46

وجہ تخلیق ِ کائنات ہے عشق


ابوبکر عباد
شعبۂ اردو،
دہلی یونیورسٹی،دہلی۔

شاعر اور شاعری کو علمائے کرام نے قرآنی آ یت ’والشعراء یتبعون الغاوون الم تر انھم فی کل وادیہیمون‘ کی بنیادپرشک اور مخاصمت کی نظروں سے دیکھااور انھیں راندۂ درگاہ بتایاہے ۔ اسی طرح یونانی فلاسفر افلاطون نے شاعری کو اصل کی نقل جانا اور شاعر کو تیسرے درجے کا نقال محض قرار دے کرانھیں اپنی مثالی ریاست سے دربدری کا حکم سنایا۔ یوں انصرام معاشرت کے یہ دو اہم دعویدار ادارے یعنی مذہب اور فلسفہ شاعری کولغو اور لا یعنی سمجھ کر شاعروں کو اپنے محفوظ قلعوں میں داخل ہونے سے روکنے کے جواز پیش کرتے رہے۔ حالانکہ عمدہ شاعری سے متعلق خود علمائے کرام اورعالمِ انسانیت کے آئیڈیل محمد عربی کی پسندیدگی کے مستند ثبوت موجود ہیں، اورشاعر کی تعریف میں اُن کے کہے ہوئے الفاظ تاریخ کے صفحات پر معتبر شہادت کا درجہ رکھتے ہیں۔ روایت تو یہ ہے کہ نبی امّی نے بھی ایک شعر کہا تھاجس کا دوسرا مصرعہ ہے: انا محمدعربی۔
شاعروں سے نالاں افلاطون کے لائق شاگرد ارسطو نے استاذ کے تصورات و نظریات کونہ صرف وسعت دی بلکہ ان کا تنقیدی اور معروضی جائزہ لیا اور ان کے بعض تصورات کی تشکیلِ نو بھی کی۔ ان میں سے سب سے اہم اور معروف ’تصور شعر‘ اور’ شاعر سے متعلق خیالات‘کی تشکیل نو ہے۔ ارسطو نے اپنے استاذ کے بر عکس شاعر اور شاعری کے دوسرے پہلوؤں کوبھی دیکھا، کچھ نئے پہلو دریافت کیے، اُن پر غورکیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ شاعر اور ان کی شاعری بھی ملک اور معاشرے کے لیے اتنے ہی محترم، ضروری اور کارآمد ہیں جتنے دوسرے علوم وفنون اور عالم وفنکار۔ سو، ارسطو نے اس بات کا اعتراف کیا اور اظہار بھی کہ اس معاملے میں ان کے مربی افلاطون سے سہو ہوا ہے، اور یہ کہ شاعروں کو اُن کی اپنی مثالی ریاست سے دیس نکالا دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔
بعض مذہبی عالموں نے بھی شاعری سے متعلق قرآنی آیت کی شان نزول کو سمجھنے کی غیر جانبدارانہ کوششیں کیں، معقول دلائل پیش کیے اور اس سے متعلق آیت اور احادیث میں تطابق کی تعبیریں بھی خوب کیں۔ لیکن ان سب کے باوجود علماء کی ایک بڑی جماعت شاعری کو دل کی گہرائیوں سے قبول نہ کر سکی، اور نہ شاعروں کو ہمسر ماننے پر آمادہ ہوئی۔ ہاں انھوں نے یہ ضرور کیا کہ بعض شاعروں سے ان کے افکار و نظریات کے باعث قربت محسوس کی اور کچھ شاعری کو لفظیات، ادائے خیال اور شدت اظہار کی بنا پر نہ صرف اپنایا بلکہ تواتر کے ساتھ انھیں اپنی تقریرو تحریرکا حصہ بناتے اور نجی محفلوں میں استعمال بھی کرتے رہے۔اس حوالے سے ان کے پسندیدہ شاعروں میں مولانا روم، حافظ، سعدی،خسرو، اقبال ، مومن اور کسی حد تک فیض احمد فیض شامل ہیں۔یعنی ہمارے علماء نے کتاب ِ شاعری کے محض ایک باب کو ضرورتاًمباح قرار دے لیا، یااستعارے کی زبان میں کہیں تو، آسودگیٔ ذوق کی خاطر از قسم ِ’مشروبات‘ میں سے ’نبیذ‘ کوپسند فرمایا۔شاید ایسے ہی اختیارواستنباط کے فلسفے کو بیان کرنے کے لیے اصغر گونڈوی نے کہا تھا:

اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
کچھ قید و رسم نے جسے ایماں بنا دیا
اور سچ تویہ ہے کہ وفور جذبات، شدت احساس اور زوربیان کے سب سے حسین ،نفیس اور فطری ذریعۂ اظہار کو بھلا کون صاحب ذوق اورجمالیات کا عاشق ہوگا جو اپنانا نہ چاہے گا۔ورڈزورتھ نے کہا تھا کہ’’ شاعری جذبات کے بے اختیار بہہ نکلنے کا نام ہے۔‘‘اور شبلی تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ:
’’ جس طرح شیر گرجتا ہے، ہاتھی چنگھاڑتا ہے، کوئل کوکتی ہے، طاؤس ناچتا ہے، سانپ لہراتے ہیں ، اسی طرح انسان کے جذبات بھی حرکات کے ذریعے ادا ہوتے ہیں۔ لیکن اس کو جانوروں سے بڑھ کر ایک اور قوت دی گئی ہے یعنی قوت گویائی۔ اس لیے جب اس پر کوئی قوی جذبہ طاری ہوتا ہے توبے ساختہ اس کے منھ سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں۔ ‘‘
اس بات پر قطعی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے علماء (بالخصوص درس نظامی سے فارغ التحصیل) کو اظہار کے اس پُر اثر ذریعے سے ا وروں کے مقابلے میں زیادہ مناسبت یوں ہونی چاہیے کہ’’دیوان حماسہ، ‘‘دیوان متنبی‘‘ اور’’مقامات حریری‘‘جیسے عربی شاعری کے شاہکار ان کے نصاب میں شامل ہیںاورفصاحت وبلاغت اور عروض کی کتاب ’’مختصرالمعانی ‘‘ اور ’’البلاغۃالواضحہ ‘‘ ان کے ذوق سخن کی تربیت میں معاونت کرتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے متعدد اہم اور باذوق علماء نے کسی نہ کسی حد تک شاعری سے آشنائی ضرور رکھی ہے اور اعشیٰ اور حسان بن ثابت کی روایت کا پاس بھی ۔سو، کہنے کی اجازت دیجیے کہ علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا احمد رضا خاںبریلوی، مولانا مناظر احسن گیلانی، علامہ شبلی نعمانی ، قاری محمد طیب صاحب اورمولانا عامر عثمانی سے لے کر پروفیسر ابوالکلام قاسمی تک اور ان کے بعد کی نسل میں بھی بہت سے علماء ہیں جنھوں نے حسب ذوق اور حسب صلاحیت اس دشت کی سیاحی کی ہے اور آج بھی اس جماعت کے بعض دیوانے لیلیٰٔ سخن کے گیسو سنوارنے میں مصروف ہیں۔
دینی مدارس کے انھی فیض یافتہ دیوانگان شوق میںایک نام ڈاکٹراحمدسجادساجدقاسمی ؔکا ہے۔ڈاکٹر احمد سجاد ساجدؔ قاسمی کا تعلق ایک ایسے ذی علم خاندان سے ہے جس نے مذہبی علوم کی روشنی پھیلانے میں اہم کارنامے انجام دیے ہیںاور وطن عزیز کی جنگ آزادی میں شریک کار بھی رہاہے ۔سجاد صاحب کی تعلیم کی بسم اللہ تو مدینۃ العلم دارالعلوم دیوبند میں ہوئی لیکن درس نظامی کی ابتدائی تعلیم انھوں نے اولاً دربھنگے میں حاصل کی اور پھردیوبند لوٹنے سے پہلے کچھ عرصے اپنے آبائی مدرسے مفتاح العلوم مئو ناتھ بھنجن میںرہے ۔ یہ زمانہ در اصل ان کی امنگوں کا تھا اور فکر کی نمو کا بھی۔ یہاں ایک طرف انھیں محدث عصر مولانا حبیب الرحمان اعظمی اور مولانا عبد الطیف نعمانی جیسے عالمی شہرت یافتہ عالموں کی شاگردی حاصل رہی تو دوسری طرف مقامی شاعروں کی صحبت ملی اور مقامی اور کل ہند مشاعروں میں شرکت کے مواقع بھی میسر آئے۔انھی مواقع اور صحبتوں نے انھیں شاعری کی طرف مائل کیااوران کے ذوق سخن کو پروان چڑھایا۔لیکن دوسری طرف مدرسے کے ماحول،اورشاعری کو شوق فضول اور تضیع اوقات قرار دینے والے عالموں کی قربت اسے مکروہات دنیا سمجھنے پر مجبوربھی کرتی رہی۔ اس صورت حال میںعقل ودل کی جنگ اور حصول دین اور ’شوق فضول ‘ میں ترجیح کے مسئلے نے انھیں نہ صرف ذہنی کشمکش میںمبتلا رکھا بلکہ ان کے اندر نفسیاتی الجھاوے کی کیفیت بھی پیدا کی۔ دل کہتا وفورجذبات کے اظہار کو موزوں پیراہن ملنا چاہیے، عقل سمجھاتی طلب ِ دین کے دوران اس کی تزئین مناسب نہیں۔ خوش ذوق صحبتیں نازک احساسات کو منظم بیان کی شکل دینے کی ترغیب دیتیں، مذہبی ماحول ان پر بندش لگانے کومستحب قرار دیتا۔ لیکن خوشبو کو پھیلنے سے بھی کہیں روکا جاسکا ہے ، ہوا کو بھلا کون مٹھی میں قید کرپایا ہے اور دلِ آزاد عقل ِ عیار کی تابعداری ہمیشہ توقبول کرتا نہیں ۔سو، سجاد صاحب نے بھی اپنے معشوق اقبال کا یہ مشورہ مان لیا :
لازم ہے کہ دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن اسے کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دے
یوں انھوں نے گھٹن کے حصار اور مصلحتوں کے بند کو توڑ کر شعری قالب میں اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کااظہار شروع کردیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ مشق سخن کو مسلسل جاری رکھتے ، رکنے نہ دیتے لیکن بار بار ان کے شاعر پر ان کا عالم حاوی ہوجاتا،تخیل کی آزاد پرواز اور جذبات کے بے ساختہ بہائو میں مذہب کی جامد فکر سدِ راہ بنتی اور مدتوں یہ سلسلہ تعطل کا شکار رہتا۔تخلیق وہ تب ہی کرتے جب شاعری کا ان پر نزول ہوتا، کوئی واقعہ ، کوئی حادثہ، اپنے بیان پر اکساتا، یا کوئی جذبہ اپنے اظہار پر مجبور کرتا۔ یوں تو انھوں نے نظمیں لکھیں، غزلیں کہیں، شخصی مرثیے، حمدو نعت اورمثنوی لکھیں ، منظوم خطوط لکھے اور تاریخ نگاری بھی کی لیکن ان کارنگ نظموں میں نکھرتا اور ان سے کہیں زیادہ غزل کی شاعری میں کھلتا ہے۔
بیشتر نظمیں انھوں نے شخصیات، مقامات اور حادثات کے حوالے سے لکھی ہیں۔ایک دو کے علاوہ پوری نظمیہ شاعری یادوں کے دھنک رنگ میں شرابور ہے۔ خوابوں کی مانند بیتے خوشگوار لمحات،دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے حسین اوقات،مقدس ہستیوں کی معیت میں گزرے روحانی ساعات اور رومانیت کی دھند میں ڈوبے ہوئے وہ مقامات جن سے شاعر کو گہرا جذباتی لگائو ہے، ان کی شاعری کا حاوی موضوع قرار پاتے ہیں۔ اس نوع کی نظمیں ماضی سے شاعر کی شدید محبت اور اس کی گہری وابستگی کو توظاہرکرتی ہی ہیں ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہیں کہ ان کا خالق عربی شاعروں کی اس روایت کابھی امین ہے جو صحرا ئے عرب سے گزرتے ہوئے ان جگہوں پر پڑائو کرتا تھا جہاں ان کے نصب کیے ہوئے خیموں کے نشانات اور بجھی ہوئی راکھ کے آثارہوتے تھے ۔ جنھیںدیکھ کر شاعر بیتے دنوں اور محبوب کے ساتھ کو یاد کرکے آنسو بہاتا اور پہروں ماضی میں کھو جاتا تھا۔’’مادر علمی دارالعلوم دیوبند‘‘، ’’مقدس امانت(چند احباب کے نام)‘‘ اور ’’شہر مئو‘‘ (قلب ونظر کی جلوہ گاہ)میں اس کیفیت کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
’’مادر علمی دارالعلوم دیوبند‘‘ اس مجموعے کی سب سے طویل نظم ہے۔ ندی کی طرح رواں یہ نظم محض شاعر کی محبت وعقیدت کا بیانیہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ ٔ دارالعلوم اور مشاہیر ہند کے اوصاف وکمالات کا مرقع بھی ہے اور ایک عہد کی جیتی جاگتی تاریخ بھی ۔ ’’نیند پھر آجائے‘‘ ، ’’محبت کے چند پھول‘‘ اورمتاع زیست‘‘ خوبصورت نظمیں ہیں۔ ان نظموں میںسجاد صاحب نے دینی تعلیم والی ذہنیت اور مذہبی گھرانے والی اُس جھجک سے کافی حد تک آزاد ہونے کی کوشش کی ہے جو دل کی بات کوبے تکلف کہنے سے روکتی اور سچے جذبات کے اظہار کا رخ موڑتی ہیں۔ اور غالباً کہنے کی ضرورت نہیں کہ شاعر کی یہی ذہنی تبدیلی اِن نظموں کی لطافت اور بانکپن کا باعث بنی ہیں۔ اس نوع کی نظمیںایک خاص رنگ اور کیفیت سے بلند ہوکرانھیں بھی اپنا گرویدہ بناتی ہیںجو اس کیف ورنگ کی طلسمی دنیا کے باشندے نہیں ہیں ۔ کاش ان جیسی نظمیں وہ اور کہتے۔
وطن کے حوالے سے اس مجموعے میں دو نظمیں ہیںاور دونوں اپنی مثال آپ ہیں۔ پہلی نظم یوم آزادی کے موقعے سے کہی گئی ’’آئو منائیں حریت‘‘ ہے۔ یہ نظم گو کہ آج سے چالیس سال پہلے کی ہے لیکن اس کا اطلاق ملک کی صورت حال پرآج کے عہد میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے:
آج کے اس دور میں سستا ہے انساں کا لہو
آج کچلی جارہی ہے ہر امید وآرزو
آج چھینا جا رہا ہے ہر کلی کا رنگ و بو
ہر طرف پھیلی ہوئی ہے گرچہ فرقہ واریت
پھر بھی اے اہل وطن آئو منائیں حریت
نظم میں شاعر نے حب وطن کے جذبے اورسفاک صورت حال کے متضاد مشاہدے کو جس خوبی سے بیان کیا ہے اس کی وجہ سے ’’آئو منائیں حریت‘‘ اس نوع کی دوسری نظموں سے کافی مختلف اور ممتاز ہے۔ ’’میرا وطن‘‘ بہت ہی سادہ، سہل اور پیاری سی نظم ہے۔ اس میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب وثقافت ، یہاں کی روایتی معاشرت اوریہاں کے مناظر کا خوبصورت بیان ہے۔ اس نظم کو ہندوستا ن کا شناخت نامہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا اگر اس نظم کو بچوں کی کسی درسی کتاب میں شامل کرلیا جائے تاکہ نونہالوں کی شخصیت کی تعمیر میں ہندوستانیت کا عنصر زیادہ اچھی طرح سے پروان چڑھ سکے۔
والدمحترم مفتی محمد ظفیرالدین مفتاحی کی وفات پر لکھی گئی نظم ’’نیر تاباں ڈوب گیا‘‘ حد درجے خوبصورت، پُر اثر اور مکمل ہے۔ اس میں سجاد صاحب نے والد محترم کے علمی اورادبی کارناموںکا ذکر کیا ہے، ان کے عادات و اوصا ف مختصراًبیان کیے ہیں، ان کی آخری زندگی کے چھوٹے سے حصے کی منظر کشی کی ہے اور ان کی رحلت کے بعد ان کے دفتر اور ان کے رفیقوں پر گزرنے والی سوگوار کیفیت کو تصور کی آنکھوں سے دکھایا ہے۔ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اس بے حد رواں نظم کی بُنت میں شاعر کے جذبات واحساسات ہی پیوست نہیں، بلکہ نظم کے ایک ایک مصرعے نے ان سے آنسوؤں کا خراج بھی لیا ہوگا۔اپنی اولاد کے تئیں مشفق باپ کی فکر مندی اور اس والہانہ شفقت سے محروم ہوجانے کے بعد اولاد کے لطیف جذبوں کے حوالے سے یہ اشعار دیکھیے:
سجاد ابھی گھر پر ہی ہے، اے بیٹی یا اسکول گیا
اس وقت کہاں ہے پوچھ ذرا، اے بیٹی اس کو فون لگا
کیا وقت ہوا ہے دیکھو تو، کیا وقت ہے اس کے آنے کا
سب بچے گھر کے اندر ہیں، سب اچھے ہیں یہ مجھ کو بتا
ہر لطف وکرم اور شفقت سے اے ابّا ہم محروم ہوئے
کل تک جو پھول سے چہرے تھے اب مرجھا کر مغموم ہوئے
سجاد صاحب نے غزلیہ حصے کی ابتدااپنے اس شعر سے کی ہے:
بے تکلف کہتا ہوںسب کچھ بہ انداز غزل
بات جو کچھ بھی مرے دل کے نہاں خانے میں ہے
اور شاید انھوں نے سچ ہی کہا ہے ۔ تشبیہ، استعارے، اشارے ، کنائے اور تلمیحات کے رنگ بدلتے روپہلے پردوں کی آڑ میں دل کی پوشیدہ باتوں تک کو بے تکلف بیان کردینا ممکن ہی نہیں آسان بھی ہوتا ہے۔ غالب نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا:
ہرچند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادۂ و ساغر کہے بغیر
سو، واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی دوچار غزلوں سے قطع نظر سجاد صاحب نے اپنی پوری غزلیہ شاعری میںشروعاتی جھجک اور تکلف کو نہ صرف بالائے طاق رکھ دیا ہے بلکہ اُس تکلف اور جھجک کے محرکات یعنی مذہبی علم اور ’نظامی ‘ تعلیم سے حاصل کی ہوئی لفظیات، خیالات، اصطلاحات اور روایات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی اور ہنرمندی سے استعمال بھی کیا ہے۔ عشق، سیاست، تصوف اورتصورات پر انھوں نے عمدہ شاعری کی ہے۔ ان کی غزلوں میں کلاسک کی خوشبو بھی ہے اور جدیدیت کا رنگ بھی۔انھوں نے پرانی باتوں کو نئی طرز دی ہے ، اورنئی باتوں کو سلیقے سے شاعری کا حصہ بھی بنایا ہے۔ پہلے ان کے یہاں نئے پن کو دیکھیے اور پھر پرانی باتوں کو نئی طرز میں:
کیوں قصۂ جفائے بتِ ماہ رو کریں
آئو خوشی ہی بانٹ لیں، کچھ گفتگو کریں
کچھ شکر رنجی کی حسن وعشق میں ہیں گتھیاں
عقل کو تیری جستجو، عشق کو تیری آرزو
میں تو سلجھانے میں ہوں ، وہ ہے کہ الجھانے میں ہے
عقل کہے کہاں ہے تو، عشق کہے کہاں نہیں
یہ میرے گائوں کو کیا ہوگیا ہے
یہاں ہر چیز جیسے اجنبی ہے
آج کچھ اور ہے معیار سخن فہمی وانداز غزل
پھر بھی کیوں لوگ ہیں غالب کے طرفدار بہت
دوسرے شعر کے حسن کو،لف ونشر غیر مرتب اور تیسرے کے حسن کو لف ونشر مرتب کی صنعت دوبالا کرتی ہے۔ اور اب یہ اشعار ملاحظہ کیجیے، پہلے شعر کی طویل بحر اور دوسرے کی تلمیح اور شوخی کا جواب نہیں :
اہل عقل وخرد، صاحب علم وفن،شاعر نکتہ داں، ماہ رو گلبدن
کیسے کیسے تھے وہ رشک صد انجمن، سارے اہل ہنر کو زمیں کھا گئی
ذرا سی لغزش بے جا ہوئی ، دنیا بنا ڈالی
کرم بھی چاہتا ہے زیر پردہ ذوق عصیاں کو
عقل خود بین وخود آرا تو ہے عیار بہت
عشق سے رہتا ہے یہ بر سرِ پیکار بہت
سیاست اردو شاعری کا ابتدا سے موضوع رہی ہے ۔ بس یہ ہے کہ پہلے شہر آشوب کی صنف کے ہوتے غزلوں میں اس کا ذکر بہت ہی کم ہوتا تھا، آج کی شاعری میں یہ غالب رجحان کی حیثیت رکھتی ہے۔سجاد صاحب کے یہاں بھی اس کے وافر اور عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے ۔ تہہ داری اور کثرت معانی سے آخری شعرکا لطف مزیدبڑھ گیا ہے :
اب فرقہ پرستی کی اور ظلم کی یہ ناگن
معصو م جوانوں کو چُن چُن کے ہی ڈستی ہے
حسن ِ چمن ہے دلنواز لیکن یہ سچ ہے دلخراش
اہل ہوس کے ہاتھ میں اب ہے نظام گلستاں
گر تجھے رہبری کا دعویٰ ہے
فکر اپنی نہیں ہماری کر
مجھ کو رسوائی کا اپنی دوستوں کچھ غم نہیں
مسئلہ تو دراصل اُن کی پریشانی کا ہے
سجاد صاحب کی غزلوں میںایک تازگی اور جدت ادا کے ساتھ ساتھ کلاسیکی رچائو جا بہ جا موجود ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میںشعری صنائع کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔تشبیہ، استعارے، اشارے، کنائے اور لف ونشر کے علاوہ ان کی شاعری میں تلمیح نئے نئے رنگوں میں جلوہ گر ہوئی ہے۔چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
ہم اہل عشق ہیں خود دار، ضبط و غم ہی شیوہ ہے
یہ قیس وکوہکن کا ہم کو افسانہ نہیں آتا
کبھی درویش خود آگاہ کے در پہ پہنچتی ہے
برہنہ پا، برہنہ سر،غرورو نخوت شاہی
خلوت دی چاہ میں اسے، زنداں میں تربیت
تب جا کے اس کو مصر کا سلطاں بنادیا
ذرا سی لغزش بیجا ہوئی دنیا بنا ڈالی
کرم بھی چاہتا ہے زیر پردہ ذوق عصیاں کو
ہے تو فرعون اس صدی میں بھی
حیف کیوں صاحب عصا نہ ہوا
دوچار اشعار تصوف کے رنگ کے بھی دیکھیے:
فیضان عشق ، کیف جنوں لازوال ہے
دنیا کا کیا ہے، وہ اِدھر آئی اُدھر گئی
ذات واوصاف کی وادی میں بھٹکنا کیا ہے
معرفت نام ہے بس خود کو سمجھ جانے کا
حسنِ عالم تاب ہر سو منتشر ہے اس لیے
یہ غبار شوق اڑتا پھر رہا ہے در بہ در
کوئی روشن ضمیر ہو تو کہے
فقر کیا چیز ہے ، غنا کیا ہے
عشق ہی شاعری کی ابتدا اور عشق ہی اس کی انتہا ہے، بلکہ انسان اور کائنات کی تخلیق کا باعث بھی اظہارعشق کو بتایا گیا ہے ۔ عشق اور عاشق ومعشوق محض سات رنگوں والی قوس وقزح کی مانند نہیںجس کا ہر رنگ معلوم اور ان کی شناخت متعین ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عشق کے سینکڑوں شیڈس ہوتے ہیںجن کے اندر لطافت ونزاکت ، جانے انجانے رشتوںاور محسوسات کی ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ معاملہ تو بس اس لطیف جذبے کو دیکھنے، سمجھنے اور برتنے کا ہے ۔سجاد صاحب کی شاعری میں بھی عشق کے متعدد پہلو اور پرتو موجود ہیںبس دو تین نمونے ملاحظہ کر لیجیے:
انھیں رخصت ہوئے عرصہ ہوا موسم نہیں بدلے
نگاہوں سے ابھی تک گھر کی ویرانی نہیں جاتی
پائوں میں چھالے پڑجاتے ہیںسر بھی تیشہ سہتا ہے
دل کے کاروبار میں یارو! یہ تو ہوتا رہتا ہے
وجہ تخلیق ِ کائنات ہے عشق
طے کرو اس کا مرتبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں