132

“نیو ورلڈ آڈر”

ڈاکٹر حنیف ترین
زور، زر اپنی شیطانی فطرت کے بل
اک بڑی جنگ کا اس نے رن جیت کر
ساری دنیا کو اعلان صادر کیا
میں محافظ ہوں، آقا ہوں اب دنیا کا
ساری دنیا میں اب ہوگی جمہوریت
ہو گی ہر سمت میں قدرِ انسانیت
منڈیوں میں چلے گا مرا ہی نظام
آئی ایم ایف سے قر ضے
میں دونگا تمام
ختم کردونگا دنیا سے آلودگی
تاکہ خطروں سے محفوظ ہو زندگی
مہلک ہتھیار دنیا سے چھینونگا میں
ہمنواؤں کی طاقت پہ اکڑونگا میں
پانچ ہاتھوں کو ہے اب حقِ رہبری
اور حاصل رہےگی مجھے
بر تری
روندی جائے گی اب ہر ہوا سر پھری
پھر ہر اک شق بھی اس کی بنائی گئی
حکمرانوں کی پگڑی سنواری گئی
شیخ صاحب کی معتوب ہر اک نظر
کوئی اشلوک پڑھ کر جلا ئی گئی
رکھنے پکّی نظر اپنے ہی دوست پر
آ ستینوں میں نا گن چھپائی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورپھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجزائر میں ابھری جو جمہوریت
اس کی گردن بمع سر اُتاری گئی
ہیتی، چیچن، روہنگا، وینا زولہ کیا
بلکہ غر بت زدہ جگ کے ہردیش میں
اپنے گُرگوں سے سازش رچائی گئی
جو مخالف ہوااس پہ بے ساختہ
یُواین اُو کی چھری بھی چلائی گئی
لیبیا مشرقِ وسطیٰ کی ہر خبر
اب بھی ہے گونجتی جگ میں ہرٹیوی پر
ریپ انسانیت کا ہوا ہے وہاں
جس کا رُخ اب ہے پاک اورہند وستاں
(نام کمزوں کا ٹیرورسٹ
ہو گیا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکمِ اعلیٰ کیاب ہر جگہ دھوم ہے
جو نئی عالمی دھن سے موسوم ہے
اس کے پردے میں بیٹھی ہے فسطائیت
کل جو کھا جائے گی جگ میں جمہوریت
اس کی زد سے کوئی اب کیا؟بچ پائے گا
جو نہ ما نے ا سے ، زخم وہ کھائے گا
تیسر ی د نیا ا س سے پریشان ہے
عا لمی جنگ کا اب یہ اعلان ہے

یہ ر ہا تو تبا ہی ضرور آئے گی
تیسری جنگ سے دنیا مٹ جائے گی۔

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں