لطافت کا مزہ حاصل کرتے ہوئے طبع ناداں کو سمجھا لیا۔
یہ چائے شکر کی تھی جو دودھ پانی اور چائے ملا کر تیار کی گئی تھی۔ مولانا تو دودھ کی چائے کے قائل ہی نہ تھے۔ ان کی پسند چینی چاۓ تھی۔ جسے آفتاب کی شعاعوں کی مانند پگھلا کر فنجان میں ڈال دیتے تھے۔ مجھے بھی اس بغیر دودھ کی چائے کا چسکا لگا۔پتہ کیا تو معلوم ہوا اسے ہم ہندوستانی گورے لوگ ” کالی چائے” کے نام سے پکارتے ہیں۔ یقینا وہ شخص قابل داد ہے جس نے نیمو کی چاۓ کیلئے یہ نام تجویز کیا۔ ویسے بھی ہندوستانی لیمو چاۓ دوسرا رنگ کہاں اختیار کر پاتی ہے۔ بے چاری کی قسمت میں ہی لکھا ہے سیاہ ہو جانا۔ خوش قسمت تھے مولانا صاحب، جو انہیں آج کی بغیر دودھ کی چاۓ نہیں ملی، ورنہ شاید وہ اپنے شوق پر از سر نو غور فرماتے۔
ہاں اس نسل نے ایک ترقی یہ ضرور حاصل کی کہ چائے کی بے شمار قسمیں ایجاد کر لیں۔ لیمو چائے، الائچی چاۓ، ہری چائے، کشمیری چائے، دم چائےوغیرہ وغیرہ۔ مگر ان سب میں چائے کی ایک قسم ایسی ہے جس کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ وہ ہے ڈپ ٹی۔ اردو میں کہئے تو ڈبونے والی چاۓ۔ مجھے نہیں اندازہ حضرت مولانا کو یہ چائے کتنی پسند آتی، مگر اتنا ضرور ہے کہ ان کی نزاکت طبع اس چائے کو تیار کرنے کا انداز ضرور پسند فرماتی۔ چائے کی کوالٹی پر مت جائیے، انداز دیکھیئے۔ ایک کپ ہے۔ دودھ سے بھرا ہوا،جس میں پانی کی مقدار دکاندار کے اعتبار سے گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، پھر ایک پیالی میں شکرپارے ہیں۔ خوبصورت نوک دار چمٹی ہے۔ حسب خواہش شکر پارے اٹھا کر کپ میں ڈالئے۔ پھر ایک چھوٹی سی چمچ سے ہلائیے۔ اب چاۓ کی ایک پیکٹ لیجئے اور آرام سے کپ میں چھوڑ دیجئے۔ ٹی بیگ خود بخود دھنستا چلا جائےگا۔ آپ ڈوری پکڑ لیجئے۔ اور پھر ہلکے ہاتھوں سے اوپر نیچے کیجئے۔ اب دیکھئے چاۓ کی نزاکت۔ ذرا سا دھکا لگے تو فورا اچھل کر کپ سے باہر۔ ان تمام کاروائیوں سے گزر کر اب ٹی بیگ نکال کر باہر کر دیجئے اور پھر ہونٹوں سے لگا کر چسکی لیجئے۔ میں نہیں کہوں گا کہ آپ ذائقہ سے بالکل جھوم اٹھے ہیں؛ کیونکہ یہ موقع ہندستان میں کم ہی دکانوں پر میسر آتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے آپ اگلا سپ لینے پر بھی راضی نہ ہوں؛ لیکن آپ غور تو کیجئے، کس نزاکت سے یہ چاۓ آپ تک پہنچی ہے۔
اب مولانا صاحب خواہ مخواہ ہم پر خفا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے یہی ذائقہ ہے، تو کیوں نہیں گڑ کی چائے بنا کر پی لیتے۔ آپ کا خیال سر آنکھوں پر لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں حضرت والا! گستاخی معاف کیجئے گا۔ ہمارے عہد کی چائے ایسی ہی ہے، جہاں ڈول ڈال کر پانی نکالا جاتا ہے۔ مگر ڈول میں کیا نکلے، اس کی خبر کسی کو نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں