54

والدین کی زیادتیاں ورسز اولاد کی کوتاہیاں

حفصہ عبدالغفار
چند دن قبل والدین کی زیادتیوں پر ایک پوسٹ نظر سے گزری،آدھی سے زیادہ پڑھی، کسی حالیہ کیز کا مرر امیج لگا تو شیئر کردی۔ ابھی ایک گروپ میں وہی پوسٹ مکمل پڑھنے کو ملی،تو معلوم ہوا کہ کسی نوجوان کے سوال کا جواب ہے، تو آخری پیراگراف پر بالخصوص اعتراض پیدا ہوا، جس کو شیئر کرنے کی میں بالکل متحمل نہیں ہو سکتی۔
میں اپنی فیس بک کو اتنا سیرئس نہیں لیتی، پہلے تو یہی سوچا کہ نظر انداز کروں؛ لیکن ایک سینئر نے مجھے ان باکس میں بھی کہا،مجھے اس حوالے سے ذمےداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ میں فیس بک پر کیا شیئر کرتی ہوں، تو میں نے وہ ڈیلیٹ کر دی ہے، مزید اس موضوع پر وضاحت یہ ہے کہ:
آپ کسی صورتحال کا نقشہ کھینچیں تو اور انداز ہوتا ہے، کسی کو سوال کا جواب دیں تو اور۔ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ والدین کی زیادتیاں نہیں ہیں، نہ میں یہ کہتی ہوں کہ بہت کم والدین زیادتیاں کرتے ہیں، اکثر تو اچھے ہوتے ہیں۔ یہ میرا مشاہدہ ہے،جو دوسروں سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ کہ ہم سب ایک جیسے ماحول اور علاقوں اور لوگوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ مسئلے سے انکار وکٹمز کو مزید اذیت اور مسائل کی جانب لےجاتا ہے؛ لیکن جب آپ ایک سوال کا جواب دیتے ہیں، آپ کسی کو سمت دے رہے ہوتے ہیں، تو وہ پوسٹ اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ کسی وکٹم کے دل کی بھڑاس نکال باہر کی ہے؛ لیکن اختتام پر یہ کہنا کہ والدین کی خدمت پر جنت اسلیے ہے کہ وہ خود کو دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑتے وغیرہ وغیرہ،تو یہ بہت بڑی بات ہے،کسی کا اپنا تجربہ اتنا برا رہا ہو، وہ شدید مایوسی اور ری ایکشن میں ایسا لکھ دے، تب بھی غلط ہے؛ لیکن کسی سوال کے جواب میں تو اور بھی بڑی بات ہے۔ اللہ تعالی نے والدین سے حسن سلوک کا حکم اپنی عبادت کے ساتھ دیا اور اس کے لیے الفاظ بھی “و قضى ربك”جیسے استعمال کیے ہیں۔ یعنی یہ رب کا فیصلہ ہےاور جہاں اس بات کا ذکر کیا کہ وہ دین سے روکیں، تب بھی کہا کہ دنیا میں ان کے ساتھ اچھے سے ہی رہنا ہے۔
اس گلوبل ولیج میں کئی مسائل تو مشرق مغرب کےسانجھے ہوگئے ہیں؛لیکن ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم میں یہی فرق ہے کہ وہ مسئلے کے ساتھ اس طرح جیتا ہے کہ جتنی اچھائی ممکن ہو،اتنی کی جائے، جب کہ غیر مسلموں کی اسٹریٹجی مزید انتشار کا باعث بنتی ہے۔ تو مسئلہ خواہ حقوقِ نسواں کا ہو یا اولاد کے ایشوز کا،میں ان کی موجودگی کو مانتی بھی ہوں اور اس حوالے سے میں وکٹمز سے اسلامی دور حکومت اور معاشرت والے رویے بھی ایکسپیکٹ نہیں کرتی؛ لیکن ہمیں کم از کم بیسٹ پاسبل وے والا ری ایکشن کرنا چاہیے، نہ کہ مزید بغاوت و فساد والا۔
یہاں ایک سیکھنے کی بات یہ بھی ملی کہ ہم سوال کس سے پوچھتے ہیں، ہمارے دین میں ایک مقام سند بھی ہے اور ایک لینئج کی اہمیت بھی ہے۔ ہر مرتبہ صرف یہ نہیں دیکھنا کافی ہوتا کہ کوئی انسان اپنے حال میں کن بلندیوں کو پہنچ چکا ہے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماضی کیسا رہا ہے اور کسی کے اپنے مسائل کیسے رہے ہیں۔ کسی ایسے شخص سے سوال کرنا جو سیم مسائل کو بھگت چکا ہو، ایک لحاظ سے فائدہ مند تو ہوتا ہے کہ وہ صرف تھیوری کے بجائے اپنے تجربے سے آپ کی راہنمائی کردے؛ لیکن ایک نقصان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کا دکھڑا سن کر حل بتانے کے بجائے اپنی ایموشنز اور بھڑاس بھی ایڈ کر جائے اور نتیجہ مزید بے سکونی،تو جناب أمك، ثم أمك، ثم أمك ثم أباك، ثم أدناك ثم أدناك!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں