265

پیکرِ جمیل


مولانافضیل احمد ناصری القاسمی
پرسوں ہمارے درمیان سے حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈھوی بھی چلے گئے اور کل پیوندِ خاک بھی ہو گئے۔ آہ! زندگی بھی کس قدر بے اعتبار اور جسدِ عنصری کس درجہ ناقابلِ اعتماد ہے! وہ اس قدر جلد چلے جائیں گے، کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ان کی حیات کا قافلہ خراماں خراماں چل رہا تھا، اچانک یہ چلتی ہوئی زندگی پر بریک کیسا لگ گیا۔
مولانا کی پہلی زیارت:
اب مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں تو عجیب سا سناٹا محسوس ہو رہا ہے۔ ان کی باوقار گفتگو، بے پیچ خیال، بے لاگ تبصرے، صاف و صریح تکلم اب صرف یاد ہی آئے گا۔ ہمارے پاس اب یادوں کے علاوہ اور ہے ہی کیا، مگر یہ یادیں بھی کس قدر ناپائیدار ہیں، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔
مولانا کا نام میں نے پہلی بار کب سنا وہ تو مجھے یاد نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ میرے چہارم کا سال تھا۔ میں اس وقت مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ میں پڑھتا تھا۔ وہاں عربی چہارم میں اصولِ فقہ کی مشہور کتاب *نورالانوار* تھی۔ اردو شروحات پر اگرچہ سخت پابندی تھی، مگر بعض طلبہ چوری چھپے رکھتے تھے۔ انہیں میں ایک کتاب *قوت الاخیار* بھی تھی، جو نورالانوار کی تشریحات پر مشتمل تھی۔ اس پر میں نے مصنف کا نام دیکھا تو شرح کی خوبیوں نے ان کا نام ذہن میں بٹھا دیا۔ یہ 1995 تھا۔ پھر اگلے سال ہماری جماعت دیوبند آگئی۔
میں دیوبند پہونچا تو دونوں دارالعلوموں کے اساتذہ سے استفادے کی ٹھانی، تاہم دارالعلوم میں گھنٹے کی سخت پابندی کے سبب سے یہ ممکن نہ تھا، ہاں کبھی کبھار کوئی گھنٹہ خالی ہوتا تو میں دارالعلوم وقف چلا جاتا اور پسندیدہ شخصیات کے اسباق میں شرکت کرتا۔ وقف کے جن اکابر کے دروس سے میں نے استفاده کیا ان میں مولانا مرحوم بھی تھے جو قیامِ دارالعلوم وقف کے روزِ اول سے ہی وہاں تدریس کی مسند سنبھالے ہوئے تھے۔ پہلے دن مولانا کے سبق میں بیٹھا تو پتہ چلا کہ بیضاوی پڑھا رہے ہیں۔ بیضاوی فنِ تفسیر کی مشہور کتاب ہے اور اپنی دقتِ بیانی میں ضرب المثل۔ میں گرچہ عربی ششم میں تھا، مگر مولانا جس طرح درس دے رہے تھے، کتاب میرے پلے پڑ رہی تھی۔ یہ ان کی پہلی زیارت تھی۔ ایک دن باقاعدہ ان سے ملاقات کو ان کے گھر گیا تو مولانا بڑی محبت سے پیش آئے۔ میں نے قوت الاخیار کے لیے تحسینی کلمات کہے، تو مولانا مسکرائے۔ پھر میں ان سے پوچھا کہ حضرت! آپ کا *مکتبہ البلاغ* کہاں ہے؟ تو از راہِ تفنن فرمایا: میرے پیٹ میں۔ اس وقت تک مکتبہ البلاغ کا کوئی خارجی وجود نہیں تھا ۔
دوسری ملاقات:
طالب علمی کے دوران اساتذہ سے میری ملاقات بس برائے نام ہی رہی ہے۔ مجھے بڑا ڈر لگتا تھا، اس لیے حضرت شیخ عبدالحق اعظمیؒ کے سوا کسی کے پاس نہیں جاتا تھا ۔ شیخ صاحب میرے والد کے گہرے دوست تھے، اس لیے وہاں حاضری نسبتاﹰ آسان تھی، ورنہ دارالعلوم کے دیگر اساتذہ سے ملاقات کی ہمت نہ تھی، رہا وقف، تو میں وہاں زیرِ تعلیم ہی نہ تھا، لہذا مجالِ لقا کہاں!
جب میں بحیثیت مدرس جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند پہونچا تو اب ملاقاتیں عام ہو گئیں، ایک دن میں مسجدِ انور شاہ سے نکل رہا تھا کہ اچانک دیکھا کہ مولانا مرحوم مجھے یاد کر رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ میں نے آپ کا نام سنا تو دیکھنے کا شوق ہوا تھا، یہاں نماز پڑھنے کی غایت یہی ہے۔ میں شرمسار ہو گیا۔ کہاں ایک شارحِ فقہ و حدیث اور کہاں مجھ ایسا گم نام و بے نشان! بس یہی دوسری ملاقات تھی جو اس کے بعد مسلسل ملاقاتوں میں تبدیل ہو گئی۔ پھر تو یوں ہوا کہ کم و بیش روز ہی ملاقات ہوتی۔ میری رہائش دارالعلوم وقف کے بابِ انور شاہ کے پاس تھی اور وہ مکتبہ البلاغ میں پابندی سے بیٹھتے۔ جامعہ کو آتے جاتے آمنا سامنا ہو ہی جاتا۔ کبھی کبھار ان کے پاس بیٹھ بھی جاتا۔ ملاقات کا یہ وقت بعدِ عصر کا تھا۔
مجالسِ علمیہ:
ان کی مجلسوں میں بیٹھتا تو کچھ نہ کچھ لے کر اٹھتا تھا۔ بعض مسائل جو مطالعۂ کتب سے بھی سمجھ میں نہ آتے تھے ان کی مجلسوں میں خوب اچھی طرح سمجھ میں آجاتے۔ کبھی کبھار وہ مزاح بھی کر لیتے تھے اور اس میں بھی عجیب نکتے بیان کرتے۔ ایک دن ان کے پاس ابلے ہوئے انڈے آئے۔ کہنے لگے: چھیلا ہوا انڈا کبھی نہیں منگوانا چاہیے۔ اللہ نے کھانے پینے کی جتنی چیزیں بنائی ہیں، بالخصوص پھل۔ وہ سب کے سب ملفوف ہیں اور ان پر غلاف چڑھے ہوئے۔ حکمت یہ ہے کہ جو انسان کھائے وہ اسے خود چھیلے اور مسموم اثرات ظاہر ہونے سے پہلے ہی انہیں کھا لے۔ ایک دن بحث چل پڑی کہ سرکاری مدارس میں ملازمت کو پتہ نہیں کیوں، بہت مکروہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان مدارس کے اساتذہ بھی محنت ہی کی کمائی کھاتے ہیں ۔ مانا کہ وہاں امانت و دیانت اپنے جوبن پر نہیں، مگر کمائی تو بہر حال محنت ہی کی ہے۔ پھر کہنے لگے کہ بہت سے غیر سرکاری مدارس میں بھی تو امانت و دیانت مفقود ہے، پھر وہاں کی ملازمت ناجائز کیوں نہیں؟ یہ تو وہی ہوا ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺯﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﻮﺍ، ﻧﺘﯿﺠﺘﺎً ﻋﻮﺭﺕ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﺎﭼﺎﺭﻭﻧﺎﭼﺎﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ، ﺯﺍﻧﯽ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ، ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺯﻧﺎ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ” ﻋﺰﻝ ” ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﻠﻮﻕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ! ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻋﺰﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﺗﺎ؟ ﻋﺰﻝ ﺗﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ – ﭨﮭﯿﮏ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﻌﺾ ﻋﻠﻤﺎ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺍﻟﭩﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺭﺳﯿﺪﯾﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﭼﻨﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻓﺮﺿﯽ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﮨﻤﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﮮ ﮐﮧ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﺑﻮﺭﮈ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮯ ! ﺗﻮ ﺑﮯ ﺗﮑﻠﻒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻮﺭﮈ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ – ﺍﯾﮟ ﭼﮧ ﺑﻮﺍﻟﻌﺠﺒﯽ ﺳﺖ؟
میں نے ان کی علمی نشستوں سے ابتداءً بڑا فائدہ اٹھایا، لیکن جب میری رہائش گاہ تبدیل ہو گئی تو ملاقاتوں کا یہ سلسلہ کچھ ٹوٹ سا گیا، تاہم ہفتے میں دو تین بار دیدار تو ہو ہی جاتا تھا۔
امام التدریس:
مولانا شہرت کی جن بلندیوں پر تھے، ان کے طرزِ عمل سے ایسا کچھ جھلکتا نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ وہ نہ کسی سے مرعوب ہوتے تھے، نہ کسی کی دل شکنی یا ہجوِ ملیح کے خوگر، مگر عجب اور گھمنڈ ان کی زندگی میں نہیں تھا۔ مولانا کو جن دو باتوں نے چمکایا، وہ ان کی تدریس ہے اور شروحات۔ تدریس میں وہ انتہائی مہارت کے حامل تھے۔ مشکل سے مشکل عبارات ان کے سامنے آسان تر بن جاتیں۔ مقدمات اور سیاق و سباق اس طرح پیش کرتے کہ سبق از خود حل ہو جاتا۔ ان کی تدریس اور تفہیم کے پیشِ نظر انہیں بے تکلف *امام التدریس* کہا جا سکتا ہے۔ وہ 1970 میں دارالعلوم سے فارغ ہوئے اور 1977 سے 1982 تک دارالعلوم کے استاذ رہے، پھر تقسیم کے ناخوشگوار واقعے کے بعد دارالعلوم وقف سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں 2000 تک تدریسی خدمات انجام دیں، پھر 2000 سے تا حال دارالعلوم کے مدرس رہے۔ گویا تدریس کے 42 سال دارالعلوم اور دارالعلوم وقف میں گزرے۔ تدریس کا یہ سارا زمانہ نیک نامیوں اور حصولیابیوں میں گزرا۔
قبلہ نمائے شارحین:
مولانا کا ایک بڑا کارنامہ ان کی شروحات ہیں۔ یہی شروحات ان کی فتوحات کا بڑا ذریعہ بنیں۔ بے تکلف عرض ہے کہ نصابی کتب کے اردو شرح کی بنیاد اگرچہ ایک صدی پہلے پڑ چکی تھی، مگر اس میں تیزی حضرت مولانا حنیف گنگوہیؒ کی کاوشوں سے آئی۔ درسِ نظامی کی کوئی اہم کتاب ایسی نہیں، جسے انہوں نے چھوڑ دی ہو، حتی کہ ابو داؤد شریف پر بھی ان کی اردو تعلیقات آئیں، ان کی شروحات کا آنا تھا کہ اردو شروحات کا ایک نیا سلسلہ چل پڑا، تاہم یہ شرحیں بس ضروری اور مشکل مقامات کی تھیں، عبارات پر بالاستیعاب کلام کا رواج ابھی نہیں چلا تھا۔ ان کو یہ رنگ مولانا جمیل احمد سکروڈھویؒ نے دیا۔ شروحات کا ان کے قلم سے آنا تھا کہ ایک تہلکہ مچ گیا۔ اشرف الہدایہ کے نام سے ہدایہ کی ایسی شرح لکھی کہ چند ہی دنوں میں اس نے افسانوی شہرت حاصل کر لی۔ تب سے اب تک اس کے ہزاروں ایڈیشن نکل چکے ہیں اور مانگ ہے کہ بند نہیں ہوتی۔ یہ شرح تقریباﹰ ہر بڑے دینی مدرسے کی ضرورت بن گئی۔ آپ اردو دنیا کے کسی بھی مدرسے میں چلے جائیں، وہاں یہ کتاب ضرور ملے گی۔ اس کتاب نے مقبوليت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ پھر تو ان کا قلم چل پڑا اور نورالانوار کی شرح قوت الاخیار، حسامی کی شرح فیضِ سبحانی، مختصر المعانی کی شرح تکمیل الامانی اور اصول الشاشی کی شرح اجمل الحواشی کے نام سے لکھی، یہ ساری شرحیں متداول ہیں اور مقبولیت کی چوٹی پر براجمان۔ مولانا شکیل سیتاپوری صاحب کے ساتھ بیضاوی کی شرح التقریر الحاوی بھی لکھی اور طحاوی کی شرح درسِ طحاوی بھی۔ مولانا نے شرح کے جس طرز کی داغ بیل ڈالی، اس کے بعد وہی طرز رائج ہوا۔ نئی نسل کے تقریباﹰ سارے ہی مدرسین ان کے احسان سے زیرِ بار ہیں۔ یہ شروحات طلبہ ساز بھی بنیں اور مدرس ساز بھی۔
صبرِ جمیل کا صنم:
مولانا سے مجھے بڑی محبت تھی، اس کے پیچھے کئی اسباب تھے، ان میں ان کی قابلیت اور خدمات زیادہ نمایاں ہیں، جب کہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ میرے والدِ مرحوم کے ہم نام تھے، چنانچہ میں نے ایک مرتبہ ان سے یہ وجہِ محبت بیان کی تو بہت خوش ہوئے اور بشاشت خوب واضح نظر آئی۔
مولانا صبر کا پہاڑ تھے۔ بڑے بڑے حادثات بھی وہ ایسے جھیل جاتے تھے، جیسے کوئی انہونی ہوئی ہی نہیں۔ ایک مرتبہ ان کے گھر میں چوری ہوگئی اور لاکھوں کی اس کی نذر ہوئیں، تو اخبارات میں بھی اسے شائع کیا گیا۔ خبر پڑھ کر میں ان کے پاس گیا تو مسکرائے اور کہنے لگے: اچھا جی! آپ بھی تعزیت کے لیے ہی آئے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ جی خبر پاکر ہی آیا ہوں۔ فرمایا کہ: مال تو آتا جاتا ہی ہے، اس پر کیسا غم اور کیسی بے قراری!

*مرض الموت اور پہاڑ جیسا حوصلہ*

مولانا 1946 میں پیدا ہوئے اور کم و بیش 73 سال کی عمر پائی۔ عمر بھر ان کی صحت قابلِ رشک رہی۔ قریب ایک سال سے بیمار تھے اور یہی بیماری ان کی موت کا سبب بن گئی۔ اس مرض کے علاج نے ان کی داڑھی اور سر کے بال نوچ لیے۔ ایک دن میں ان کی عیادت کے لیے مکتبہ البلاغ گیا تو دیکھا کہ ان کی گھنی اور حسین داڑھی کی جگہ اب صرف دو چار بال ہیں۔ مجھے بڑا غم ہوا، میں نے خیریت معلوم کی تو کہنے لگے کہ اب مائل بہ صحت ہوں اور قدیم صورت جلد ہی بحال ہو جائے گی۔ گفتگو میں یقین کا نور اور اعتماد کا زور تھا۔ بیماری کا ڈر اور اس سے توحش و گھبراہٹ کا چہرے پر کوئی اثر نہ تھا۔ میں ان کے اس حوصلے کو دیکھ کر تھا اور زیرِ لب دعا خواں بھی کہ اے اللہ! اپنے اس جمیل بندے کا جمال واپس لوٹا دے۔

*ایک روشن چراغ تھا، نہ رہا*

یہ بیماری لگی تو اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ پندرہ دن قبل معلوم ہوا کہ بہت بیمار ہیں اور حالت غیر ہے، پھر چند دنوں کے بعد پتہ چلا کہ طبیعت اگرچہ اب بحالی کی طرف ہے، مگر تشویش ہنوز باقی ہے۔ پھر اگلے ہی چند دنوں کے بعد بعدِ ازِ عصر ان کی خبرِ وفات بھی سماعت سے ٹکرا گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں مقام عطا کرے۔
خبر سن کر آنکھوں کے سامنے ایک اندھیرا چھا گیا، مگر حکمِ الہی پر رضا کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔ اگلے دن 9 بجے صبح دارالعلوم کے احاطۂ مولسری میں قاری محمد عثمان منصور پوری صاحب مدظلہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جنازے میں بھیڑ حسبِ توقع ہی تھی، نماز کے بعد بالآخر وہی ہوا جو ہر مسلمان کے ساتھ پیش آنا ہے۔ جسدِ خاکی ہجومِ انسانی کو بمشکل چیرتا ہوا قبرستانِ قاسمی پہونچ گیا۔ قبر اکابرِ امت کے پہلو میں ایک بڑے درخت کی چھاؤں میں بنی۔ تدفین کے بعد میں نے قبر دیکھی تو یوں محسوس ہوا کہ ایک تھکا ہارا مسافر درخت کے سائے تلے مستی کی نیند سو رہا ہے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں