57

پروفیسر اسلم جمشیدپوری کے افسانوی مجموعے ’لینڈرا‘ کے تیسرے ایڈیشن کا اجرا

پٹنہ:
”آج کے دور میں جب کسی کتاب کا ایک ایڈیشن بھی بہ مشکل ختم ہوتاہو،کسی کتاب کا تیسراایڈیشن شایع ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کتاب غیر معمولی ہے۔اسلم جمشیدپوری کے افسانوی مجموعے ’لینڈرا‘ کا تیسرا ایڈیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مجموعہ نہ صرف شوق سے پڑھا جارہاہے بلکہ خریدابھی جارہاہے۔“ان خیالات کا اظہار شعبہئ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے صدر پروفیسر جاوید حیات نے ”لینڈرا“ کے تیسرے ایڈیشن کا اجرا کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے افسانہ نگار اسلم جمشیدپوری کو مبارکباد دی اور کہا کہ لینڈرا جیسے افسانے کبھی کبھی سامنے آتے ہیں۔یہ بلاشبہ جدید افسانوں میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتاہے اور کسی بھی انتخاب میں بڑی آسانی سے شامل کیا جاسکتاہے۔
واضح ہو کہ شعبہ ئ اردو کی ایک تقریب میں معروف ادیب اور افسانہ نگار پروفیسر ا سلم جمشیدپو ری کے دوسرے افسانوی مجموعے ”لینڈرا“ کے تازہ اور تیسرے ایڈیشن کی رسم اجرا ادا کی گئی جس میں اساتذہ،طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے علاوہ خود مصنف نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر مہمانوں کا تعارف اور استقبال کرتے ہوئے شعبے کے استاد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے ’لینڈرا‘ کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ شعبے کی خوش قسمتی ہے کی۹۰۰۲ء میں اس مجموعے کی پہلی اشاعت پر مذاکرے کا انعقاد شعبے نے کیاتھا اور تیسرے ایڈیشن کا اجرا بھی یہیں ہورہاہے۔انہوں نے لینڈرا کی مقبولیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اس مجموعے پر مصر کی اسکندریہ یونیورسٹی میں زینب صدیق نامی طالبہ نے ریسرچ کاکام مکمل کیاہے،اور جموں یونیورسٹی کا ایک طالب علم ایم فل کا مقالہ لکھ رہاہے۔اسے یوپی اردو اکادمی نے انعام سے نوازا۔اور اس پر تجزیے اور تبصرے ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں بڑی تعداد میں شایع ہوئے۔لینڈرا ایک افسانہ ہی نہیں،یادگار کردار بھی ہے،جو اگرچہ حاشیائی ہے مگر اپنی ندرت کی وجہ سے مرکزی حیثیت حاصل کرلیتاہے۔نئی صدی میں کرداروں کے فقدان میں ”لینڈرا“مضبوط و مستحکم کردار کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
اس موقع پر اپنے افسانوی مجموعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے مصنف اسلم جمشیدپوری نے شعبے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یوں تو لینڈرا کے بعد میرے کئی افسانوی مجموعے مثلاً عیدگاہ کی واپسی،کولاژ اور دکھ نکلوا شایع ہوچکے ہیں مگر اللہ کے کرم اور قارئین کی محبتوں سے’لینڈرا‘کی شہرت و مقبولیت کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔اس افسانہ کے دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے،دوسری زبانوں کے افسانوں سے تقابل کیا گیا اور اردو کے معروف لکھنے والوں نے اسے سراہا۔یہ افسانہ میرے گاؤں کے ایک سچے واقعے پر مشتمل ہے صرف کرداروں کے نام بدل دیے گئے ہیں۔دراصل میرے اکثر افسانے میرے تجربات اور مشاہدات کا ہی آئینہ ہوتے ہیں،اس لئے قارئین کو ان میں سماجی عکاسی نظر آتی ہے۔ہوسکتاہے میری کہانیوں کی مقبولیت کا یہی سبب ہو۔میں شعبہ ارد و کا شکرگذار ہوں جہاں نہ صرف میری کہانیوں کی پذیرائی ہوتی ہے بلکہ موضوع گفتگو بھی بنایا جاتاہے۔
رسم اجرا کی محفل میں ڈاکٹر اکبر علی،ڈاکٹر سورج دیوسنگھ،ڈاکٹر سرورعالم ندوی،ڈاکٹر مسعود احمد کاظمی،ڈاکٹر محمد عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے مصنف کو مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں اساتذہ کے علاوہ کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالرز،شائقین ادب اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں