35

پیامِ سیرت

پیامِ سیرت
مصنف: فرید حبیب ندوی
صفحات: 200
قیمت: 140
طبع اول: ستمبر 2019
ناشر: امام بخاری ریسرچ اکیڈمی، علی گڑھ
مبصر: ابوفہد

26 ستمبر کو مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب کی صدارت میں ایک چھوٹا سا پروگرام مدرسہ سبیل السلام شاہین باغ، نیو دہلی میں رکھا گیا تھا ۔ یہ پروگرام مولانا فرید حبیب ندوی صاحب کی تازہ تصنیف ’’پیام سیرت‘‘ کی رسم اجراکے حوالے سے تھا۔مولانا فرید حبیب صاحب کی بے پناہ محبت اور اصراراور پھر مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب کی شرکت کے باعث میں نے بھی بالآخر ا س پروگرام میں شرکت کا پروگرام بنا ہی لیا۔ پروگرام الحمد للہ کافی اچھا رہا، منتظمین نے کافی محنت سے اس کے لیے تیاریاں کیں اور طلبہ نے بڑی دلجمعی اور دلچسپی کا ثبوت دیا۔ مولانا جنید الرحمان ندوی صاحب جو اس مدرسے کے ذمہ دار بھی ہیں ، ان کی موقع بہ قع تفصیلی گفتگو سے پتہ چل رہا تھا کہ انہوں نے اس پروگرام کے لیے خاصی تیاری کی ہے۔انہوں نے کتاب اور صاحب کتاب کا اچھا تعارف کرایا۔
مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب کی صدارتی تقریر جو تقریبا ایک گھنٹے کو محیط تھی، بہت ہی پرمغز اور دمدلل تھی، وہ تقریر اگر ریکارڈ کرکے قلم بند کر لی جاتی تو یہ طلبہ کے لیے بڑی کارآمدچیزبن جاتی ۔ اس میں سیرت کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو بھی تھی اور پھرچونکہ سامعین میں اکثر طلبہ ہی تھے تو ان کی ذہنی استعداد اور تربیتی وتعلیمی ضروریات کے پیش نظر مضمون نگاری کی اہمیت اور اس کی استعداد وتیاری کے حوالے سے بھی بہت مفید اور کارآمد باتیں مولانا کی صدارتی تقریری میں آگئی تھیں۔
زیر تبصرہ کتاب دراصل تصنیف کم ہے عقیدت ومحبت کا اظہار زیادہ ہے۔ قلم کا ر نے گویا ایک حدی خواں کا رول پلے کیا ہے ایک ایسے حدی خواں کا جو جذب ومستی کے کیف آور اور رنگین لمحات اور مناظر میں پوری طرح کھوگیا ہے اور وہ اپنی اسی کھوئی ہوئی کیفیت کے باعث فکر وفن پر ارتکازکرنے کے معاملے میں اعلیٰ وارفع پوزیشن میں آگیا ہے۔گرچہ اسے یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس نے فن کو اس کے تمام ابعاد اور تمام تر لوازمات کے ساتھ برتا ہے تاہم اس نے اپنے فن سے انصاف کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ اور اس کی کوشش کاحاصل یہ ہے کہ سیرت ِ رسولﷺ کے یہ واقعات نو نہالان قوم کے دلوں میں عشق ومحبت کے جذبات کو برانگیختہ کردیں۔ کیونکہ ’نقش ہیں سب ناتمام خون جگر بغیر‘۔
عشق ومحبت ہی دین وایمان کی بنیاد ہے، بقول اقبال ؒخون ِجگر یعنی محبت واخلاص پہلے ہے اور نقش یعنی کاوشیں اور اصول سب بعد میں ہیں۔ جذبۂ محبت کاوشوں کے لیے اسی طرح ہے جس طرح شمع کے تن میں تاگا ، انجن کے لیے آئیل اور بدن کے لیے روح۔
اس کتاب کے مطالعہ کے وقت کوئی بھی قاری اس بات کی شہادت دئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مصنف نے عناوین قائم کرنے میں بڑی مہارت اور ادبی ذوق کا ثبوت دیا ہے۔یہ عناوین ایک تو بہت دلچسپ بھی ہیں اور پھر مضمون سے پوری مطابقت بھی رکھتے ہیں۔عناوین کے بعد جو ایک چیز اور اہم ہے وہ مضمون کی اٹھان ہے، اس سے بہتر اٹھان شاید ہی کسی مضمون کی ہوسکے جو مصنف نے استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کا یہ بھی ایک وصف ہے کہ اس کے لیے سیرت ِ رسولﷺ سے جن واقعات کو لیا گیا ہے وہ مستند اور مشہور واقعات ہیں۔ اسی طرح مصنف نے ایسے جملےبناتے وقت، جو خاص حالات، ماحول اور جذبات واحساسات کے ترجمان ہیں، اس چیز کا بھی خاص خیال رکھا ہے کہ کوئی بھی جملہ یا بات خلاف واقعہ درج نہ ہونے پائے۔کہنے کو یہ معمولی بات ہوسکتی ہے مگر یہ کتاب جس اسلوب میں لکھی گئی ، اس میں ایسی رعایت رکھنا پانایقینی طور پر معمولی بات نہیں ہے۔
یہ کتاب خاص طور پر ان طلبۂ مدارس کے لیے بہت مفید ہے جو عربی درجات میں ابتدائی اور ثانویہ کے طالب علم ہیں۔ طلبہ اس کتاب سے نہ صرف رسول اللہﷺ کی زندگی کے بارے میں جانیں گے بلکہ حب رسولﷺ اور اس کے تقاضوں کو بھی پہچانیں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس سے زبان وبیان اور طرزِ اَداو اظہار بھی سیکھیں گے۔ویسے بھی تربیت کے میدان میں نوخیز اور معصوم ذہنوں کے لیے جوموضوع اور واقعات سب سے زیادہ مؤثر ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں وہ سیرت وسوانح کے ذیلی موضوعات اور ان کے مؤثر ودلپذیر واقعات ہیں اور جب یہ واقعات خیر البشرﷺ کے چیدہ و چنندہ واقعات ہوں تو پھر ان کی اثر آفریینی میں کچھ بھی شبہ نہیں رہ جاتا۔
اس کتاب کا نام میرا اپنا خیال کچھ یوں ہے کہ مضامین کی نوعیت، روح اور بیان کئے گئے واقعات کے اظہار وبیان کے حوالے سے ’مدحت رسولﷺ ‘ یا ’ذکر خیر البشرﷺ‘ قسم کا ہونا چاہئےتھا۔البتہ کچھ مضامین میں مذکور واقعات سے میسیج نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شاید اسی مناسبت سے اس کتاب کا نام ’پیام سیرت‘ ہے۔
اس سلسلے کے دوسرے نئے مضامین میں اگر کچھ اچھا کیا جاسکتا ہے ، جس کی بڑی گنجائش بھی ہے ،تو وہ یہ ہوسکتا ہے کہ جملوں کی یکسانیت سے پرہیز کیا جائے ، یعنی ایک ہی معنی و طرز کے کئی جملے تر بہ تر نہ آئیں اور ہر دوسرا یا تیسرا جملہ کسی نہ کسی مشہور واقعے یا قول کا ترجمان ہو ۔ جیسے اکثر مضامین کا پہلا جملہ ہے۔بعض مضامین کے پہلے جملے تو ایسے ہیں کہ وہ سارا واقعہ بیان کردیتے ہیں۔اسی طرز کے مزید اور جملے درمیان بھی ہوں جو کسی مشہور قول، زمانہ یا وقت کی طرف اشارہ کررہے ہوں۔
کتاب کے پہلے مضمون ’ تم جو آئے تو بہار آئی‘ کو ولادت باسعات پر ہی ختم ہونا تھا۔ مگر یہ مضمون وفات تک چلا گیا اور جہاں سے مضمون کا آخری پیرا گراف شروع ہوتاہے جس میں جنرل نالج ٹائپ کے جوابات ہیں ، وہاں قلم کا فلو یا بہاؤ ماند پڑتا ہوا محسوس کیا جاسکتا ہے۔
بعض مضامین میں پراسراریت بہت زیادہ ہے، چونکہ یہ افسانے نہیں ہیں، اس لئے ان میں اتنی زیادہ پراسراریت نہیں ہونی چاہئے۔ ایک مضمون ہے ’شہید ماں کا پیغام‘ آپ مضمون پڑھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس میں شہید ماں کا پیغام نہیں ہے، بلکہ اس میں شہید ماں کے ایمانی رشتے کے بیٹے یعنی مصنف یا علامتی طور پر کسی بھی مومن بیٹے کا اپنی شہید ماں کو سلام ہے۔اس لیے یہ عنوان مضمون کے مطابق نہیں معلوم ہوتا۔ پھر اس مضمون میں پراسرریت اس طور پر داخل ہوجاتی ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ مصنف کس سے مخاطب ہیں، شاید وہ اپنے قارئین سے مخاطب ہیں اور ان سے سلام پہنچانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ حالانکہ زندگی کی بساط پر وہ اور ان کے قارئین ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ مصنف اس کی کچھ توجیہ کریں مگر اپنے جیسے لوگوں کے ذریعہ سلام پہنچانا زیادہ معنویت نہیں رکھتا۔
ایک بہت دلچسپ مضمون ہے’’ کو ہ صفا کی چوٹی سے‘‘ مگر اسے وہاں ختم ہونا تھا جہاں سے درس وعبرت کے پہلو نکالے گیے ہیں۔ یا پھر اسی نہج کے مزید چند جملوکے بعد اسے ختم ہونا تھا۔
مصنف ہر مضمون میں خود کو لے آئے ہیں، اور چونکہ یہ مضامین کا مجموعہ ہے افسانوں کا نہیں ، اس لیے خود مصنف کا ان میں درآنا کچھ ایسا غلط بھی نہیں، پھر بھی بیانیہ اس سے متاثر ضرور ہوا ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ مصنف خود کو منہا کردیتے یا پھر خود کو امت کے ایک فرد کے طور پر پیش کرتے۔جیسا کہ شاعری اور افسانوی ادب میں ہوتا ہے۔
کتاب کی کمپوزنگ، پروف ریڈنگ اور طباعت میں کافی دلچسپی اور ہنر مندی کا مظاہر ہ کیا گیاہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس میں ٹائیپوز بہت کم ہیں ، ضخامت ، گیٹ اپ اور ظاہری حسن کے اعتبار سے بھی کتاب دیدہ زیب ہے۔ہر اعتبار سے یہ ایک اچھی کاوش ہے۔میں گزارش کروں گا کہ ہر طالب علم اس کتاب کو اپنے مطالعے میں رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں