146

ٹرین کا تجربہ


مولانامحمدطاہرمدنی

کل میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھا، رات میں کیفیات ایکسپریس سے واپسی ہوئی، میرے سامنے والی برتھ پر ایک سوامی جی دہلی سے سوار تھےـ جب تعارف ہوا تو معلوم ہوا یہ بھی اعظم گڑھ کے ہی ہیں، آج کل دہلی میں قیام پذیر ہیں، ان کی عمر 80 برس ہے، چند برس پہلے سنیاس لے لیا ہے، بی ایچ یو اور علی گڑھ کے فیض یافتہ، 1972 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انگریزی میں ایم اے کیا، جنم استھان بیربل پور پوسٹ چندا بھاری، ضلع اعظم گڑھ ہے، یہ گاؤں نظام آباد قصبہ کے قریب واقع ہے،تدریس کے پیشے سے ریٹائرمنٹ ہوئی، اب مکمل طور پر روحانیت کے لیے سمرپت ہیں، کئی کتابوں کے مصنف ہیں،جن میں گیتا کی شرح بھی شامل ہے، چند کتابوں کا تحفہ دیا، ان کے ساتھ بڑا اچھا سفر رہا اور دھارمک موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ـ
دوران گفتگو کہنے لگے کہ میں نے قرآن کا ہندی انواد پڑھا ہے، حدیث کا ہندی انواد پڑھنے کی شدید خواہش ہے، کئی لوگوں سے کہا لیکن اب تک محرومی ہے، آپ اگر فراہم کردیں تو بڑی مہربانی ہوگی ـ میں نے کہا، ضروران شاءاللہ ـ
سوامی تری پوراریانند جی کی منزل بھی اعظم گڑھ ہی تھا،چنانچہ میں نے بیناپارےکے ایک انتہائی فعال نوجوان حافظ محمد اشرف کو فون کیا اور کہا کہ سرائے میر میں جناب عقیل احمد اعظمی امیر مقامی جماعت اسلامی کے مکتبہ البدر بک سنٹر پرجائیں اور مجھ سے بات کرادیں، انہوں نے وہاں جاکر بات کرائی، میں نے جناب عقیل احمد اعظمی صاحب کو صورتحال بتائی اور کہا کہ جناب محمد فاروق خان صاحب کی”حدیث سوربھ”اور سیرت کی کوئی کتاب سوامی جی کیلئے عنایت فرمادیں، انہوں نے پانچ وولیوم میں حدیث سوربھ اور سیرت کی ایک کتاب” وہ جس کا انتظار تھا” عنایت کی، یہ کتاب” دریتیم”کا ہندی ترجمہ ہےـ حافظ محمد اشرف کتابوں کا پیکٹ لے کر سرائے میر ریلوے اسٹیشن آگئے اور میں نے یہ ہدیہ سوامی جی کو پیش کردیا، انہوں نے انتہائی ممنونیت اور جذبات تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ برسوں کی مراد آج پوری ہوئی، جب طلب صادق ہوتی ہے تو ایشور کی مدد ہوتی ہے،بہت خوشی کے ساتھ یہ تحفہ انہوں نے بیگ میں رکھا،جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا، موبائل نمبرات کا تبادلہ ہوا اور رابطے میں رہنے کی بات ہوئی، اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ان کو ریسیو کرنے والے موجود تھے، دعا سلام کے بعد ان سے رخصت ہونے کی اجازت لی ـ اللہ کرے قرآن کے مطالعے کے بعد سیرت اور حدیث کا مطالعہ ان کیلئے مفید ثابت ہو اور وہ بھی ہمکنار سعادت ہوجائیں ـ ہمارے گرد و پیش میں رہنے والے بہت سارے لوگ پیاسے ہیں، ان تک اسلام کا پیغام رحمت پہنچانا ہم سب کی ذمے داری ہےـ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائےـ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں