78

وجود ِزن سے ہے تصویر ِکائنات میں رنگ

عبدالعزیز
عورت کائنات کا حسن ہے، اللہ کی خوب صورت تخلیق انسان ہے اور اس میں بھی حسن تخلیق عورت ہے۔ بلاشبہ لفظ عورت اپنے اندر قدرت کی تمام تر رعنائی، دل کشی اور نزاکت لئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو نرم و نازک، نرم گفتار اور معصوم بنایا ہے۔ جب عورت کو تخلیق کیا جانے لگا تو فرشتوں نے محبت و ایثار کی مٹی میں جنت کے وفاؤں کے پانی سے خمیر تیار کیا۔ اس میں صبر و برداشت کو ملایا اور پھر نرم و نزاکت بھراپیکر بنایا۔ اس کی روح میں اللہ نے معصومیت اور حساسیت بھر دی۔ اس طرح عورت کو وجود دنیا میں آیا، ساتھ ہی اللہ نے عورت کو ماں بنایا اور اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ بہن بنایا اور بھائیوں کی عزت و آبرو کی چادر اوڑھائی۔ بیوی بنا کر شوہر کی غم گسار اور شریک حیات بنایا۔ بیٹی بنا کر باپ کا فخر و مان بنایا۔ عورت ہر روپ میں محبت ہی محبت ہے۔ پیار ہی پیار ہے، ماں ہے تو پیار بھری گود، ممتا کا احساس، بہن ہے تو پیار بھری نوک جھوک، بیوی ہے تو محبت بھرا ساتھ اور بیٹی ہے تو پیار بھرا احساس۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک مردوں کا معاشرہ ہے جہاں عورتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عورتوں کا ایک مخصوص اور مختصر طبقہ ہے جو خوشحال اور آرام دہ زندگی گزاررہا ہے۔ مرد، عورتوں کی اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے ان کے جذبات مجروح کرتے ہیں جبکہ خواتین خاندانی دباؤ کے تحت آواز اٹھانے سے محروم رہتی ہیں۔ دیہاتوں میں جاگیردارانہ نظام کے شکنجے میں پھنسی ہوئی عورتوں کی داد رسی کی جاتی ہے نہ ہی انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کے چہروں پر تیزاب پھینکنے، وٹہ سٹہ، بدلے اور قرآن سے کی جانے والی شادیوں جہیز اور وراثت کے نام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے تنگ آکر خواتین میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
گھریلوتشدد آج کا ایک اہم مسئلہ ہے،جو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے،شوہر وں کا بیویوں پر،بھائی کا بہنوں پر،ساس کا بہو پر،کہیں غیرت کے نام پر تو کہیں جہیز کے نام پر عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ہر سال 5000خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر جاتی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دوسری عورت تشدد کا شکار ہیں،ہومین رائٹس 2009 ء کے اعداد وشمار کے مطابق 70سے90فیصد عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں، عورتوں کو آج بھی مردوں کے سامنے حقیر سمجھا جاتا ہے،گاؤں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی عورتوں کے ساتھ براسلوک اختیار کیا جاتا ہے۔دنیا کے ہر معاشرے میں کم وبیش خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتاہے،مردجسمانی طور پر طاقتور ہونے کی وجہ سے بہت حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے،آج ہمارے ملک کے بعض علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے حتیٰ کہ شناختی کارڈ بنانے تک کی اجازت نہیں ہے۔
عورتوں پر ظلم و تشدد عالمی جرم ہے۔ہر سال25نومبر کو دنیا بھر میں اقوام عالم کی تنظیم کے تحت عورتوں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے کا عالمی دن ”یوم عدم تشدد“ منایا جاتا ہے، جو یقیناًدیگر ایام کی طرح محض خالی خولی اخباری بیانات اور تصویری اشتہارات تک ہی محدود ہوتا ہے اور سوائے نمود و نمائش کے عملا کچھ نہیں ہوتا، کیوں کہ مرد عدم برداشت کا مجسمہ اور عورت برداشت کا مرقع ہے۔ اس لئے یہ سلسلہ ظلم و تشدد حسب عادت و روایت یوں ہی جاری و ساری رہے گا۔ اس جرم کا خاتمہ صرف مرد کے اپنے رویے میں تبدیلی لانے سے ہی ممکن ہے، ایام منانے سے نہیں، کیوں کہ یہ شعور و آگاہی تمام مذاہب کی تعلیم کا حصہ ہے کہ عورت صنفِ نازک ہے، اس پر بے جا ظلم نہ کرو، بے جا غصہ و مار دھاڑ کی اجازت نہیں۔مجلس اقوام عالم نے عورتوں کی حیثیت و اہمیت کو جانتے اور سمجھتے ہوئے، عورتوں پر ”یوم عدم تشدد“ منانے کا فیصلہ تو کرلیا لیکن یہ نہ سوچا کہ دنیا میں معاملہ اس کے برعکس بھی ہے، یعنی دنیا کے بہت سے ملکوں میں مرد مظلوم اور خواتین ظالم ہیں اور وہ مرد کے تصور سے کہیں زیادہ ان کی مرمت کرتی ہیں اور یہ بے زبان و معصوم، بے چارے گدھے بنے رہتے ہیں۔ ان پر تو گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ لاتوں، گھونسوں، اور بیلن و پھونکنی کا بھی بوجھ سوار رہتا ہے، تویہ مجلس اقوام عالم، مردوں پر عدم تشدد کا دن کب منائے گی؟
ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور ان کے ساتھ روارکھے جانے والے امتیازی سلوک اور اس کے نتیجے میں خواتین کو درپیش مسائل روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں۔اسلام حقوق نسواں کا علمبردار اور حقیقی ضامن ہے۔ اسلام نے پوری دنیا کے سامنے حقوق نسواں کا ایسا حسین تصور پیش کیا ہے کہ اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی اس مثبت اور مساوی نظام عمل کے قائل ہوگئے۔اسلام اور مذہب سے دوری کے نتیجے میں آج معاشرے میں خواتین کو وہ عزت اور مقام نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔ بد قسمتی سے کبھی غیرت کے نام پر اور کبھی معاشرے کے نام پر خواتین کے حقوق اور عزتیں پامال کی جا رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم آج کے مسلمانوں کے اس طرز عمل پر آواز بلند کررہے ہیں۔ حالانکہ غیر مسلم معاشرے میں خواتین کے حقوق جس بے دردی سے پامال ہو رہے ہیں اس سے آپ سب بخوبی آگاہ ہیں۔ درحقیقت اسلام ہی نے عورت کو تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق دئیے ہیں۔
آج عورتوں کو اس حال تک پہنچانے اور عورتوں پر یوم عدم تشدد منانے والے بتائیں کہ ان کے پاس اس کا کیا علاج ہے؟عالمی سطح پر اس حوالے سے کیا قانون سازی کی گئی ہے اور ایسے شخص کی کیا سزا رکھی گئی ہے، جو عورتوں کوزبانی گھاؤ کے ذریعے اس سے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔ عالمی مذاہب و قوانین اس ضمن میں کیا کہتے ہیں۔
قانون سازی تو ہر ملک اور ہر حکومت کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد کون کرائے گا؟کیا خواتین اسی طرح ہلکا زہر (سلوپائزن) دے کر ماری جاتی رہیں گی۔ وہ اپنی روح پر لگے گھاؤکو لئے اسی طرح گھل گھل کر مرتی رہیں گی یا ان کیلئے کوئی موثر قانون بنایا جائے گا۔اصل میں بات یہ ہے کہ عالمی ادارے اس طرح کے دن مناکر اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتے بلکہ اپنی گلو خلاصی کرتے ہیں، کیوں کہ وہ اس بات کا اختیار نہیں رکھتے کہ کسی ملک یا حکومت کو اس حوالے سے مجبور یا تنبیہہ بھی کرسکیں۔ یہ دن تو محض خانہ پوری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور یہ ادارے اور حکومتیں اس کام کے کرنے میں مخلص ہوتیں تو نہ جانے کب کا دنیا سے عورتوں پر ہونے والا یہ ظلم و ستم مٹ چکا ہوتا۔
”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ مگر مرد اس حقیقت کو کب اور کیسے تسلیم کرینگے؟
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں