50

ٹی این راز کے تخلیقی تیرونشتر

حقانی القاسمی
تخیل اور تحیر —طنزو مزاح کے دو مرکزی نقطے ہیں اور یہی دونوں اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ تخیل کی قوت پر طنزو مزاح کا سارا انحصار ہے اور یہ قوت آزاد فضا میں پروان چڑھتی ہے کہ بقول ممتاز شیریں ’تخیل قید میں بارآور نہیں ہوسکتا۔ ذہنی آزادی فنا ہوجائے تو ادب مرجاتا ہے۔‘یہ قوت جتنی شدید ہوگی، طنزو مزاح اتنا ہی گہرا ہوگا اور تحیر جتنا زیادہ ہوگا طنزو مزاح کی کیفیت اور اس کے طلسماتی اثر میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ تخیل کے نئے جزیرے کی جستجو کے بغیر طنز نگار کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ غیر محسوس منقطے تک رسائی صرف اور صرف طنز و مزاح نگار کی ہوتی ہے۔ ایک عبقری اور جینئس ہی سچا طنز نگار ہوسکتا ہے کہ طنز و مزاح قوت ادراک کی آزمائش کا نام ہے۔ اس کا سارا تعلق ذہنی نظام اور اس کی ڈائنامکس سے ہے۔
ہرعہد میں طنز ومزاح کے موضوعاتی مرکز و محور بھی الگ رہے ہیں۔زمانہ بدلاتوموضوعات بدلے، ترجیحات تبدیل ہوئیں، طرز فکر و احساس میں تغیر رونما ہوا۔ لسانی تکثیریت کے تجربے بھی ہوئے اور قدیم شاعر وں کے مضامین کو نئی شکلیں بھی دی گئیں۔ قدیم زمانے میں طنزو مزاح کے موضوعات بہت محدود تھے۔ شیخ اور واعظ ہی ان کے طنز کا محورتھے، مگر نئے زمانے میں موضوعات کی کثرت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے زمانے میں ہر سطح پر ناہمواریاں زیادہ ہیں۔
ٹی این رازطنزومزاح کے معتبر شاعر ہیں جنہیں اقدار کا گہرا شعور ہے۔ ان کا مشاہدہ وسیع ہے اور تجربہ میں تنوع ہے۔بدلتی ہوئی نفسیات، تبدیل ہوتی سائیکی خاص طورپر سماج اور سیاست کی سائیکی پر ان کی گہری نظر ہے۔ معاشرتی تضادات، کشمکش، تناؤ، استحصال، ظلم، مفاد پرستی، روز مرہ کے مسائل، سماج کی شعبدہ بازیاں، منافقت، رشوت، رجعت، دقیانوسیت یہ ان کے موضوعات ہیں۔ ان کے موضوع افراد اوراشخاص نہیں بلکہ سماج اور سیاست کے احوال اور مسائل ہیں۔
راز نے اظہار اور ابلاغ کی سطح پر دوسروں سے الگ تجربے کیے ہیں۔ اور یہ تجربے معمولی نہیں ہیں۔ ان تجربوں کے لیے ذہن کو بہت سی ریاضتوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سوزش ذہن کی بہت سی منزلیں سر کرنی پڑتی ہیں۔ ایک خیال یا احساس کو معرض اظہار میں لانے کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ خیال کی وسیع کائنات میں نئے خیالات کی جستجو کوئی آسان عمل نہیں ہے۔ ٹی این راز نے خیالات کی متصادم کائنات میں ذہنی اذیتیں برداشت کی ہیں تب کہیں جاکر ایک نقطہ خیال ان کی گرفت میں آیا ہے کہ خیال کو اظہار اور شعور کا حصہ بنانے کے لیے تگ وتاز کرنی پڑتی ہے۔راز نے صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے عمومی خیال میں بھی صرف اس لہر اور اس رو کو ہی دریافت کیا جو عمومیت سے ممتاز اور مختلف بنادیتی ہے۔ راز نے اس کے لیے ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا۔ لفظی، معنوی تضادات اور تصرفات کی تکنیک- ٹی این راز کے ذہن کی زرخیزی اور حقائق کی تہہ تک بہ کیفیت تحیر پہنچنے کی قوت کا اندازہ ان کے اشعار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تخلیق کار کی جستجو کی منزل اور اس کی سطح کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے۔ اشعار سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ذہن رسا کی رسائی کہاں تک ہے۔ٹی این راز کی شاعری میں ادراک کی اعلیٰ سطح ملتی ہے اور ان کے اشعار سے ان کے ادراک اور مشاہدے کی قوت وسعت اور شدت کو ماپا جاسکتا ہے۔ لفظوں کے سہارے خیال سے کھیلنے کے ہنر میں مشاق ٹی این راز کے اندر کسی بھی شے کی حقیقت، ماہیئت اور تضادات کی شناخت کرنے کی قوت موجود ہے۔ انہوں نے مختلف سماجی موضوعات میں مضحک پہلو تلاش کیے ہیں۔ وہ سارے معاشرتی کردار جو اپنے اعمال وحرکات کے سبب مضحکہ خیز بن جاتے ہیں یا سماجی اور سیاسی عدم موزونیت کی علامت بن جاتے ہیں، ٹی این راز کی شاعری میں موجود ہیں۔راز کی شاعری میں سرپرائزنگ شفٹ کی شکلیں بھی نمایاں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تخیل میں تحیر کا عنصر اور ’جوہر اندیشہ‘ کی گرمی کس حد تک ہے۔
آہِ عاشق سے نہ گرجائے کہیں دیوارِ چین
کیا پتہ مل جائے کب ٹھیکہ مجھے تعمیر کا
بیوی نے منہ کو پیٹ دیا میرے جاگ کر
اک بوسہ اس کا میں نے لیا تھا جو خواب میں
جھیل سی آنکھوں میں مَیں تو ڈوبنے والا ہی تھا
چنری میرے دل ربا کی بادباں سی ہوگئی
بس اس لیے کہ ذائقہ میں ایک تڑپ رہے
اِک زندہ مچھلی ہم نے ملادی کباب میں
ٹھنڈک سے اپنے ہونٹ ہیں سکڑے ہوئے جناب
اب سینک کر ہی ہوگی کوئی بات جاڑے میں
معاشرتی اور عائلی مسائل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ بیوی سالی، ساس اور سسر جیسے کرداروں کے ذریعہ بھی انہوں نے مزاح کی خوبصورت کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے رشتوں کی نزاکت اور نفسیات پر مزاح کا تڑکا لگایاہے۔یہ محض مزاح کے اشعار نہیں ہیں،ان میں رشتوں کے خوبصورت سلسلوں کا بیانیہ بھی ہے اور رشتوں کا پیمانہ بھی ہے۔ یہ وہ معاشرتی پیچیدگیاں ہیں جو ہرگھر کا حصہ بن چکی ہیں۔ ٹی این راز نے ان پیچیدگیوں کو مزاح کے رنگ میں کچھ یوں پیش کیا ہے اور دل کے نشاط آہنگ کا سامان کیا ہے۔ قاری ان ا شعار سے بقدر لب و دنداں محظوظ ہوسکتا ہے:
بے کسیئِ عشق کا اس طرح عنواں ہوگئیں
پہلے محبوبہ تھیں اب بچوں کی امّاں ہوگئیں
رشتہ اپنی بیوی سے اک عجب پہیلی ہے
کہنے کو سہاگن ہے ویسے وہ اکیلی ہے
بیوی جاتی ہے جب بھی مائیکے کو
کوئی بھی سالی گھر نہیں آتی
ٹی این راز نے کرپشن، بدعنوانی، رشوت خوری اور دیگر سماجی امراض پر نشتر زنی کی ہے۔ اس طرح سماج کے ناسوروں سے ان ذہنوں کو روشناس کرایا ہے جو اس طرح کی بیماریوں کو سماج کی صحت کے لیے مہلک سمجھتے ہیں۔
رشوتوں کا ختم ہوپائے نہ کوئی سلسلہ
سی بی آئی ڈھونڈتی ہو پر نشاں کوئی نہ ہو
چپو ہو رشوتوں کا جب نیتا کے دست ناز میں
کشتی ہماری قوم کی پھر سے نہ ڈگمگائے کیوں
فائلیں چلتی ہیں کچھوا چال سے
نوٹ برسیں تو روانی اور ہے
لفظی تصرف، معنیاتی تحریف سے بھی انہوں نے خیال کے نئے گل بوٹے کھلائے ہیں اور اظہار وابلاغ کی نئی شاخوں سے آشنا کیا ہے۔ ٹی این راز نے اپنے ذہن کو مدام متحرک رکھا اور اسی تحرک کا ثمرہ ہے کہ انہوں نے مضامین نو کے انبار لگادیے۔ راز نے لسانی سطح پر بھی جو تجربے کئے وہ قابل قدر ہیں۔ لسانی تکثیریت کا تجربہ گوکہ پہلے بھی بہت سے مزاح نگاروں نے کیا ہے مگر ٹی این راز نے ان لفظوں کو جس طرح برتا ہے، اس سے ان کے لسانی درک کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مہنگائی سے شہر میں یارو جب سے دونا رینٹ ہوا
ان کا دل ہی اپنی خاطر بنگلہ جھگی ٹینٹ ہوا
خوش قسمت ہیں وہ سب جوڑے اس دنیا میں دنیا والو
جن کی شادی ہو نہیں پائی لیکن سیٹل مینٹ ہوا
ایک مزاح اور طنز نگار معاشرہ کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے جس میں آفاقیت ہوتی ہے۔ ٹی این راز کی بینائی میں نگاہِ شوق بھی شامل ہے اور انہیں شوخیِ نظارہ بھی نصیب ہے۔ اس لیے ان کے آئینہئ ادراک میں مسائل کے تمام عکس اور زاویے روشن ہوجاتے ہیں اور ان زاویوں میں طنز کے عناصر کی شمولیت کی وجہ سے اشعار کی معنویت اور بڑھ گئی ہے۔
ٹاڈا میں بند ہوگئے ہم دیکھئے حضور
بچوں کی گھر میں رکھی تھی پسٹل حفاظتاً
ہے یہی جی میں کہ ہم سب خانہ جنگی میں مریں
ملک پہ مٹنے کی خاطر خانداں کوئی نہ ہو
راز کے ترکش میں ایسے بہت سے تیر ہیں جن سے سماج اور سیاست کا جگر چھلنی ہوسکتا ہے۔ راز نے غالب کی زمینوں میں غزلیں /ہزلیں کہی ہیں اور غالب کے تخلیقی تجربوں کو اپنے تخلیقی شعور کا حصہ بنایا ہے۔راز کے تخلیقی شعور میں جو برق تجلی ہے، وہ غالب ہی کا فیض ہے۔ غالب کے باطنی وجود کے ساتھ انہوں نے بھی مستانہ رہ وادی خیال طے کیا ہے۔ ان کے Existenceاور Experieneمیں غالب شامل ہیں۔ ان کے شعور اور حسیت میں فکر غالب کا حاوی حصہ ہے۔
’غالب اور درگت‘ میں انہوں نے غالب سے ہم رشتگی کا ثبوت دیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ غالب کی تخلیقی حسیت ہر رنگ میں بہار کا اثبات کرتی رہتی ہے۔ ’غالب اور درگت‘ میں بیشتر مزاحیہ غزلیں غالب کی سنجیدگی کو مزاح کے پیرائے میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش ہے مگر ٹی این راز نے غالب کے علاوہ ذوق، فانی، جگر اور دوسرے شعراء کی زمینوں میں بھی شعر کہے ہیں اور فکری سنجیدگی کو مزاحیہ پیکر میں ڈھالا ہے۔ راز نے تقابلی ذہن یا تضاد کی تکنیک کا بہت ہی خوبصورت استعمال کیا ہے۔
ان کے یہاں خیال کی شادابی نظر آتی ہے۔ دراصل انہوں نے اپنی شاعری میں جہاں معاشرہ کو طنز کا نشانہ بنایا ہے، وہیں اپنی ذات کو بھی تمسخر کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا اور یہی ایک طنز ومزاح نگار کا کمال ہوتا ہے کہ وہ خود کو معاشرہ کا ایک کردار سمجھتے ہوئے اپنا مذاق آپ اڑاتا ہے۔ راز نے اپنے شعروں میں اپنا جو طنزیہ سیلف پورٹریٹ پیش کیا ہے، اس میں سماج کا ہر وہ فرد شامل ہے جس کی حرکتیں تمسخر کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
تعریف اتنی کرتے ہو کیوں راز کی جناب
کیا جانتا نہیں ہوں بھلا اس لچر کو میں
جوتیاں کیوں کر نہ پڑتیں منچ پر مردود کو
لفظ ہر بیہودہ تھا کل راز کی تقریر کا
کاجو چراکر دوست کی شادی سے آج ہی
لائے جنابِ راز یہ سوغات جاڑے میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں