36

پیامِ سیرت ایک دلکش اسلوب میں

نایاب حسن قاسمی

نبی اکرمﷺکی سیرت و سوانح ایک ایسا تروتازہ وشاداب موضوع ہے کہ جس پر ا ب تک دنیابھر کی سیکڑوں زبانوں میں ہزارہاکتابیں لکھی گئیں،مگر اس کی تازگی و شگفتگی اب تک قائم ہے اور لکھنے والوں کو ان کے ظرف و ذہن کے مطابق کوئی نہ کوئی ایسا پہلو نظر آہی جاتا ہے،جس میں جدت،لطافت اور حسن وکشش کا ایسا وصف پایاجاتا ہے جوانھیں قلم اٹھانے پر مجبور کرتا اور پھر وہ اپنے مطالعے کی وسعت،مشاہدے کی قوت،تخیل کی توانائی اور حبِ نبویﷺکی گہرائی و گیرائی کے زیر اثر اس مبارک موضوع پرخامہ فرسائی کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔لگ بھگ ڈیڑھ ہزار سال کے عرصے میں نہ معلوم دنیاکی کتنی زبانوں میں سیرت نبوی کے کن کن پہلووں پر کیسے کیسے عظیم اصحابِ قلم نے کتابیں لکھیں اور ا ب تک اس کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔اردو زبان گرچہ دنیاکی بہت زیادہ قدیم زبان نہیں ہے،مگراس کے باوجود اس زبان میں سیرتِ پاک کے موضوع پر دنیاکی بہترین کتابیں لکھی کی گئی ہیں،چاہے وہ مفصل ہوں یامختصر،منظوم ہوں یامنثور،منقوط ہوں یاغیرمنقوط، شمائلِ نبویﷺپر مشتمل ہوں یا آپؐ کے خانوادۂ پاک کے حالات و سوانح پر مشتمل ہوں،الغرض اردوزبان کا دامن بھی سیرت النبیﷺکے حوالے سے مالامال ہے ،اس کے علاوہ مختلف زبانوں میں لکھی گئی سیرت کی اچھی کتابوں کااردو میں ترجمہ بھی کیاگیاہے۔
حالیہ دنوں میں سیرت ِپاک کے موضوع پر اردو زبان میں ایک قدرےمخْتصر ،مگر نہایت پرلطف کتاب’’پیامِ سیرت‘‘کے نام سے آئی ہے۔کتاب کے مؤلف مولانا فریدحبیب ندوی ہیں،امام بخاری ریسرچ اکیڈمی علی گڑھ سے شائع ہوئی ہے۔یہ باضابطہ سیرت کی کتاب نہیں ہے،اس میں مختلف اہم واقعاتِ سیرت کومؤلف نے اپنے اسلوب میں بیان کیاہے،ان کا یہ اسلوب نہایت دلچسپ ،خوب صورت اور دلکش ہے،ایسا اسلوب ہے،جواکتسابی نہیں ہوتا،اس کا محرک کوئی بہت قوی و تواناجذبہ ہوتا ہے،جو صاحبِ قلم کے دل دماغ میں سرشاری پیدا کرتا اوراسی کے زیر اثروہ لکھتا چلا جاتا ہے، فریدحبیب صاحب کا یہ اسلوب بھی عشقِ مصطفوی ﷺکے جذبۂ فراواں کاعکاس ہے،یہ پوری کتاب فرید حبیب صاحب کے عشقِ رسولﷺکی منھ بولتی تصویر ہے،انھوں نے سیرت نبویﷺکے اہم ترین واقعات کو جس پرکشش انداز میں بیان کیاہے،اس کی وجہ سے وہ واقعات بارہاپڑھے ہوئےہونے کے باوجود نئے نئے سےلگتے ہیں،ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم سیرت کے اس پہلو سے پہلی بار آشناہورہے ہیں یاہم یہ واقعہ پہلی بار پڑھ رہے ہیں۔انھوں نے یہ کتاب عشق و سرمستی میں ڈوب کر لکھی ہے اوراس کی ہر سطران کے اس عشق کی گواہی دے رہی ہے۔اردومیں پہلے بھی سیرت پراس طرز کی کتابیں لکھی گئی ہیں،جن میں مولانا مناظر احسن گیلانی کی ’’النبی الخاتم‘‘اورمولانا عبدالماجددریابادی کی ’’ذکرِرسول‘‘خصوصیت سے قابلِ ذکرہیں،اسی طرح ماہر القادری کی’’دریتیم‘‘توناول کے انداز میں ہی لکھی گئی ہے،ان تینوں کتابوں کی اپنی خصوصیات ہیں اور اختصار کے باوجود سیرتِ پاک کو دلچسپ اور انوکھے انداز میں پیش کرتی ہیں۔زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والا طبقہ ایسے اسلوب کی طرف کھنچتاہے اورآج بھی ان کتابوں کامطالعہ ذوق و شوق سے کیاجاتاہے۔فریدحبیب صاحب کا اسلوب بھی کچھ ایساہی ہے،انھوں نےچھوٹے چھوٹے جملوں،خوب صورت تعبیرات،دلنشیں ترکیبات اورپرکیف و سروربخش محاورات کا عمدہ استعمال کیاہے۔ان کا مقصداس سے یہ ہے کہ قاری کے دل میں عشقِ رسولﷺکاوہ جذبۂ بے پناہ پیداہوجائے،جواسے دارین میں سرخروکردے اوراسی مقصدسے انھوں نے قرنِ اول کے چیدہ چیدہ واقعات کی دل آگیں تصویر کشی کی ہے۔کتاب دوسوصفحات پر مشتمل ہے،سیرت پاک سے دلچسپی رکھنے والے احباب اس کتاب کا مطالعہ ضرورکریں۔کتاب علی گڑھ میں دارالکتاب دودھ پور،مدرسۃ العلوم الاسلامیہ ،لکھنؤ میں مکتبہ دارین ،پاریکھ بکڈپو،مکتبہ شباب اوردیوبندکے تمام کتب خانوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔براہِ راست مؤلف سے اس نمبر9012621589پررابطہ کیاجاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں