122

پانی کا بحران: قدیم وجدید ٹیکنالوجی کا امتحان

ڈاکٹر منور حسن کمال

حکومتیں اپنا کام کرتی ہیں اور کرتی رہیں گی، لیکن انفرادی طور پر بھی آنے والا پانی کا بحران ہر شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ’جھوم کے اٹھی گھٹا اور ٹوٹ کے برسا پانی‘ جیسے موسم شاید چند برسوں میں اگلے زمانے کی کہانیاں نہ ہوجائیں۔ اس لیے ہر شخص بیدار ہوجائے، یہی وقت کا تقاضا ہے اور ضرورت بھی۔
قدرت کا نظام عقل و شعور رکھنے والوں کو بھی انگشت بدنداں کردیتا ہے۔ کہیں اتنی بارشیں ہیں کہ اکثر علاقے زیرآب آگئے ہیں، کہیں گرمی کی تپش نے انسان کا پانی پسینے کے ذریعہ بہادیا ہے اور کہیں پینے کو پانی بھی میسر نہیں ہے۔ اس وقت تمل ناڈو کا دارالحکومت چنئی پینے کے پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ٹرین کے ذریعہ پانی لانے کا انتظام کیا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چھٹے سب سے بڑے شہر چنئی کو پانی کی سپلائی چار جگہوں سے ہوتی ہے، جو سوکھنے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ان میں پانی کی مقدار اتنی کم ہوچکی ہے کہ پانی نکال کر سپلائی کیا جانا ایک مشکل امر بن چکا ہے۔ اس برس مانسون میں تاخیر کے سبب پانی کے مسئلے نے بھیانک شکل اختیار کرلی ہے، جس کے لیے ریاستی حکومت نے ہر دن 10ملین لیٹر پانی پہنچانے کے لیے ہدف کا تعین کیا ہے اور اس کے لیے 66کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہاں 12جولائی بروز جمعہ کو پہلی ٹرین پانی لے کر پہنچی، جس میں 50ویگن تھیں اور اس کی ہر ویگن میں 50ہزار لیٹر پانی بھرا ہوا تھا۔ یعنی پہلی ٹرین سے چنئی کو25لاکھ لیٹر پانی پہنچایا گیا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہاں پانی کا بحران کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لیے کہ چنئی کو روزانہ 830ملین لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔ نیتی آیوگ کے مطابق چنئی ہندوستان کے ان 21شہروں میں سے ایک ہے، جہاں 2021تک پانی کے ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ بات واضح طور پر کہی جارہی ہے کہ دنیا میں پینے کے پانی کا بحران بڑھتا جارہا ہے اور ہندوستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں پینے کا پانی تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے اور آبی ذخائر یا تو خشک ہوتے جارہے ہیں یا ان کے خشک ہونے کے آثار ہیں۔ یوں تو ہر بحران ایک چیلنج کی شکل میں سامنے آتا ہے اور جو افراد، ریاستیں اور ممالک چیلنج سے نمٹنے کے لیے سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں، وہ اس بحرانی کیفیت پر قابو پالیتے ہیں اوربحران کا حل نکل آتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال گزشتہ برس جون میں مشہور سیاحتی مقام شملہ میں پیش آچکی ہے۔ جو پانی کے بحران سے گزر رہا تھا۔ شملہ نے اس بحران پر کیسے قابو پایا، وہ بات لائق تقلید ہے۔ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر کے مطابق ہم نے دو اہم پالیسیوں پر کام کیا۔ ایک تو موجودہ سپلائی نظام کو بہتر بنایا، تقسیم کے نیٹ ورک کو درست کیا، نلوں میں لیکیج والی جگہوں کی نشاندہی کرکے انہیں بند کیا گیا، جس سے ہمیں بڑی راحت ملی۔ دوسرے اب ہمارا منصوبہ دریائے ستلج سے پانی لینے کا ہے، جس سے 67ملین لیٹر پانی کی یومیہ سپلائی ممکن ہوسکے گی۔ ورلڈ بینک کی امداد والے اس منصوبے سے ہمیں 2050تک 107ملین لیٹر پانی یومیہ مل جائے گا۔چنئی کا موجودہ بحران وقتی نہیں ہے۔ ا س لےے طویل مدتی منصوبے پر غور کرنا چاہیے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی غورکرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ شملہ نے گزشتہ برس کیا تھا۔ اسی طرح ہندوستان کے دوسرے ان شہروں کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو پانی سے متعلق سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ۔ابھی راجدھانی دہلی میں پانی کے بحران کے آغاز سے قبل ہی حکومت نے تیاریاں شروع کیں اور اوکھلا نئی دہلی میں ایک بہت بڑے سیویج پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے، جس سے کم ازکم دہلی والوں کو چنئی جیسے بحران سے نبردآزما نہیں ہونا پڑے گا۔ امید ہے کہ یہ سیویج پلانٹ اپنی پوری قوت سے پانی صاف کرے گا اور دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر میں بھی اس کے پانی کی سپلائی شروع کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت نے بھی سمندری پانی کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس میں ملک کے 7800کلومیٹر لمبے سمندری کنارے کے پاس تیرتے ہوئے یا کنارے پر پڑے ڈیسولنیشن واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ(Desolination Water Treatment Plant)(سمندری پانی سے نمک کو الگ کرنے کا عمل) لگائے جائیں گے۔ اس سے ملنے والے صاف پانی کی شہروں اور دوردرازکے علاقوں میں سپلائی کی جائے گی۔سپلائی کے لیے سولرانرجی یااوشن انرجی کے استعمال کرنے والے واٹر وے(واٹر پائپ لائن) بنانے ہوں گے۔ حکومت کا منصوبہ 2024تک ملک کے ہر گھر میں پائپ کے ذریعہ پانی پہنچانے کا ہے۔ جلد ہی نیتی آیوگ ایسی ٹیکنالوجی پیش کرے گا، جس کا استعمال مختلف ریاستیں ڈیسولنیشن پلانٹ لگانے کے لےے کرسکتی ہیں۔ ملک میں سمندری کناروں پر آباد شہروں میں بھی پینے کے پانی کی بہت کمی ہے، جس کی تازہ مثال درج بالا سطور میں پیش کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ مانسون میں بارش کم ہونے اور تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبی سطح کے سبب ملک کے بہت سے علاقوں میں ہر سال پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ ایسے پلانٹ لگانے کے لےے نیتی آیوگ نئے تشکیل کےے گئے ’جل شکتی منترالیہ‘ کی مدد کرے گا۔ ایک سینئر افسر کے مطابق ڈیسولنیشن پلانٹس کے لیے تخمینہ اور پروجیکٹ سے متعلق رپورٹ وزارت کو فراہم کرائی جائے گی۔ اس کے بعد ملک میں ایسے پلانٹس لگانے کے لیے الگ پالیسی پیش کرنی ہوگی۔واٹر مینجمنٹ انڈیکس پر گزشتہ برس نیتی آیوگ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک کو تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے اور المیہ یہ ہے کہ پانی کے معیارات کے اعتبار سے دنیا کے 122ملکوں میں ہندوستان کا مقام 120واں ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2021تک تقریباً 21بڑے شہروں میں پانی تقریباً ختم ہوجائے گا، جس کی ایک مثال موجودہ وقت میں چنئی کی شکل میں ہمارے سامنے آچکی ہے، جب کہ بھی2019ہی چل رہا ہے۔اس لیے اس سے پہلے کہ پانی کا بحران ہندوستان کے دیگر شہروں میں سامنے آجائے، پانی کے بچاؤ و رکھ رکھاؤ ، لیگیج کی مرمت اور پرانی پائپ لائنوں کو بدلنے کا کام تمام حکومتوں کو جنگی پیمانے پر شروع کردینا چاہیے ۔ اب اگرچہ اس برس شاید برسات بہت کم ہو، لیکن بارش کے پانی کو جمع کرنے کے سلسلے میں ہر سطح پر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں اپنا کام کرتی ہیں اور کرتی رہیں گی، لیکن انفرادی طور پر بھی آنے والا پانی کا بحران ہر شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ’جھوم کے اٹھی گھٹا اور ٹوٹ کے برسا پانی‘ جیسے موسم شاید چند برسوں میں اگلے زمانے کی کہانیاں نہ ہوجائیں۔ اس لیے ہر شخص بیدار ہوجائے، یہی وقت کا تقاضا ہے اور ضرورت بھی

mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں