مکالمہ

پولیس سے متعلق منفی بیانیہ کو بدلنے کی ضرورت

پولیس کا ایک چہرہ تخلیقی بھی ہے ،جس کی شناخت ضروری ہے:حقانی القاسمی
(حقانی القاسمی موجودہ نقدوادبِ اردوکا نہایت تابناک چہرہ ہیں،ان کے ذہن و دل کی روشنی اور طبعِ جدت پسندنے ادب میں تازہ جہانوں کی جستجوکی روایت کوزندہ کیا اور ایک عرصے سے طاری جمودکوتوڑاہے،ان کا عملی تعلق ادبی صحافت سے رہاہے اور’’نئی دنیا‘‘و’’اخبار نو‘‘میں ان کی ادبی فتوحات کے اولین نقوش سامنے آئے،پھر صلاح الدین پرویزکے ساتھ مل کرخالص ادبی رسالہ’’استعارہ‘‘نکالااور ایسے جان دار طریقے سے نکالا کہ اسے دیکھ کرمعاصر ادبی دنیاپرایک خوشگوار حیرت طاری ہوگئی،’’استعارہ‘‘میں حقانی القاسمی نے نوبہ نوادبی،تخلیقی،تحقیقی و تنقیدی تجربے کیے اور اس کے صفحات نے ادب کائنات میں نئے اجالو ں،نئی روشنیوں کے قمقمے جلادیے،حقانی القاسمی کی اب تک کئی کتابیں بھی زیورِطبع سے آراستہ ہوکر قبولِ عام حاصل کرچکی ہیں،فلسطین کے چار شعرا،بدن کی جمالیات،طوافِ دشتِ جنوں،تکلف برطرف،دارالعلوم دیوبند:ادبی شناخت نامہ،رینوکے شہرمیں،تنقیدی اسمبلاژ،ادب کولاژان کے فکرونظرکی وسعت و تنوع پر دال نہایت دلچسپ کتابیں ہیں،ان کے اسلوب میں ایک سحرہے اور طرزِتحریرمیں جادوجیسی کوئی ان دیکھی قوت،جوان کے قاری کے حواس پر چھاجاتی ہے،ان کے پاس لفظیات و اسالیب کاگراں قدرذخیرہ ہے،جسے وہ نہایت پرکشش انداز میں صرف کرتے ہیں،وہ بہ یک وقت کئی زندہ زبانوں سے بصیرت مندانہ آگہی رکھتے ہیں،گزشتہ سال ہی انھیں گجراتی ناول’’انگلیات‘‘کے ترجمے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈسے بھی نوازاگیاہے۔’’اندازِبیاں‘‘ان کی ادارت میں شائع ہونے والا منفردقسم کا یک موضوعی مجلہ ہے،اس کی پہلی اشاعت خواتین ادیبوں کی خودنوشت سوانح کے تجزیوں پر مشتمل تھی،اب دوسری اشاعت پولیس کے تخلیقی چہرے کے لیے مخصوص ہے،حقانی صاحب نے ’’اندازِبیاں‘‘کے اس شمارے اور اس ضمن میں کچھ دوسرے ادبی مباحث پر گفتگوکے لیے’’قندیل ‘‘کو اپناقیمتی وقت دیا، موصوف کے شکریے کے ساتھ یہ گفتگوقارئین کی خدمت میں پیش ہے)
س: اس وقت قومی سطح پرکئی مشہوروغیرمشہور ادبی رسالے نکل رہے ہیں، جن کااپناروایتی اسلوبِ پیش کش ہے، کسی نہ کسی درجے میں ان کی افادیت بھی مسلم ہے، مگراس کانقصان بھی ہے کہ سوچنے اورتخلیقی عمل کے رویے میں کسی قسم کی انفرادیت نظرنہیں آتی، ایسے میں آپ کی جانب سے ایک بالکل منفردنوعیت کا ادبی اقدام خاصاغیرمعمولی بھی ہے اوربہت سوں کے لیے چونکانے والابھی، ’’اندازِ بیاں‘‘کے دوسرے شمارے کے لیے آپ کومبارکبادپیش ہے اورساتھ ہی میرے ذہن میں ایک سوال ہے کہ’’پولیس کا تخلیقی چہرہ ‘‘جیسے قطعی اَن چھوے موضوع کی طرف آپ کاخیال کیسے گیا؟ کوئی ذہنی پس منظر؟
حقانی القاسمی: کلیشے میں قیدرہنامجھے کبھی اچھانہیں لگا، میں نے ہمیشہ Stereotype سے خودکو دوررکھنے کی کوشش کی ہے؛ اسی لیے میراذہن ہمیشہ نئے زاویوں کی تلاش میں رہتاہے، رسمی اورروایتی نوعیت کی چیزیں مجھے کبھی پسندنہیں آئیں؛ اس لیے میں نے یک موضوعی مجلہ کاانتخاب کیا اورموضوعات میں بھی اس کاالتزام رکھاکہ کوئی نئی چیزDiscoverکروں، کچھ نیاExploreکروں ۔
س: اندازِ بیاں کاتازہ شمارہ’’پولیس کاتخلیقی چہرہ‘‘میں نے مطالعہ کیاہے، میرے لیے تویہ ایک بالکل منفردنوعیت کاتجربہ رہا، پولیس کے بارے میں عام اذہان یاتومتوحش رہتے ہیں یاوہ پولیس برادری کوکراہت ونفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آپ کے ذہن میں اس طبقے کی تخلیقی شناخت کاخیال کیسے آیا؟
ج: یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں پولیس کے تعلق سے ایک منفی بیانیہ اس طرح نقش ہوگیاہے کہ اب اسے مٹانابہت مشکل ہے، پولیس کے بارے میں عام طورپرہمارے معاشرے کا منفی رویہ ہے اورایک ایسی امیج بنادی گئی ہے کہ زیادہ ترلوگ پولیس میں غیرانسانی چہرے کوتلاش کرتے ہیں، جبکہ ایسانہیں ہوناچاہیے؛ کیوں کہ کسی ایک فرد یابعض مخصوص چہروں کی وجہ سے پوری جماعت کو ملعون یامطعون نہیں کیاجاسکتا ،اسی حقیقت کوپیشِ نظررکھ کر میں نے رسالے کے اس شمارے کو محکمۂ پولیس کے تخلیق کاروں،ادیبوں،شاعروں اور فن کاروں کے لیے مختص کیاہے۔
س: رسالے کے شروع میں’’آغازِ جستجو‘‘کے عنوان سے لکھاگیاآپ کاتعارفی مضمون یااس شمارے کا پیش لفظ نہایت تحقیقی، معلومات افزااور آپ کے گہرے مطالعے کاآئینہ دارہے، بقیہ مشمولات، جو لگ بھگ پونے چارسوصفحات میں پھیلے ہوئے ہیں، ان میں بھی مختلف ایسے ادبا، شعرا، محققین ومترجمین اور اصحابِ دانش افرادکی فنی خدمات کاتجزیہ کیاگیاہے، جوپولیس کے محکمے سے وابستہ رہے ہیں، رسالے کے مطالعے کے بعدہم جیسے قاری کے ذہن میں یہ سوال میں اٹھتاہے کہ آپ کے لیے یہ سفرتوبہت ہی کٹھن رہاہوگا؟آپ نے چوں کہ تن تنہااپنے اس منصوبے کوعملی جامہ پہنایاہے؛ اس لیے آپ کی زبان سے اس پورے سفرکی مختصررودادجانناہمارے قارئین کے لیے دلچسپ ہوگا۔
ج: جب میں نے پولیس کی ادبی خدمات کے حوالے سے تلاش وجستجوکاسفرشروع کیا، تومجھے حیرت ہوئی کہ اس غیرادبی اورغیرتخلیقی شعبے سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہیں، جنھوں نے تخلیقی میدان میں کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں، ادب کی ہرصنف میں ان کی خدمات قابلِ قدراورقابلِ ستایش ہیں، میں نے پولیس والوں کی تخلیقیت کوایک مثبت اندازسے دیکھنے کی کوشش کی ہے، آپ کویہ جان کرحیرت ہوگی کہ محکمۂ پولیس میں شاعری سے تعلق رکھنے والے جارج پیش شور، شجاع خاور، عین رشید، خلیل مامون، فیاض فاروقی، منیرسیفی، صہیب فاروقی، اعجازوارثی، تسکین قریشی جیسی شخصیات ہیں، وہیں فکشن میں پیغام آفاقی، امراؤ طارق، ظفرعمر اورنزہت حسن جیسی شخصیات بھی ہیں اورحیرت کی بات تویہ ہے کہ تحقیق جیسے خشک میدان میں بھی محکمۂ پولیس سے تعلق رکھنے والے بڑے اہم نام ہیں،شیو سنگھ سینگر، احترام الدین شاغل، مولوی عبدالرحیم بیگ میرٹھی، جنھوں نے مرزاغالب کی’’قاطعِ برہان‘‘کے جواب میں ’’ساطعِ برہان‘‘جیسی کتاب لکھی،’’خدنگِ غدر‘‘جیسی مستندکتاب کامصنف معین الدین خاں بھی محکمۂ پولیس سے تعلق رکھتاتھا، ان کی کتاب اٹھارہ سوستاون کے چشمِ دیدحالات پرمبنی ہے، نبی احمدسندیلوی جیسے محقق ومؤرخ کاتعلق بھی محکمۂ پولیس سے تھا، ڈاکٹرنریندرناتھ کانام بھی بہت اہم ہے، جوچترکوٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلربھی رہے اورجنھوں نے اردونظموں میں قومیت ووطنیت کے حوالے سے بہت اہم کتاب لکھی، حیرت تواس پربھی ہوئی مجھے کہ نقی محمدخاں خورجوی نے نہ صرف یہ کہ ’’عمرِ رفتہ‘‘کے عنوان سے بڑی اہم خودنوشت تحریرکی؛ بلکہ انھوں نے امیرخسروکے حوالے سے جوکام کیاہے، وہ کوئی دوسرامحقق نہیں کرسکتا۔ صحافت اورتراجم کے باب میں بھی پولیس سے تعلق رکھنے والی بڑی اہم شخصیات ہیں، غرضیکہ ادب کاکوئی ایساشعبہ نہیں ہے، جس میں محکمۂ پولیس سے تعلق رکھنے والے افرادکی نمایاں خدمات نہ ہوں، آپ پرانے تذکرے اٹھاکردیکھ لیں، سیکڑوں نام مل جائیں گے۔
اگرردِ عمل کی لفظیات کودیکھنااورمحسوس کرناہو، تو پولیس والوں کی شاعری میں آپ دیکھ سکتے ہیں ، اس وقت اور حیرت کی انتہااس وقت اورزیادہ ہوتی ہے، جب یہ پتاچلتاہے کہ محکمۂ پولیس سے تعلق رکھنے والوں میں سے بہت سے افرادوہ ہیں، جنھیں ہندستان کی سب سے بڑی اکیڈمی ساہتیہ اکادمی کے ایوارڈسے نوازا گیاہے، یہ پولیس والوں کی تخلیقیت کااعتراف ہی ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے انھیں اپنے باوقارایوارڈسے سرفرازکیاہے، انگریزی شاعری کاایک بڑانام کے کی این دارووالا، جوآئی پی ایس افسرتھے، انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈملا، خلیل مامون بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتہ ہیں، پنجابی کے مشہورشاعراورماہرِ لسانیات منموہن سنگھ، پنجابی کے ممتازڈرامہ نگار سوراج سنگھ، ڈونگری کے ناول نگار شیلندرسنگھ، تمل کی جی تھلاکوتی، وپن بہاری، منی پورکے ایس آئی ہوجا؛ یہ سب ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتگان ہیں، اس طرح دیکھاجائے، توپولیس والوں کی خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے، مگرٹریجڈی یہ رہی کہ کسی بھی زبان میں ان کی خدمات کااعتراف نہیں کیاگیا ۔
س: آپ کے خیال میں اس کی کیاوجہ ہوسکتی ہے؟
ج: وجہ یہ رہی کہ پولیس والوں کوایک خاص امیج میں محصورکردیاگیا، جس کی وجہ سے شایدہی دنیاکی کسی زبان میں پولیس والوں کی مجموعی ادبی وتخلیقی خدمات کااعتراف کیاگیاہو، میری معلومات کی حدتک ہندوستان کی بھی کسی بھی زبان میں پولیس والوں کوابھی تک تحقیق اورتنقیدکاموضوع نہیں بنایاگیا، شایدپہلی بار ’’اندازِ بیاں‘‘میں محکمۂ پولیس کے تخلیق کاروں کوتحقیق اورتنقید کی میزان پرپرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
س: اس میں کسی شک کی گنجایش نہیں کہ آپ کی یہ منفردکوشش اپنے آپ میں نہایت غیرمعمولی اورقابلِ قدرہے، پھربھی ہم یہ جانناچاہیں گے اس شمارے کی اشاعت پرادبی حلقے کی جانب سے کیسارسپانس آرہاہے؟ کیاوہ آپ کے لیے حوصلہ افزاہے؟
ج: رسالے کوآئے ہوئے ابھی چندہفتے ہی ہوئے ہیں، مگرپوری دنیاسے جوردِعمل مل رہاہے، اس سے یقیناخوشی ہوتی ہے، زیادہ ترادیبوں اورتخلیق کاروں نے اس نئے موضوع کی ستایش کی ہے اورسوشل میڈیاپربھی جو تاثرات ملے ہیں، ان سے یہ اندازہ ہواکہ یہ ایک اچھوتااورنیاموضوع ہے، جسے پہلی بار ’’اندازِ بیاں ‘‘نے مس کیاہے، اسی موضوعی جدت کی وجہ سے اسے ہرحلقے میں پذیرائی مل رہی ہے، خاص طورپرمحکمۂ پولیس کے افراد بے حدخوش ہیں کہ پہلی بار ان کی خدمات کانہ صرف اعتراف کیاگیا؛بلکہ باقاعدہ تحقیق وتنقیدکاموضوع بھی بنایاگیاہے ۔
س: گوکہ آپ کایہ رسالہ تقریباپونے پانچ سوصفحات پرمشتمل ہے، تاہم یہ اس موضوع پرایک ابتدائی کوشش ہے، آپ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اس قسم کے موضوع کوجامعات اورریسرچ اداروں میں تحقیق کاخاص موضوع بنایاجائے؛ تاکہ محکمۂ پولیس کی ادبی سرگرمی و تخلیقی خدمات کامبسوط ومفصل جائزہ لوگوں کے سامنے آسکے؟
جواب: جی بالکل، اس موضوع پرابھی تک کوئی کام نہیں کیاگیاہے؛ اس لیے میری خواہش ہے اورعصری دانش گاہوں سے درخواست بھی ہے کہ وہ فرسودہ اورپامال تحقیق موضوعات کی بجاے ایسے موضوعات کاانتخاب کریں، جن سے ہمارے سماج اورمعاشرے کونئی روشنی ملے اورلوگوں کی ذہنیت بھی تبدیل ہو، خاص طورپراس موضوع پراگرتحقیقی کی جائے، تومعاشرے کی ذہنیت بھی بدل سکتی ہے اورپولیس والوں کاعمومی رویہ بھی تبدیل ہوسکتاہے ۔
س: ویسے توآپ کی تخلیقی جدت پسندی آپ کی ہرقسم کی تحریروں، تصانیف میں نمایاں رہتی ہے، مگراس رسالے کی ترتیب وتبویب میں آپ نے ایک خاص اسلوب پیشِ نظررکھاہے،مثلااصل رسالے کے آغازسے پہلے ’’باغِ شفقت ‘‘، ’’شجرِ محبت‘‘، ’’شاخِ الفت‘‘کے تحت سیکڑوں اہل قلم یااپنے متعلقین اورعزیزوں کویادرکھنایا اصل رسالے کومختلف خوب صورت ابواب میں منقسم کرنا، اس کا کوئی خاص پس منظر؟
ج: اس کواگرتعلّی نہ سمجھاجائے، تومجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی کہ میں نے اپنے بزرگوں، دوستوں اورعزیزوں کویادرکھنے کاجوطریقہ اختیارکیاہے، وہ زیادہ ترلوگوں کواچھالگ رہاہے؛کیوں کہ اس میں جدت بھی ہے اورندرت بھی اورسب سے بڑی بات محبت کاوہ احساس ہے، جوسارے احباب کوایک خاص تعلق اوررشتے سے جوڑتاہے، آپ باغِ شفقت، شجرِ محبت اورشاخِ الفت کے تلازمات پرغورکریں، توآپ کے ذہن میں خوشبووں کی ایک پوری کائنات آبادہوجائے گی، میرے سارے بزرگ اور احباب خوشبووں کے اسی سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں، ابواب بندی میں بھی میں نے رسمی اورروایتی طریقۂ کارسے گریز کیاہے اورنئے عنوانات قائم کیے ہیں، یہ عنوانات غلط ہیں یاصحیح، اس سے مجھے کبھی مطلب نہیں رہا، میں ہمیشہ یہ چاہتاہوں کہ میرے سامنے ایک نئی زمین ہو، نیاآسمان ہو،نئی صبح اورنئی شام ہو، وہ جواقبال نے کہاتھا:
دیارِعشق میں اپنا مقام پیدا کر!
نیا زمانہ، نئی صبح وشام پیداکر!
’’اندازِ بیاں‘‘میں بھی آپ کووہی نئی صبح اورنئی شام ملے گی، خداکاشکرہے کہ ہمارے احباب پرانی کیفیت سے نکل کر نئی زمین اورنئے آسمان کی تلاش میں ہیں اورمیری بھی کوشش ہے کہ لیک سے ہٹ کرکچھ نیاکیاجائے، اس نیاکرنے میں کچھ غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں، یقیناً’’اندازِ بیاں ‘‘کی ترتیب میں بھی مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی؛ احباب اگرانھیں درگذرفرمائیں، تویہ ان کی مہربانی ہوگی۔
س: آپ کے اس رسالے کے قلم کاروں میں پرانے اورکہنہ مشق اہلِ قلم کے ساتھ نئے لکھاریوں کی بھی ایک بڑی تعدادہے،جویقیناًنئی نسل کی حوصلہ افزائی کی سمت میں آپ کاایک خوش آینداقدام کہاجاسکتاہے،ان کے تعلق سے دوبول؟
ج: اندازِ بیاں میں نئے اورپرانے دونوں قسم کے چراغ ہیں، ادب کاآسمان پراناہے، مگراسے نئے ستاروں کی بھی ضرورت ہے؛ اس لیے ہمیشہ میری کوشش ہوتی ہے کہ کچھ نئے ستاروں کوبھی موقع دیاجائے، اگران ستاروں کاراستہ روک دیاجائے گا، توآسمانِ ادب کااجالاکم ہوجائے گا، ہمارے ادب کو نئے خون اورتجدیدِ توانائی کی ضرورت ہے اوریہ توانائی نئی نسل اورنئے ستاروں ہی سے مل سکتی ہے۔
س: اسلوبیات یامطالعے کے موضوعات وانواع کے تعلق سے انھیں کوئی خاص پیغام دیناچاہیں گے؟
ج: نئی نسل کے پاس ذہانت کی کمی نہیں ہے،ذراسی تربیت ہوجائے، توان میں نکھارپیداہوسکتا ہے، انھیں ادب کے شاہکارکامطالعہ کرناچاہیے، خاص طورپراردوکے مایہ نازمصنفین کی کتابیں ان کے مطالعے میں ہوں، توان کاذہنی افق بھی وسیع ہوگا اوران کی نگارشات میں بھی پختگی آئے گی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment