142

پاکستانی سیاست میں تازہ انقلاب

سابق وزیراعظم کو دس سال قید،۸؍ملین پاؤنڈکاجرمانہ
اسلام آباد:(ایجنسیاں) احتساب عدالت نے نوازشریف فیملی کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنادیا ہے،نواز شریف کو 10سال قید اور 8 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو 7سال قید اور 2 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ضبطی کے احکامات بھی دیے ہیں،نیب پراسیکیوٹر کے مطابق احتساب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توثیق ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ احتساب عدالت کے فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کرپشن کی رقم سے بنائے گئے ہیں،نیب عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو وفاقی حکومت کے تحت ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ہل میٹل کیس اور فلیگ شپ ریفرنس اپنے اختتامی مراحل میں ہیں،ثابت ہوگیا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت تھے۔احتساب عدالت نے تین دن پہلے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، نواز شریف کی جانب سے ان کی واپسی تک فیصلہ مؤخر کرنے کی اپیل کی گئی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے فیصلہ مؤخر کرنے کی مخالفت کی تھی۔فیصلے کے وقت کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، جبکہ عدالت کے اندر بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی جانب سے ان کی واپسی تک فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔مقدمے کے ایک ملزم میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر جو پاکستان میں موجود ہیں، تاہم اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں مانسہرہ میں مصروف ہونے کے باعث وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔فیصلے کے وقت مسلم لیگ ن کے رہنما آصف کرمانی،دیگر رہنما اور نیب کی 7 رکنی ٹیم کے ارکان احتساب عدالت میں موجود تھے۔فیصلے سے قبل آصف کرمانی کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بعدمیں عدالت میں جانے کی اجازت مل گئی تھی۔واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کا فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس فیصلے کے حوالے سے کہا تھا کہ کوئی ملزم کسی کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا کہ فیصلہ کب سنایا جائے۔رہنما مسلم لیگ ن بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کے خلاف تینوں ریفرنسز کے فیصلے ایک ساتھ سنانے چاہئیں۔نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس 8ستمبر 2017ئکو دائر کیا تھا، جس کی احتساب عدالت میں پہلی سماعت گزشتہ سال 14 ستمبر کو ہوئی تھی۔واضح رہے کہ پاکستان میں اسی ماہ کی 25؍تاریخ کو جنرل انتخابات ہونے ہیں۔اس فیصلے کے بعد نوازشریف کی بیٹی مریم نواز اوران کے داماد کیپٹن (ر)صفدردس سال کے لیے سیاسی طورپرنااہل قراردیے جاچکے ہیں،چنانچہ اس الیکشن میں ان کی امیدواری بھی کالعدم ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں