138

ننھی روداد

ام ھشام

میں ایک طالب علم ہوں ابھی کچھ سیکھا نہیں لیکن بہت کچھ سیکھنے کی تمنا رکھتا ہوں۔ اپنے والدین کے ہر خواب اور خواہش کو میں اپنے ننھے ہاتھوں سے تعبیر دینا چاہتا ہوں۔
آج میرے پاس سب کچھ ہے۔ ایک شاندار ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم، ڈیجیٹل بلیک بورڈ، میرے چھوٹے سے بیگ میں ڈھیروں علمی دولت (کتابیں اور کاپیاں) بھری پڑی ہیں جن کا بوجھ میری ناتواں گردن اور پیٹھ کو ہر روز درد سے دوہرا کردیتا ہے۔
اس لیے میرے اسکول نے ایک بس بھی مہیا کرائی ہے تاکہ ہم بچے بستوں کے بوجھ سے آزاد رہیں اور ہمارے سرپرست پیسوں کے بوجھ سے۔کیونکہ تعلیمی سال شروع ہوتے ہی ہمارے سرپرستوں کی آدھی جیب یہیں تو خالی کرائی جاتی ہے اور بقیہ پیسے کن جگہوں پر نکلوائے جاتے ہیں وہ جگہیں بھی بتاوں گا بس آپ سب تھوڑا صبر رکھیں۔ چھوٹا ہوں نا اتنا سب کچھ سمجھ نہیں پاتا۔ سمجھ لوں تو بول نہیں پاتا ویسے آپ بڑے بالکل صبر نہیں کرتے۔
تو سنیے!
میرے پاس ایک ہی سبجیکٹ پر کئی کتابیں موجود ہیں۔ جیسے انگلش بال بھارتی + انگلش بال بھارتی ورک بک + انگلش بال بھارتی گرامر بک + انگلش مضمون نگاری
لیکن میں تو بہت چھوٹا ہوں میرے لیے تو ہر مضمون کی ایک ہی کتاب کافی ہے۔ اتنی ساری کتابیں دیکھ کر میں ڈر جاتا ہوں اور میرے والدین ان کتابوں کی قیمتیں دیکھ کر۔
پھر یہ کتابیں محض خریدی ہی تو جاتی ہیں سال بھر کوری رکھنے کے لیے۔ ان پر نہ میرے ٹیچرز کام کرواتے ہیں نہ میں کرنا جانتا ہوں تو سال کے آخر میں ان مہنگی کتابوں کو ردی کے بھاو بیچ کر ہم مونگ پھلی کھالیا کرتے ہیں۔ کیونکہ اگلے سال یہ کتابیں میرے چھوٹے بھائی بہنوں کے بھی کسی کام نہیں آتیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسکول والے ہر سال اپنی نصابی کتابیں اور کتابوں کے پبلشرز بدل دیتے ہیں۔ ہر نئے تعلیمی سال پر ہمارا نصاب بدلتا رہتا ہے۔میرے پاس اساتذہ کی بھرمار ہے لیکن ایک بھی استاد ایسا نہیں ہے جو کتاب بند کرکے مجھے بڑی دلچسپی اور محبت سے پڑھاتا ہو، جو مطالعہ کو اپنا فرض سمجھتا ہو، جو مجھے کتاب پر جھک کر رٹّا لگوانے کی بجائے اپنی مسکراتی ہوئی نگاہوں سے مجھ پر نگاہیں جماکر مجھے سب کچھ تختہ سیاہ پر سمجھا دینے والا ہو۔ جس کی نظریں گھڑی کی بجائے میرے کلاس میں موجود طلباء پر لگی ہو۔کوئی استاد تو ایسا ہو جو مجھے پرسنل ٹیوشن کے لیے اپنا فون نمبر تھمانے کی بجائے میرا ہاتھ پکڑ کر کہے کہ بیٹا! جتنی مرضی اتنی بار مشکل اور نہ سمجھ آنے والے سوالات پوچھو میں ہر بار تمھیں سمجھانے کو تیار ادھر ہی بیٹھا ہوں اور اگر پھر بھی نہ سمجھ سکو تو چھٹی کے بعد ہر روز مجھ سے دس منٹ ایکسٹرا کلاس لے لو۔
میرے اسکول میں مارشل آرٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا جی نہ بھی چاہے تو بھی آپ کو ڈھشم بھشم کرنی ہے اور اس اچھل کود کے لیے مارشل آرٹ کے کپڑے خریدنا میرے لیے اجباری بنادیا گیا ہے جسے پہن کر کلاس میں آنا میرے لیے لازم ہے۔
یہی حال میرے اسپورٹس اور کمپیوٹر کلاسز کا ہے۔ اسپورٹس اور کمپیوٹر سکھانے کے نام پر اسکول سرپرستوں سے جتنی فیس وصول کرتا ہے ان پیسوں سے تو میں سال بھر کسی اسپورٹس کلب کی ممبر شپ حاصل کرسکتا ہوں۔اور کمپیوٹر کلاس میں تو ہم بچے قطار بناکر جاتے ہیں اور آدھے بند آدھے کام کرتے ان برقی ڈبوں کا دیدار کر واپس آجاتے ہیں لیکن بجلی کا بل ہم سے سال بھر کا ادا کروالیا جاتا ہے جیسے جیسے ہم پرائمری نہیں آئی ٹی کررہے ہوں۔
آپ بڑے کبھی ہم بچوں کی نہیں سنتے کبھی تو سن لیا کیجیے! مجھے بروسلی کا داماد نہیں بننا لیکن مجھے اپنی قوم و ملت کا فعال فرد بن کر اپنے تعلیمی ورثہ کی حفاظت ضرور کرنی ہے۔ مجھے کمپیوٹر اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز بھی سیکھنی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے میری بنیادی تعلیم سے تو آراستہ کرئیے۔ مجھے پڑھائیے لکھائیے، میری ذہنی بالیدگی میں میرے مربی بن جائیے۔ میرا علمی و اخلاقی شعور بیدار کیجیے اپنی حفاظت کرنا میں خود سیکھ جاؤں گا۔جن اسکولوں میں ہم جیسے طلباء کو بیٹھنے کی جگہ ناکافی ہو ان اسکولوں میں مارشل آرٹ گھسیڑنا اپنے آپ میں ایک لطیفہ ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے پاس وہ سب کچھ ہے جسے ذریعہ بناکر اسکولوں نے لوٹ مار مچارکھی ہے۔ بس نہیں تو “تعلیم” جس کے لیے میں نے بولنا پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔میرا علم کہاں ہے؟
تعلیم و تدریس کا یہ تقریبا دوسرا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اب تک معلمین اور بچے بھرتی کیے جارہے ہیں۔ لیکن میں نے اب تک وہ سب نہیں سیکھا نہ ہی پڑھا جس کی قیمت اسکول اب تک کئی قسطوں میں میرے سرپرستوں سے لے چکا ہے۔میں صرف اپنے والدین کے پیسوں کو جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور بڑی تکلیف میں ہوں۔ میں ہر روز اپنی یومیہ دعا میں پڑھتا ہوں:
“علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب”
لیکن میں محبت کیسے کروں جب یہ شمع روشن ہی نہیں ہوتی۔مجھے علم حاصل کرنا ہے۔ کسی عمارت کے عالیشان کمرے، میز کرسیاں اور کمپیوٹر دیکھ دیکھ کر مجھے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور پرائمری تک مفت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے لہذا مجھے میرا حق دیجیے۔
اگر اچھے معیار کے لیے میرے والدین نے آپ کے اسکولوں کا رخ کیا تو کیا برا کیا؟ آپ کے اسکولوں نے بُک پبلشرز، یونیفارم کمپنیوں کی آپسی منافع خوریوں کے لیے میرے غریب والدین کو چکی کے دو پاٹوں میں پیس دیا ہے۔ ایک طرف ان کی آنکھوں میں اپنے بچے کے تابناک مستقبل کے سنہرے خواب ہیں دوسری طرف ان کی غربت اور جفاکشی کی کھینچ تان ہے۔میری غلطی کیا ہے؟
ایک متوسط یا غریب شہری کو پڑھنے کا حق نہیں؟ مجھے پڑھنا ہے، مجھے بڑھنا ہے مجھے بڑھنے دو۔ میں بہت خوفزدہ ہوں کہ اسکولوں کی یہ لالچ اور منافع خوری مجھ جیسے کتنے علم کے پیاسوں کو موت کے گھاٹ اتاردے گی۔ شاید اسکول چلانے والے اس بات سے بے خبر ہوں۔ یا پھر کمیشن خوری کی نحوست نے انھیں بصارت سے محروم کردیا ہے۔یہ ملّی اور قومی خیانت ہے آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟اس قدر گھٹیا معیار تعلیم و تربیت فراہم کرکے ایک ساتھ اتنے سارے نونہالان ملت کا مسقبل جو آپ سب نے داؤ پر لگارکھا ہے روز قیامت اس سب سے بڑے علم والے کو کیا جواب دوگے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں