193

ٹرم ورک(افسانہ)

ابوقتادہ بلال
وہ اپنے کمرے میں کوئی نوٹس ڈھونڈ رہا تھا، اگلے دن اس کا انٹرنل اسیسمنٹ ٹیسٹ تھا،گرچہ اس نے مکمل نصاب دیکھ لیا تھا، مگر وہ اس ٹیسٹ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا؛ اس لئے استاذ کے لکھوائے ہوئے نوٹس کو بھی ایک بار دیکھنا چاہتا تھا، آخر تھک ہارکر اس نے اپنے دوست خالد کو فون لگا یا۔
’’یار خالد، فیروز سر کے لکھائے ہوئے نوٹس ہوں تو اسکا PDF مجھے بھیج دو‘‘۔
’’یار تم تو اس مصنف کی کتاب پڑھ رہے تھے،کیا نام تھا اسکا؟‘‘۔
’’فرینک وہائٹ‘‘۔
’’اوہ۔۔۔ہاں۔۔۔ وہی۔۔ تو سر کے نوٹس کی کیا ضرورت پر گئی ٹاپر صاحب؟!‘‘۔ خالد کے لہجے کا طنز ٹیلوفون چھپا نہیں پایا۔
’’ارے انٹرل میں رسک نہیں لینا چاہتا ہوں، ذرا سی کمی سیمسٹر کے رزلٹ کو متاثر کردے گی‘‘۔
’’اوہ یاد آیا، کونسی یونیورسٹی کی تیاری چل رہی ہے؟‘‘۔
ایک خاص انسٹیٹیوٹ،بتایا تھا نا،ہر سمسٹر میں 9 پوائنٹر ضروری ہیں داخلہ کے لئے‘‘۔ زبیر نے جواب دیا۔
’’چلو بیسٹ آف لک، میرے لئے بھی دعا کرنا‘‘۔
’’ضرور! انشاء اللہ‘‘۔ سامنے سے فون رکھ دیا گیا۔
***
خالد اس کے بچپن کا دوست تھا، اسکول،کالج پھر یورنیورسٹی میں انہوں نے ساتھ ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ اب گریجویشن کا آخری سمسٹر تھا، زبیر جس کے ہر سمسٹر میں نو سے زیادہ پوائنٹر آئے ہوئے تھے، اس سمسٹر میں بھی کم از کم نو لانا چاہتا تھا۔ وہ ہر انٹرل،وائیوا اور اسائمنٹ وغیرہ پر خاص توجہ دے رہا تھا، ذرا سی کمی اس کے خواب کو چکنا چور کر سکتی تھی، وہ ایک اسپیشل ادارے میں داخلہ چاہتا تھا ،جو گریجویشن سے ٹاپر طلبا کو چن کر ان کو دو سال میں ٹرینڈ کر دیتا تھا، اس ادارے کے طلبہ کا سماج میں ایک خاص مرتبہ تھا۔
کچھ دیر بعد خالد نے پی ڈی ایف فائل وٹس اپ پر ارسال کردی، زبیر نے ایک نظر ڈالی اور پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھے تھرموس سے کافی نکال کر پینے لگا، وہ ہر دن، ایک خاص مدت تک تیاری کر کے کافی پیتا اور پھر کتابیں رکھ کر جو کچھ پڑھا ہے ،اسے سوچنے لگتا،اس طرح کہ دیکھنے والا سمجھے کہ مراقبہ ہورہا ہے، زبیر کے ایک بزرگ نے اسے اس تعلیمی مراقبہ کا طریقہ بتایا تھا، گردن جھکائے بیٹھا تھا کہ اس کی ماں کی آواز آئی۔
’’ بیٹا زبیر ذرا ادھر آنا‘‘۔
’’جی، آیا‘‘ وہ دوڑتا ہوا کچن کی جانب بڑھا ’’جی امی کہئے‘‘۔
’’ آج دودھ ملاوٹی لگ رہا ہے‘‘، مسز سلیم نے دودھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا؟‘‘ زبیر نے چونکتے ہوئے دودھ کی طرف دیکھا ’’کل اس کی خبر لیتا ہوں‘‘۔
’’دیکھو زیادہ مت کہنا، ہوسکتا ہے غلطی ہوئی ہو‘‘، مسز سلیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
***
’’کیوں بھائی خالد پیپر کیسا گیا؟‘‘،زبیر نے امتحان ہال سے نکلتے ہوئے خالد کو چھیڑا۔
’’یار 3 مارکس کا ایک سوال چھوٹ گیا ،ورنہ اس بار تو تجھ سے زیادہ نمبر میرے ہی تھے‘‘، خالد مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ہاہا،چل اگلی بار ٹاپ مارلینا‘‘۔
’’بھائی !یہ آخری سمسٹر ہے‘‘۔
’’تجھے دیکھ کر تو لگ رہا ہے کہ ایک اور سمسٹر دینا پڑے گا‘‘، زبیر غالبا کل کا بدلہ نکال رہا تھا۔
’’صحیح ہے بیٹے، آج بہت چہک رہے ہو،کیا بات ہے؟‘‘۔
’’کچھ خاص نہیں، پیپر اچھا گیا ہے، الحمدللہ‘‘ زبیر کچھ سوچتے ہوئے بولا :
’’ یار یہ انصار دودھ والے کے یہاں جانا ہے مجھے،چلے گا؟‘‘۔
’’ابھی مہینہ ختم ہونے میں تو وقت ہے،کیا کام ہے؟‘‘۔
’’ایک ضروری کام ہے، چلنا ہے تو بول‘‘۔
’’ہاں چل رہا ہوں بھائی‘‘ خالد اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتا ہوا ساتھ چل دیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ انصار دودھ والے کے یہاں تھے۔ علیک سلیک کے بعد زبیر اصل بات کی طرف آگیا۔
’’کیا بات ہے انصار بھائی کل امی کہہ رہی تھیں کہ دودھ میں ملاوٹ تھی‘‘۔
’’ارے نہیں صاحب !کیسی بات کر رہے ہیں، بڑے صاحب کے گھر ملاوٹ والا دودھ تھوڑی بھیجیں گے‘‘۔ انصار نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’اے کل سلیم صاحب کے یہاں دودھ دینے کون گیا تھا؟‘‘، اس نے ساتھ کھڑے لڑکے سے پوچھا۔
’’سلمان گیا تھا بھائی‘‘ لڑکے نے دھیمی آواز سے کہا’’واپسی میں کہہ رہا تھا کہ شائید تھیلیاں بدل گئی ہیں‘‘۔
’’ارے زبیر بھائی کل غلطی ہوگئی تھی،آج سے دوسرے لڑکے کو بھیجونگا، آپ کو دودھ صحیح ملے گا‘‘۔
’’آپ کو مطلب؟‘‘ زبیر حیرت سے بولا ’’ کیا تم لوگ دو طرح کا دودھ بیچتے ہو؟‘‘۔
یہ سن کر وہاں کھڑے لڑکے ہنسنے لگے۔
’’ارے زبیر بھائی، جو صاحب لوگ ہیں ان کے یہاں خالص دودھ بھیجتے ہیں باقی کے یہاں تو۔۔۔‘‘ انصار نے آنکھ مارتے ہوئے بات ختم کی۔
’’یار یہ تو غلط ہے‘‘ خالد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’کیا غلط ہے صاحب، ہمارے بھی تو بہت خرچے ہیں، ان بچوں کو دینا ہوتا ہے، پھر علاقہ کے تھانے میں ہر ہفتہ پیسا پہنچتا ہے، نہیں پہنچے گا تو پولس والے اس دکان کو غیر قانونی قرار دے کر بند کرا دیں گے‘‘۔ انصار گویا پھٹ پڑا۔
’’یار تم پولس والوں کو خوش کرنے کے لئے لوگوں کا نقصان کررہے ہو؟‘‘ زبیر فیصلہ کن انداز میں بولا’’ مجھے تمہارے یہاں سے دودھ نہیں لینا ہے، آج لڑکے کو بھیج دینا، پیسہ مل جائے گا‘‘۔
’’صاحب، پھر لوگے کہاں سے؟ میں تو تم کو خالص دودھ دیتا ہوں،دوسرے لوگ تو رعایت بھی نہ کریں‘‘، انصار کے تیور بدل گئے۔
’’کوئی نہیں ملے گا ،تو پیکٹ کا دودھ استعمال کر لیں گے، چل خالد‘‘۔
’’ارے صاحب ہماری مجبوری ہے‘‘۔
’’کیا مجبوری ہے؟‘‘، زبیر گھورتا ہوا بولا۔
’’آپ کو تو خالص دے رہے ہیں نا زبیر بھائی!دوسروں کے چکر میں اپنا نقصان کیوں کرتے ہو؟ ارے زبیر بھائی۔۔۔ بھائی سنو تو!‘‘۔ زبیر نکل چکا تھا۔
’’ بڑوں سے ظلم سہنے اور چھوٹوں پر کرنے والے کو مجبور کہیں گے یا بے حس اور بے غیرت کہیں گے؟‘‘، اس نے چلتے ہوئے خالد سے پوچھا۔
’’پتا نہیں، پر تمہیں ضرور گاندھی جی کہیں گے‘‘۔زبیرمسکرا دیا۔
***
’’ بھائی زبیر !سنو تو‘‘، اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی۔
’’ارے عاکف کیا ہوا، اتنا گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟‘‘، یہ ایک کلاس میٹ تھا۔
’’بھائی ایک مسئلہ ہے‘‘، وہ ہانپتے ہوئے بولا’’آپ کو تو پتا ہوگا ہماری کلاس کے کچھ طلبہ نے طلبہ کے لئے ہونے والے ایک ایونٹ میں حصہ نہیں لیا تھا‘‘۔
’’ہاں پتا چلا تھا‘‘ زبیر ہنستے ہوئے بولا ’’یہ تو عام سی بات ہے یار، ہر بیچ میں اس قسم کی بات ہوتی رہتی ہے‘‘۔
’’مگر بھائی ہماری فائل کا سبمیشن روک دیا گیا ہے‘‘، اس نے روہانسی آواز میں کہا۔
’’کیوں بھائی، کس نے روکا ہے؟‘‘، زبیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
’’ایک نئے سر آئے ہیں نا، کیا نام ہے ان کا۔۔۔ ارے۔۔۔ ہاں حامد سر‘‘، عاکف ذہن پرزور ڈالتا ہوا بولا۔
’’تم لوگ ایچ او ڈی سر کے پاس کیوں نہیں چلے جاتے؟‘‘، زبیر نے ایک حل پیش کیا۔
’’گئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ وہ سر کا ذاتی معاملہ ہے‘‘۔
’’چلو میرے ساتھ‘‘، زبیر ایچ او ڈی آفس کی جانب بڑھا۔
’’سر مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے‘‘ اس نے بہت ادب سے بات شروع کی۔
”ہاں بیٹے کہو” ایچ او ڈی سر نے عاکف کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
”سر کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ان لوگوں کا سبمیشن کیوں روکا گیا ہے؟”۔
”اوہ! حامد سر کی بات کر رہے ہو؟، دیکھو بیٹا یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، انہی سے بات کرو‘‘۔
”سر آپ کچھ نہیں کر سکتے؟ ”، زبیر نے پرامید ہوکر پوچھا۔
”دیکھو بیٹا، تمہارا آخری سمسٹر ہے، ان کا بھی ہے،” وہ عاکف کی طرف دیکھ کر بولے ” ہم تمہارا برا نہیں چاہیں گے، مگر حامد سر کا رکارڈ بہت اچھا ہے، ان کو آئے ہوئے چار ہی مہینے ہوئے ہیں اور وہ اگلے مہینے جا بھی رہے ہیں ،مگر ان کے بارے میں بچوں کا روِیو (review) بہت اچھا ہے،تم بھی تو جانتے ہو؛ اس لئے میں ان سے اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ ایچ او ڈی نے ٹھہرٹھہر کر اپنی بات کہی۔
وہ لوگ ایچ او ڈی کے کمرے سے باہر آگئے،راہداری میں خالد مل گیا، اس کے پوچھنے پر زبیر نے مکمل واقعہ بتا دیا۔
”ابے عاکف کیا ٹینشن لیتا ہے”خالد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ”آج نہیں تو کل سبمیشن لے ہی لیں گے”۔
”بھائی،میں یہاں کا مقامی نہیں ہوں، مجھے تھیوری اگزام سے پہلے کی (preparatory leave) میں گھر جانا ہے، ٹکٹ بھی بن گیا ہے، میں اس بھاگ دوڑ میں پریشان ہوگیا ہوں”۔ وہ روہانسی آواز میں بولا۔
” چلو بھئی حامد سر کے پاس، جب خود گاندھی جی تمہارے ساتھ ہیں ،تو کوئی ظلم تم پر نہیں ہوسکتا ”۔ خالد ہنستے ہوئے حامد سر کے کیبن کی طرف چل دیا۔
”دیکھئے زبیر،کسی کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے غلطی کی ہے، سزا تو ملے گی ” حامد سر نے آنے کی وجہ جان کر دو ٹوک انداز میں اپنی بات رکھ دی۔
زبیر نے خالد اور عاکف کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔
”سر دیکھئے، میں سمجھتا ہوں کہ اس ایونٹ میں حصہ لینا ضروری تھا، مگر سر ن کے پاس بھی تو کچھ عذر تھا!‘‘۔
”کیا عذر تھا” حامد سر نے پوچھا ” بتانا پسند کریں گے آپ؟”۔
”سر، اچھا چلئے اس بحث میں نہیں پڑتے ہیں، ہوسکتا ہے اس کی کوئی مجبوری ہو، سر آخری سمسٹر ہے، جاتے ہوئے مہمان کو تو سبھی معاف کر دیتے ہیں”،زبیر نے جذباتی تیر چلانے کی کوشش کی۔
”مہمان!”،انہوں نے ہلکے قہقہے کے بعد کہا، ”دیکھو زبیر، یہاں سے میں بھی جانے والا ہوں؛اس لئے یہ مہمان والا پینترا تو میرے سامنے نہیں چلے گا”۔
”سر پلیز ”۔
”دیکھو اب تم میرا وقت برباد کر رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے تمہارا بھی نقصان ہوجائے” حامد سر کے چہرے پر عجیب مسکراہٹ تھی۔
اچانک سر کا موبائل بج اٹھا۔
”جی سر۔۔۔ہاں سر آیا ہے۔۔۔۔۔جی سر۔۔۔ مگر سر۔۔ سر میرے کچھ اصول ہیں سر۔۔۔۔ ٹھیک ہے سر۔۔۔۔”۔
حامد سر نے موبائل رکھ کر زبیر کو گھور کر دیکھا۔
”اس سے کہو، فائل وہاں رکھ دے اور اس پیپر میں سائن کر دے”۔
عاکف نے فورا اندر آکر فائل رکھی اور دستخط کردی۔ وہ لوگ شکریہ کہتے ہوئے باہر نکلے۔
”زبیر صاحب،” سر نے آواز لگائی” اس بچے کے مارکس کم پڑ رہے ہیں، آپ کے کچھ مارکس دے دوں؟‘‘۔ حامد سر مسکرا رہے تھے۔
زبیر ہنستے ہوئے نکل گیا۔
***
وہ اپنے گھر کا کچھ کام کر رہا تھا۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی، اس نے لپکتے ہوئے اٹھا لیا۔
”ہاں خالد”
”رزلٹ آگیا ہے ،لنک بھیجی ہے، دیکھ لو”۔
”لنک میں تو صرف پاس فیل بتاتا ہے؟”
”ہاں تو اس’ پاس’ کا اسکرین شارٹ لے کر تمہارے ادارے میں جمع کرا دو، مارکس پندرہ دن میں آجائیں گے” خالد نے پوری تفصیل بتائی۔
***
آج زبیر بہت خوش تھا، داخلے کی تمام کروائی ہو گئی تھی، بس رزلٹ میں نو پوئنٹر کے اوپر کے مارکس کا زیروکس جمع کرواکر فیس بھرنی تھی۔
آج مارکس آنے کے دن تھے،خالد کا میسیج آیا کہ مارکس آگئے ہیں، لنک بھی اس نے بھیج دی تھی۔
زبیر نے لنک کھولی، ٹیبل میں اپنا رول نمبر تلاش کرنے لگا، نظر پڑی تو فورا پوائنٹر کی طرف دیکھا۔
وہاں جلی حروف میں لکھا ہو تھا 8.78 (Eight Point Seven Eight). اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ ”کس سبجیکٹ میں اتنا مارکس کٹ گیا؟” وہ بڑبڑاتے ہوئے مارکس چیک کرنے لگا، اس کی نظر ایک سبجیکٹ کے ٹرم ورک کے مارکس پر رک گئی۔
”اوہ۔۔۔۔۔حامد سر۔۔۔۔۔۔” وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
اس کی نظر کے سامنے حامد سر کا مسکراتا چہرا آنے لگا۔
اگلے دن وہ انصار دودھ والے کے یہاں موجود تھا۔
”انصار بھائی کل سے دودھ آئے گا” اس نے کہا اور سر جھکائے ہوئے چل دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں