101

پروفیسر جمال السویدی کی کتاب’السراب‘کے لیے نوبل پرائز کا مطالبہ

بلجیم،اٹلی،جرمنی،فرانس،سپین ، سویڈن اور عالم عرب کی پچاس سے زائدعلمی وادبی شخصیات نے نوبل کمیٹی سے سفارش کی
دبئی:عرب و یورپ کے مختلف اداروں اور ادبی و علمی شخصیات نے پروفیسر جمال سند السویدی کے لیے ان کی کتاب’’السراب‘‘(انگریزی ترجمہ The Mirage)پر نوبل ایوارڈ برائے ادب2019ء کے لیے سفارش کی ہے۔پروفیسر موصوف امارات سینٹر برائے اسٹریٹیجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(ECSSR) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں ۔انھوں نے اپنی اس کتاب میں حالیہ سالوں میں عالمی سطح پر پھیلنے والے انتہا پسندانہ افکار و نظریات اور انسانی معاشرہ و انسانی اقدار کے لیے ان کی خطرناکی پر گفتگو کی ہے۔
بلجیم،اٹلی،جرمنی،فرانس،سپین اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد اہل علم و ادب اور سیاست دانوں نے پروفیسر موصوف کے حق میں نوبل پرائز برائے ادب2019ء کے لیے سفارش کی ہے۔ان کا مانناہے کہ اس سے انتہاپسندی اور تخریبی افکار و نظریات سے مقابلے کے لیے دانشورانہ کوششوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔وہ نوبل پرائز کو انتہاپسندانہ افکار کے خطرات کی نشان دہی کے سلسلے میں ایک علامت اور اہم موقع قرار دیتے ہیں۔اسی وجہ سے ان کا خیال ہے کہ شدت پسندی سے مقابلے کے تئیں یہ کتاب ایک اہم علمی مقام رکھتی ہے۔یورپین پریس ایسوسی ایشن فاردی عرب ورلڈکے چیئر مین ڈاکٹر نضال شوکیر کاکہناہے کہ پروفیسر سویدی کے لیے دنیاکے ممتاز ایوارڈ کی سفارش سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیابھر کو درپیش شدت پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے تئیں دنیا کس حد تک بیدار ہوچکی ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر سویدی کو ان کے اس اہم تصنیفی کارنامے پر مبارکباد بھی پیش کی۔بلجیم سے تعلق رکھنے والے سکالر ڈاکٹر ابراہیم لیٹوس نے ڈاکٹر سویدی کے لیے نوبل پرائز کی سفارش کو اس بات کی علامت قراردیاکہ شدت پسندی و دہشت گردی سے مقابلے میں مفکرین و دانشورانِ عالم کا مرکزی رول ہے۔انھوں نے کہاکہ ڈاکٹر سویدی کی کتاب دی میراج علمی و عملی ہر دواعتبار سے مکمل ہے،یہ اپنے ذہن و فکر کو معاصر انسانی مسائل کے لیے استعمال کرنے کی ایک عظیم مثال ہے،لہذا نوبل پرائز برائے ادب کے لیے اس کا نامزد ہونا بالکل مناسب ہے۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے سکالر جین ویلرے بلڈاکینوکاکہناہے کہ ڈاکٹر سویدی نے اپنی کتاب دی میراج میں شدت پسندی و دہشت گردی کے خطرات کو دانشورانہ انداز میں برتا ہے اور کہاجاسکتا ہے کہ ڈاکٹر سویدی اس میدان کے نایاب اہل قلم ومفکرین میں سے ایک ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پروفیسر موصوف کی یہ کتاب مختلف عربی و عالمی ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہے،جن میں شیخ زائد ایوارڈبھی شامل ہے۔اس کتاب میں انھوں نے حالیہ سالوں میں عالمی سطح پر پھیلنے والے شدت پسندانہ و دہشت گردانہ افکار و خیالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنے ذاتی خیالات و افکار کا بھی اظہار کیاہے۔ان کا خیال ہے کہ اس قسم کے نظریات سے نمٹنے کے لیے شدت پسند تنظیموں سے لڑنے اور ملٹری کے ذریعے انھیں ختم کرنے کے بجائے علم ودانش کی سطح پر ان کا مقابلہ کیاجانا چاہیے اور ان سے مقابلے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی جو ملٹری یا سکیورٹی حکمت عملیوں سے زیادہ وسیع ،دوررس اور کارگر ہو وہ اختیار کرنی چاہیے۔شدت پسندی یا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ سائنسی تحقیق اورسنجیدہ مباحثوں کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں،ان کامانناہے کہ اس طرح ملک و قوم کی سلامتی زیادہ بہتر طریقے سے یقینی بنایاجاسکتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ تاریخی تنازعات کے دور میں شدت پسندوں،تہذیب ،انسانیت اور سائنسی ترقی کے دشمنوں سے مقابلے میں ایک سکالراور دانشور کا رول نہایت اہم ہے اور اسی مقصدکو ذہن میں رکھتے ہوئے انھوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب اصل میں عربی زبان میں “السراب “کےنام سے لکھی گئی ہے اوراس کااردوترجمہ بھی شائع ہوچکاہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں