63

پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کا خواب بھی محض جملہ ثابت ہوا


نہال صغیر
کیا پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کا خواب بھی ایک جملہ ہی ہے ۔ حالات تو یہی بتارہے ہیں کہ یہ محض ایک جملہ ہے حقیقت سے اس کا دور دور تک واسطہ نہیں ہے ۔ زیادہ دن نہیں بیتے جب وزیر اعظم نے فائیو ٹریلین اکانومی کا اعلان کیا
تھا ۔ ان کے اس اعلان کے بعد مودی حامی خوشی سے جھومتے ہوئے اپوزیشن اور ناقدین پر برس رہے تھے ۔ لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دن قائم نہیں رہ سکی کیوں کہ ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں نے اپنی خستہ مالی حالت اور تیار مال کی کھپت نہ ہونے کی شکایت شروع کردی جس سے بی جے پی نیز فائننس منسٹر سیتا رمن کے ساتھ ہی مودی جی کی بھی نیندیں غائب ہونے لگیں ۔ ہنگامی کیبنٹ میٹنگ میں کئی اہم فیصلہ لینے کی کوشش کی گئی تاکہ ملک میں معاشی مندی کے برے اثرات کو کم کیا جاسکے ۔ مثال کے طور پر گاڑی اور گھر خریدنے کیلئے قرض کے شرح سود میں کمی کی گئی ۔ظاہر سی بات ہے کہ جب طوفان آپ کے دروازے پر دستک دے چکا ہو تو پھر کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹھیک اسی طرح معاشی مندی کی سست روی کی رفتار خطرناک لائن کو پار کرنے کے درپے ہے ۔ گھبراہٹ اور سر اسیمگی میں حکومت آناً فاناً بینکوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے اس کے تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے کوشاں ہے ۔ ۳۰ ؍ اگست کو وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے پریس کانفرنس کرکے بڑا اعلان کرتے ہوئے دس بینکوں کو صرف چار بینکوںمیں سمیٹ دیا ۔ انہوںنے اعلان بھی کیا کہ انہیں رقم بھی دیجائے گی تاکہ وہ اپنا کام سہولت کے ساتھ کرسکیں ۔ اعلان تو انہوں نے یہ بھی کیا ہے کہ بینکوں کے انضمام کی کارروائی میں ملازمین کی چھٹنی نہیں کی جائے گی لیکن جس طرح موجودہ حکومت پر جھوٹ بولنے کے الزمات لگتے رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان الزامات کی واضح تردید نہیں کی گئی یا عوام کو تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا ۔اس سے بعض حلقوں میں یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ حکومت بینک ملازمین کی چھٹنی کو بھی خفیہ رکھے گی ۔ بہر حال حکومت کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بینکوںکے انضمام سے معاشی سست روی پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے نیز یہ کہ اگر ملک میں سب کچھ خیریت سے ہے تو ان بینکوںکو الگ سے حکومت پونجی کیوں مہیا کرائے گی؟حکومت کی اس کارروائی سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ معاشی سست روی کو حکومت محسوس کرنے لگی ہے اس لئے ٹھیک اسی طرح حرکت کررہی ہے جس طرح پانی میں ڈوبنےوالا شخص الٹے سیدھے ہاتھ پائوں مارکر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔
ماہرین کا معیشت کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے فائیو ٹریلین اکانومی کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے کم سے کم ۹ فیصد کی جی ڈی پی کی ضرورت ہے ۔جبکہ حالت یہ ہے کہ جی ڈی پی روز بروز نیچے کی جانب محو سفر ہے ۔ اب تازہ سروے کے کیمطابق جی ڈی پی پانچ فیصد کی رفتار سے ترقی پرہے !یہ اپریل سے جون کی سہ ماہی کے اعداد و شمار ہیں ، اس سے قبل پانچ اعشاریہ آٹھ تھی ۔یہ کمی سات سال میں سب سےنچلی سطح پر ہے ۔ ایک جانب ماہرین کی آرا ،دنیا کے بڑے بڑے معاشی تنظیموں کے اعداد و شمار اور خود ملک کی اندرونی معاشی صورتحال مالی بحران کی جانب اشارہ کررہے ہیں تو دوسری جانب وزیر مالیات نرملا سیتا رمن اب بھی پرامید ہیں کہ ان کی حکومت مودی جی کے فائیو ٹریلین اکانومی کی جانب پیش قدمی کررہی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ انکی یہ خوش فہمی ایک امریکی معاشی تھنک ٹینک گولڈ مین کی پیش قیاسی کے سبب ہو جس میں بتایا گیا کہ ہندوستان ۲۰۲۰ تک سات اعشاریہ دو کی جی ڈی پی حاصل کرلے گا ۔لیکن دوسری جانب ماہرین کی اس رائےکا کیا کریں جس میں کہا گیا ہے کہ مودی جی کے فائیو ٹریلین اکانومی کے ہدف کو پانے کیلئے نو فیصد کی رفتار چاہئے جس کی دور دور تک امید نظر نہیں آتی ہے ۔گھریلو صنعتی پیداوار میں بھی کمی کا رجحان جاری ہے ۔ دوروز قبل ٹاٹا موٹر نے بھی اپنا پروڈکشن روک دیا تھا ۔ زرعی پیداوار کی رفتار پہلے سے ہی پانچ اعشاریہ آٹھ سے گھٹ کر دو فیصد پر آگئی ہے ۔ ماہرین کاکہنا ہےکہ جی ڈی پی کی گرتی شرح پچھلے ساتھ سال میں یہ سب سے نچلی سطح پر ہے اور اس سے شیئر بازار پر بھی برا اثر پڑسکتا ہے ۔
ملک کی موجودہ معاشی حالت یہ ہے اور ہمارے یہاں اب بھی بحث کا موضوع کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ کے ہٹانے اور پاکستان سے جنگ پر ہے ۔ شاید حکمرانوں کیلئے عوامی توجہ منتشر کرنےکا سب سے آسان ذریعہ یہی ہے کہ انہیں چند جذباتی قسم کے نعروں میں الجھا دیا جائے تاکہ حکومت کی نااہلی پر وہ کوئی سوال نہ کرسکیں ۔ ویسے بھی موجودہ حکومت کو آزادانہ سوال و جواب سے پسینے چھوٹتے ہیں اور وہ پہلے سے تیار اسکرپٹ کی بنیاد پر چند خاص صحافیوں کو انٹر ویو دینے میں ہی اپنی خیر سمجھتی ہے ۔یہ خصوصی صحافی ان سے سوال بھی کرتے ہیں تو کیسے جنہیں سن کر کسی کوبھی ہنسی آسکتی ہے ۔آم چوس کر کھاتے ہیں یا کاٹ کر یا ایک چاپلوس صحافی جو دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کے مقدمہ میں تہاڑ جیل کا سفر بھی کرچکے ہیں وہ سوال کرتے ہیں آپ اتنا کام کیسے کرلیتے ہیں بغیر چھٹی کئے کہاں سے لاتے ہیں اتنی قوت اور جناب سطحی مسکراہٹ کے ساتھ ان کا منھ دیکھتے ہیں ۔عوام کو اس تعلق سے ضرور سوچنا ہوگا اور خود اسے سمجھ کر دوسروں کو بھی سمجھانے کی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی تاکہ ملک میں ایک ایسی حکومت آئے جو اسے بحران سے نکالنے میں پوری مہارت رکھتی ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں