66

وہ ماں اور وہ باپ


رعایت اللہ فاروقی

بچوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے تو کئی کالم ہوئے، سوچا کیوں نہ ایک کالم ان بڑوں سے متعلق بھی ہوجائے،جو ساری زندگی ان بچوں کے ہاتھوں دُکھتے رہتے ہیں۔ یعنی وہ ماں، جو یہ جاننے کے باوجود پہلی بار ماں بننے کے احساس سے ہی سرشار ہوگئی تھی کہ یہ انسانی زندگی کے کٹھن ترین نو ماہ کا آغاز ہے اور وہ باپ، جو باپ بننے کی خوش خبری پا کر پہلے مسرت سے جھوم اٹھا اور پھر گہری سوچوں میں غرق ہوگیا۔ وہ ماں جس نے گائنا کولوجسٹ کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ اگر کوئی مشکل پیش آئے،تو مجھے نہیں،میرے بچے کو بچانا اور وہ باپ، جو ادھار کی مٹھائی سے دوستوں کا منہ میٹھا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہا تھا کہ میں تو اپنے شہزادے کو افسر بناؤں گا۔ وہ ماں،جو خود بھوکی سوجاتی، مگر لاڈلے کا پیٹ کبھی خالی نہ رہنے دیتی اور وہ باپ،جو خود پرانے کپڑوں میں عید کر لیتا؛ لیکن اسی عید پر اسے تین تین سوٹ دلواتا۔ وہ ماں،جس کا کبھی کیلشیم پورا ہوا اور نہ ہی کوئی ویٹامن؛لیکن اس کی صحت پر اس نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور وہ باپ،جو چپ چاپ خود کو کچھ بڑی بیماریوں کا اسیر کر گیا،مگر بچے کی دوا دارو میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ وہ ماں جو اس کی فرمائشوں کے حق میں اس کے باپ سے لڑ پڑتی اور وہ باپ، جس کی سوالیہ نظریں آسمانوں میں کسی کو تلاش کرنے لگتیں۔ وہ ماں جو اس کے کھلونوں کی محافظ بنی رہی اور وہ باپ،جو اسے میلوں ٹھیلوں میں کاندھوں پر اٹھائے پھرا کیا۔ وہ ماں، جس کے ہونٹوں کا لمس اس کے گالوں میں نور بھرتا رہا اور وہ باپ، جس کی تھپکی نے اس کے دل و دماغ کو عزم آشنا کیا۔ وہ ماں جس کا موٹو تھا ’’بس بچہ سکھی رہے‘‘ اور وہ باپ، جس کا منشور تھا’’ہماری عید تو بچے کی خوشی میں ہے‘‘ وہ ماں، جو خود سال پرانی دوا بے دھڑک حلق سے اتار لیتی، مگر بچے کے معاملے میں کہتی ’’ایکسپائری ڈیٹ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، آپ نئی شیشی لے آئیں‘‘ اور وہ باپ، جو اپنے معاملے میں تو کہتا ’’معمولی سی تکلیف ہے، ایک دو دن میں خود ٹھیک ہوجائے گی‘‘ لیکن بچہ ذرا سا کھانس بھی دیتا تو کہتا ’’ابھی دوا لاتا ہوں ، فوراٹھیک ہوجاؤگے‘‘ وہ ماں،جو اس کی نک چڑھی ٹیچر کے نخرے اٹھاتی اور وہ باپ، جو اس کے تعلیمی خرچے پورے کرنے کے لئے کبھی پارٹ ٹائم نوکری کرتا، تو کبھی اوور ٹائم لگاتا۔ وہ ماں، جس کا ہر رات سونے سے قبل آخری کام اس کا یونیفارم استری کرنا ہوتا اور وہ باپ، جو نہار منہ اس کے سکول شوز چمکاتا۔وہ ماں،جو سکول سے واپسی پر اس سے پہلا سوال یہ پوچھتی کہ ’’لنچ کھایا تھا ؟‘‘ اور وہ باپ، جس کا سوال ہوتا ’’تمہیں سکول میں کوئی مارتا تو نہیں ؟‘‘ وہ ماں،جو اس کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر شکرانے کے نفل پڑھتی اور وہ باپ،جو اس کے پوزیشن لینے پر سستی سی سہی،مگر مٹھائی بانٹتا۔ وہ ماں، جس نے بی سی ڈال کر اسے سپورٹس سائیکل دلوائی تھی اور وہ باپ،جس نے اسے پیروں پر چلنا ہی نہیں یہ سائیکل چلانا بھی سکھائی تھی۔ وہ ماں، جس نے اس کے کالج اور یونیورسٹی کے داخلے کے لئے روزوں کی منت مانی تھی اور وہ باپ،جس نے سجدوں سے اس کی کامیابی کو جلا بخشی تھی۔ وہ ماں،جس سے اس نے پوچھا تھا ’’ہم غریب کیوں ہیں ؟‘‘ اور وہ باپ،جسے اس سوال کی سولی پر لٹکایا تھا کہ ’’آپ کے پاس کار کیوں نہیں ہے ؟‘‘وہ ماں، جس نے جواب دیا تھا ’’جب تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے گا، تو ہم غریب نہیں رہیں گے‘‘ اور وہ باپ،جس نے اسے یہ بیش قیمت راز بتایا تھا ’’بیٹا ! باپ کی کار میں پھرنا کمال نہیں ہوتا، باپ کو اپنی کار میں گھمانا کمال ہے، ہم تیری کار میں گھومیں گے، توکمال دکھائے گا‘‘ وہ ماں، جس کی آنکھوں سے اس کے ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے پر سجدے بہہ نکلے تھے اور وہ باپ، جس نے اس موقع پر آنکھیں موند کر ایک لمبی گہری سانس پہلے اندر کھینچی اور پھر باہر چھوڑ کر بولا ’’مالک تیرا شکر ! یہ بس تیرا ہی کرم ہے کہ سرخ رو ہوئے !‘‘ اور پھر اس رات مدتوں بعد پہلی بار وہ اس مسافر کی سی گہری اور پرسکون نیند سویا،جو بہت تھکا دینے والی طویل مسافت طے کرکے منزل پر پہنچا ہو۔ وہ ماں، جو اس کے لئے بہت تاک جھانک کر رشتہ ڈھونڈ لائی اور وہ باپ، جس نے اس کا خانہ آباد کیا۔ وہ ماں، جو اس کی ترقیوں سے خوش اور باپ، جو اس کی رفعتوں پر نازاں۔ وہ ماں،جو اب افسر کی ماں ہونے کے باوجود بھوکی سوتی ہے؛ کیونکہ افسر باہر سے ڈنر کر آتا ہے اور ماں کو اس کے بغیر کھانے کی عادت نہیں۔ وہ باپ، جو اس کے افسر بننے سے پہلے اس کے مستقبل کے لئے اندیشوں سے الجھا رہتا اور جو اب اس کے حال سے بھی کرب کی تیغ سے کٹتا ہے۔ وہ ماں جو اب بھی سال پرانا سیرپ پیتی ہے اور وہ باپ جو اب بھی قدیمی بیماریوں سے جوجھ رہا ہے۔وہ ماں،جسے افسر گاؤں چھوڑ آیا ہے اور وہ باپ،جسے مہمانوں کی موجودگی میں ڈرائنگ روم آنے کی اجازت نہیں۔ وہ ماں، جو اس کی خیریت پوچھنے کو فون کردے، تو افسر بیٹے کی طیش بھری آواز کہتی ہے ’’ماں کتنی بار کہا ہے، آپ فون مت کیا کریں، میں خود کروں گا‘‘ اور وہ باپ، جس نے کل ہی سنا ’’یہ جو اندر گئے ان کا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ ہمارے دور کے ایک انکل ہیں، گاؤں سے آئے ہیں‘‘ وہ ماں، جو گاؤں میں ہی ٹی بی سے مرگئی تھی اور وہ باپ، جس نے ایک چھپر ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے خبروں میں دیکھا کہ اس کے افسر بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تو اسی شام کے اخبارات میں ایک سنگل کالمی خبر لگی ’’شہر کے چھپر ہوٹل سے لاوارث بزرگ کی لاش ملی،جسے سرد خانے منتقل کردیا گیا !”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں