71

نمونہ سلف مولانا محمد قاسم ؒ :یادوں کے نقوش

نور السلام ندوی،پٹنہ
لمبا قد،گورا بدن،مسکراتا چہرہ،کشادہ پیشانی ،منور آنکھیں ،سفید چمکتی داڑھی ،سر پردو پلی ٹوپی ،لمبا کرتا،ٹخنوں سے اوپر پائجامہ ، عالمانہ وقار ،بزرگانہ رکھ رکھاؤ،نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو،تواضع کا مجسمہ ،اخلاص و عمل کا نمونہ،محبت و شفقت کا پیکر،اخلاق و کردار کی تصویر، تہذیب و وضع داری کا عکس جمیل ،خوش طبع ،خوش لباس ،مہمان نواز،غم گسار،اپنوں کے ہمدرد ،غیروں کے بہی خواہ،چھوٹوں کے شفیق ،بڑوں کے عزیز،ہم عصروں کے درمیان ممتاز ،ملت کا پاسباں ،پاک طینت ،پاکباز ،شب بیدار،بہترین منتظم ،دینی معاملات میں حساس،سماج و معاشرہ کی اصلاح کیلئے بے چین، قوم و ملت کے درد میں بیتاب،نمونہ سلف، عارف باللہ،جامعہ مدنیہ سبل پور کے بانی و سرپرست ،جمعیۃ علماء بہار کے صدر ،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ کے سابق پرنسپل و شیخ الحدیث ،بزرگ عالم دین یہ سراپا جس شخصیت کا ابھر کر سامنے آئے اس پر جلی حروف میں لکھ دیجئے مولانا محمد قاسم صاحبؒ بھاگلپوری جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔29جنوری 2019کو علی الصبح داعی اجل کو لبیک کہااور اس دنیا کو سدھار گئے۔جنازے کی پہلی نماز پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ساڑھے دس بجے دن میں اداکی گئی۔امامت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کی ،دوسری نماز ظہربعد جامعہ مدنیہ سبل پور کے احاطے میں اداکی گئی۔ لاش بذریعہ ایمبولینس آبائی وطن کوروڈیہہ لے جایا گیاجہاں تیسری نماز 30جنوری کو صبح 10بجے اداکی گئی اور اپنے وطن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔
مولانامحمد قاسم صاحبؒ کی عمر چونسٹھ سال تھی ،بظاہر صحت مند اور طبیعت اچھی تھی ،معمولات کے مطابق سارے کام انجام دے رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق 27جنوری کو بعد نماز عصر نوری مسجد پٹنہ میں درس قرآن دیا،لوٹ کر گھر آئے ،احباب کے ساتھ چائے نوشی کی ،مغرب کی نماز کیلئے پھر نوری مسجد تشریف لے گئے۔فرض نماز کی ادائیگی کے بعد سنت کیلئے نیت باندھتے وقت پیچھے کی جانب گر گئے ،سر میں شدید چوٹیں آئیں،آنافاناً پٹنہ میڈیکل کالج میں بھرتی کرایا گیا ،پھر مگدھ ہوسپیٹل لے جایا گیااور بعد میں ڈاکٹروں کے مشورے سے پارس ہوسپیٹل میں بھرتی کرایاگیا۔ڈاکٹروں نے بتلایا کہ برین ہمرج ہوگیا ہے ،آپریشن کر نا ہوگا،بڑا نازک اور خطرناک مرحلہ ہے۔آپریشن ہوا،پرہوش نہیں آیا،طبیعت بگڑتی چلی گئی۔مولانا کی بگڑتی طبیعت کی خبر عوام و خواص میں پھیل گئی تھی ،خصوصی اور عمومی دعاؤں کا اہتمام کیاجانے لگا ،مسجدوں اور مدرسوں میں بھی دعاؤں کاخصوصی اہتمام کیا گیا ،لیکن ڈاکٹرکی تدبیر پر خداکی تدبیر غالب آئی اور مولانا 29جنوری کو ساڑھے ۳؍ بجے زندگی کی آخری سانس لی، اور زندگی جس کی مستعا ر تھی اس کو لوٹا دی۔
وہ ہمسفر جو محبت کا دے رہا تھا پیام
لو آج اس کو بلانے قضا چلی آئی
ابتدائی احوال
مولانا محمد قاسم ابن ثابت حسین ابن حافظ محفوظ حسین 20نومبر 1953کو ضلع بھاگلپور کی مشہور بستی کو روڈیہہ میں پیدا ہوئے۔ان کا خاندان علمی تھا ابتدائی تعلیم گھر پر رہ کر حاصل کی۔دوسال مدرسہ اسلامیہ عزیزیہ میں زیر تعلیم رہے۔1964میں مدرسہ قاسمیہ گیا میں داخلہ لیا۔1966میں دار العلوم دیوبند کیلئے رخصت سفر باندھا۔1970میں سند فضیلت حاصل کی۔دار العلوم میں چار سالوں تک اکتساب علم کیا،اور اپنے وقت کے اجلہ اساتذہ کرام سے تحصیل علم کیا۔آپ کے اساتذہ کرام میں حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ ،مولانا نصیر احمد خاں صاحبؒ ،مولانا نعیم الدین صاحبؒ ،حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری ؒ ،مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی ؒ اور مولانا حسین بہاریؒ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔فراغت کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ،پہلے مدرسہ حسینیہ بیگا والا بجنور میں تین سالوں تک درس دیااور علم کے جام لٹائے۔20نومبر9 197کو مدرسہ شمس الہدیٰ160پٹنہ میں تقرری ہوئی، آپ کی صلاحیت اور علمی قابلیت کو دیکھتے جلد ہی علیا درجات میں ترقی ہوگئی اور پھر شیخ الحدیث بن گئے۔30نومبر 2011 کو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل کا چارج سنبھالااور 20نومبر 2012کو ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی ملازمت آپ کو راس آئی ،عظیم آبادی کی سرزمیں نے آپ کو گلے لگایااور اس جوہر قابل کو اپنی صلاحیت کی جوہر بکھیرنے کا خوب خوب موقع ملا۔
مولانامحترم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے وابستہ ہونے کے بعد کئی تعلیمی اور اصلاحی اقدامات کئے۔2011 کو جب آپ نے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا تو مدرسہ شمس الہدیٰ اپنے قیام کو سو سال مکمل کر رہاتھا۔آپ نے 2012میں مدرسہ شمس الہدیٰ کاصد سالہ جشن منانے کا فیصلہ کیااور تاریخ ساز اجلاس منعقد کیا۔جس میں ملک بھر کے چوٹی کے علما،دانشوراور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ،پٹنہ کے ہزاروں فارغین نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار نے بھی شرکت کی، اس موقع پر مدرسہ پر شمس الہدیٰ،پٹنہ کا اقلیتی ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔
مولانا سے میری اچھی شناسائی تھی؛بلکہ کہنا چاہئے کہ قربت تھی،جب بھی ملاقات ہوتی ،جامعہ آنے کی دعوت ضرور دیتے،کہتے مولانا! جامعہ پر بھی مضمون لکھئے،وہ اکثر فرماتے کہ میں بھی کچھ کام کرتا ہوں۔ان کا ماننا تھا کہ کام کرنے والوں کا اعتراف ہر سطح پر ہونا چاہئے ۔ایک بار مولانا مجھ سے شدید خفا ہوگئے،موقع تھا مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے صد سالہ جشن کا،اس کی تیاری بہت بڑے پیمانے پر کی گئی تھی،ریاست اور ریاست سے باہر اس کا بڑا تذکرہ تھااور ہونا ہی چاہئے تھا ،مدرسہ شمس الہدی ،پٹنہ بہار کا ایک ایسا سرکاری مدرسہ ہے، جس کی بڑی خدمات ہیں، روشن کارنامے ہیں۔اس ادارے کی وجہ سے بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ،ادارہ تحقیقات،مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ادارہ کے قیام کو سو سال پورے ہو رہے تھے،پورے ملک میں پھیلے اس ادارے کے فضلا اور اس سے منسلک لوگوں کو امید کی ایک کرن نظر آئی کہ ادارہ نہ صرف تابناک ماضی کا جشن منائے گا؛ بلکہ گرتا معیار تعلیم،اور موجودہ حالت زار کا بھی احتساب کرے گا،انحطاط وتنزلی کے اسباب کی نشاندہی ہوگی اور اس کے تدارک کی سمت کوئی مؤثر اور مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے گا،جس سے ادارہ اپنا کھویا ہوا وقار واعتماد بحال کرسکے گا؛لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔صد سالہ جلسہ کے بعد احقر نے ایک مضمون تحریر کیا ،جس میں اجلاس کے افادی پہلووں کے ساتھ ساتھ اس کی خامیوں اور کمیوں کی طرف انتظامیہ کی توجہ مبذول کروائی،مضمون مولانا کو پسند نہیں آیا ،انہوں نے مجھ سے بہت بر ہمی کا اظہار کیا،کہا کہ آپ نے جشنِ صد سالہ پر پانی پھیر دیا ،اکثر ملاقات میں مولانا اس بات کا تذکرہ چھیڑ دیتے؛لیکن ان کی شفقت ومحبت میں کمی نہیں آئی،انہی دنوں میری کتاب’’ رہنمائے صحافت‘‘طبع ہوکر آئی تھی،مولانا کو معلوم ہوا، تو بہت مسرور ہوئے،مبارکباد دی،حوصلہ بڑھایا اور دس عدد نسخے قیمتاََ مجھ سے منگوائے،جامعہ مدنیہ میں جب کوئی اہم پروگرام ہوتا ،تو اس حقیر کو بھی مدعو کرتے اور مضمون لکھنے کی فرمائش بھی کرتے،میں نے ان کو شدید ناراضگی کے عالم میں بھی مسکراتے ہی دیکھا:
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لیکر
مولانا محمد قاسم صاحب ذی استعداد اور صاحبِ ورع وتقویٰ عالم دین تھے۔انہوں نے دینی خدمت اور دعوت تبلیغ کو اپنا مقصد بنایا ،ایک طرف مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے طلباکو تعلیم و تربیت سے آرستہ کر تے رہے، تو دوسری طرف عوام و خواص کے اندر قرآن فہمی کا ذوق و شوق پیدا کر نے کیلئے 1980میں مدرسہ کے احاطے میں درس و قرآن کا آغاز کیا،یہ سلسلہ اتنا مقبول ہواکہ اس کے بعد علی نگر اور پاٹلی پترا کی مسجد میں بھی درس قرآن کا آغاز ہوااور ہنوز جاری ہے۔مولانا کے اس اقدام کی برکت سے آج شہر پٹنہ کی اکثر مساجد میں درس قرآن کا اہتمام کیا جاتاہے، جس میں طالبین کی اچھی تعداد ہوتی ہے،اس طرح قرآن کا پیغام ا ور قرآن فہمی کا ذوق لوگوں میں بیدار ہورہاہے۔
تعلیمی خدمات
یوں تو حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ متنوع خوبیوں کے حامل تھے ،مختلف شعبہ ہاے حیات میں انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں؛لیکن مولانا کی پوری زندگی بنیادی طورپر تعلیم و تعلم کی اردگرد گھومتی نظر آتی ہے۔دینی و ملی خدمات کے بہت سارے راستے آپ کیلئے کھلے ہوئے تھے ،باوجود اس کے آپ نے درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کو پسند کیااور دو اداروں میں دینی تعلیم کی خدمت انجام دینے کے بعد عظیم آباد کے مشہور اور تاریخی ادارہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سے منسلک ہوئے اور یہیں سے سبکدوش ہوئے۔
مولانا کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ ہماری قوم تعلیمی پسماندگی کی شکار ہے،خاص طورپر مولانا جس علاقے سے تعلق رکھتے تھے،وہاں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی آپ کی نظروں میں تھی؛چنانچہ آپ کو قوم کی تعلیمی پسماندگی کی فکرلاحق ہوئی، 1989میں سبل پور پٹنہ میں جامعہ مدنیہ کی بنیاد رکھی۔بے سرو سامانی کے باوجود محض اللہ کے بھروسے اس ادارے کا آغاز کیا۔اخلاص کی برکت اور محنت رنگ لائی، آج یہ ادارہ بہار کا مشہور و معروف ادارہ ہے، یہاں شعبۂ حفظ کے علاوہ عربی پنجم تک کی معیاری تعلیم و تر بیت کا عمدہ انتظام ہے،700طلبا کے قیام و طعام کے سارے اخراجات ادارہ برداشت کر تاہے،بہترین ہوسٹل ،خوبصورت درسگاہ ،پرشکوہ مسجد بانی کے اخلاص و عمل کی گواہ ہے،سبل پور جہاں یہ ادارہ قائم ہے، پٹنہ بائی پاس پر کچی درگاہ سے چند فاصلے پر جانب شمال واقع ہے،یہ شرفا اور زمین داروں کی قدیم بستی ہے، 1946کے فرقہ ورانہ فساد میں یہ بستی اجڑ گئی اور یہاں کی بڑی آبادی نقل مکانی کر گئی،جولوگ یہاں رہ گئے وہ مالی اعتبار سے خوشحال نہیں تھے۔جامعہ کے قیام کی وجہ سے تقریباً نصف صدی کے بعد یہ علاقہ پھر بارونق ہوا،مسلم آبادی میں بھی اضافہ ہوا،لوگوں میں دینی جذبہ بیدار ہوا،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے بعدشہر پٹنہ کا یہ دوسرا بڑا دینی ادارہ ہے۔یہ ادارہ دینی و علمی خدمات کی وجہ سے پورے بہار میں معروف ہے۔ابھی اس ادارے میں 700؍ بیرونی طلبا مقیم ہیں ،جن کی تعلیم و تربیت کیلئے چالیس اساتذہ مامور ہیں۔جامعہ مدنیہ سبل پور آپ کی محنتوں اور دعاؤں کا ثمرہ ہے ،یہ ننھا سا پودا جلد ہی شجر سایہ دار بنا ،اس کا فیض عام ہوا،مدرسہ شمس الہدیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ جامعہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے تھے،ادارہ کے قیام کے 25سال مکمل ہونے پر 13اور 14مارچ 2016 کو 25سالہ تقریب و جلسہ دستاربندی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔
مولانا فعال اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔شروع سے ہی تنظیمی اور تحریکی کاموں سے منسلک رہے۔انہیں کچھ کر نے کی لگن اور کچھ کر دکھانے کی فکر تھی جس کیلئے مستقل جدو جہد کرتے رہتے تھے۔1986میں مولانا سید اسعد مدنیؒ کی صدارت میں جمعیۃ علما کا کنونشن منعقد ہوا۔یہ کنونشن بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی انجمن اسلامیہ ہال میں منعقد ہواتھا۔اس موقع پر جمعیۃ علما نے دینی تعلیمی بورڈ کی تشکیل جدید کی اور مولانا محمد قاسم ؒ کو اس کا صدر نامزد کیا۔آپ نے دینی تعلیمی بورڈ کو فعال اور سرگرم بنایا،بہار و جھارکھنڈ کے بیشتر علاقوں اور قصبات کا دورہ کیا،دینی تعلیمی بورڈ کا تعارف کر یا،اس کی ذیلی شاخیں قائم کروائے،دینی تعلیم و تربیت کے لئے جگہ جگہ مکاتب قائم کئے، اس کے تحت جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کے زیر انتظام مدارس کے اساتذہ کا تربیتی پروگرام منعقد کر وایا،جس کے بہتر اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
تقریرو خطابت
مولانا محمد قاسمؒ صاحب شیریں بیاں مقرر تھے۔1980سے نوری مسجد پٹنہ میں جمعہ کے خطبہ سے قبل آپ کی تقریر پابندی سے ہوتی رہی ۔گاندھی میدان میں عیدین کی امامت بھی آپ ہی کر تے رہے ہیں160اس موقع پر آپ کا نہایت جامع اور بلیغ خطبہ ہوتا۔اس کے علاوہ دیگر جلسوں ،سیمناروں اور دوسری تقریبات کے مواقع پر بھی آپ تقریر کیلئے مدعو کئے جاتے رہے ۔آپ کی تقریر بڑی جامع اور موقع و محل کے اعتبار سے بہت اہم اور پراثر ہوتیں، جہاں جیسی ضرورت محسوس کر تے، اسی اعتبار سے موضوع کا انتخاب کر تے۔آپ کی تقریر کا نمایاں وصف یہ تھا کہ گھن گرج اور چیخ و پکا ر سے پاک ہوتی،آواز میں یکسانیت تھی، بات ٹھہر ٹھہر کر کر تے ،صاف صاف بولتے،ناپ تول کربولتے ۔تقریر مختصر ہو یا مفصل سامعین کو بوجھل نہیں ہونے دیتے،اللہ نے آپ کی تقریر میں تاثیر دی تھی ،جب تقریرکر تے ،مجمع پرسکوت طاری ہوجاتا،لوگ ہمہ تن متوجہ ہوجاتے، تقریر درد و تاثیر سے لبریز ہوتی ،ایسا لگتا کہ بات کانوں کے راستے دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے۔ آپ کی تقریر کی دوسری خوبی یہ تھی کہ موضوع کی رعایت کرتے، جس موضوع پر خطاب کر تے ،اس کا حق ادا کر تے۔آپ نے بڑے عوامی جلسوں کو بھی خطاب کیااور علمی سیمناروں کوبھی۔عوامی جلسے کی تقریر بھی ایسی ہوتی کہ اہل علم مستفید ہوتے اور خالص علمی جلسوں کی تقریروں سے بھی عوام الناس بہرہ مند ہوتے،یہ آپ کی تقریر کی انفرادیت تھی۔آپ نے تقریر کے ذریعے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیااور دعوت وتبلیغ کی ذمے داری بطریق احسن ادا کر تے رہے۔تقریریں مسلکی تعصب سے بالکل پاک ہوتیں ،مسلک حنفی کے ترجمان اور پکے دیوبندی ہونے کے باوجود بھی آپ نے کبھی مسلکی تشدد کو راہ نہیں دی ، ہمیشہ اتحاد و اجتماعیت کا پیغام دیا،انہوں نے اپنے پرمغز خطابات کے ذریعے قوم و ملت کی رہمنائی کی ،آپ کی تقریر سے امت کی فکر مندی ا ور درد مندی جھلکتی تھی۔
تواضع و انکساری
مولانا محترم کی شخصیت اور ہردلعزیزی کا راز مولانا کی منکسر المزاجی ،تواضع اور خاکساری میں پنہاں تھا۔مولانا جس مقام پر فائز تھے، تواضع اور انکساری نے ان کو اور بلند مقام عطا کیا تھا۔اپنے عزیزوں اور خورد وں سے بھی ایسی محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے جیسے وہ اپنے بڑوں سے مل رہے ہیں۔ان کے اندر بدلہ لینے کا جذبہ نہیں تھا،عفو در گذر کا معاملہ کر تے ،کبھی کوئی جانے انجانے میں گستاخی کر جاتاتو بھی سخت جواب نہ دیتے، مخالفین سے بھی محبت سے پیش آتے، بلکہ ضرورت کے موقع پر ان کی مدد کر تے اور ان کے کام آتے۔مولانا بڑوں اور چھوٹوں سبھوں سے خندہ پیشانی سے ملتے،اس میں کسی طرح کی تفریق نہیں کر تے۔مدرسہ کے اساتذہ ،طلباء اور ملازمین کو بھی اہمیت دیتے۔وعدہ وفاکر تے ،دوسروں کو بھی اس کی تلقین کر تے ،زبان کے نرم اور دل کے نیک تھے ،مولانا اپنے ماتحتوں سے بھی اخلاق و محبت سے پیش آتے،اسی اخلاق کا نتیجہ تھاکہ غیر مسلم حضرات بھی آپ سے بہت متاثر تھے۔جامعہ مدنیہ جہاں آباد ہے اس کے آس پاس چاروں طرف یادوؤں(غیر مسلموں) کی آبادی ہے، غیر مہذب اور اجڈ قسم کے لوگ ہیں،بڑی تعداد میں جانور پالتے ہیں،سڑکوں پر باندھتے ہیں ،عام لوگوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں،مولانا کی بزرگی وشرافت اور محنت کے نتیجہ میں ان کی زندگی میں بھی خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔یہ لوگ مولانا کے اخلاق وتواضع سے بے حد متاثر ہوئے،جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کی پچیس سالہ تقریب کے موقع پر ان لوگوں نے بھر پور تعاون کیا ۔
خدمت خلق
مولانا محمد قاسم صاحبؒ دینی اور تعلیمی خدمات کے پہلو بہ پہلو ملی و سماجی امور میں بھی گہری دلچسپی لیتے اور بڑی خاموشی اور لگن کے ساتھ ملی، فلاحی اور سماجی کام انجام دیتے تھے۔جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے آپ نے بڑے فلاحی اور رفاہی کام انجام دیئے۔آفت سماوی اور فرقہ ورانہ فسادات کے مواقع پر آپ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر تے ،نقصانات کا جائز ہ لیتے ،متاثرین سے ملتے، ان کی داد رسی کر تے ،جہاں خود نہیں پہنچتے وہاں اپنے نمائندے کو بھیجتے اور ریلف اور ضروری اشیاء تقسیم کر واتے ،ٹھنڈی کے موسم میں غرباء و مساکین کے درمیان کمبل تقسیم کر واتے۔جمعیۃ علما کے بینر تلے اصلاح160معاشرہ کی تحریک چلائی، اس کے لئے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا،معاشرے کی اصلاح کی فکر کی ،عوام سے رابطہ کیا،جگہ جگہ اصلاح معاشرہ کے جلسے منعقد کرائے،قوم وملت کی فلاح و بہبود کیلئے کی جانے والی ہرح کی کوششوں میں پیش پیش رہتے۔
ورع وتقویٰ
مولانا باعمل عالم دین تھے۔سفر و حضر میں باجماعت نمازاداکرنے کا اہتمام کر تے ،جہاں نماز کا وقت ہوجاتانماز وقت پر ادا کر لیتے ،شب بیدار اور زاہد و قانع تھے۔معاملات بالکل صاف ستھرا رکھتے تھے، وقت کے پابند اور قدر داں تھے۔کسی کی کوئی بات ناگوار معلوم ہوتی ،تو بہت نرمی سے اس کا اظہار کر تے؛ لیکن دل میں کینہ نہیں رکھتے تھے۔کبھی کسی سے جھڑک کر بات نہیں کیا،چپراسی اور ادنیٰ درجہ کے ملازم سے بھی آپ کہہ کر مخاطب کیا۔مزاج میں نرمی اور زبان میں شیرینی تھی۔اللہ نے شریعت کی پابندی کے ساتھ طریقت سے بھی وافر حصہ عطا فرمایاتھا۔حضرت مولانا اسعد مدنی ؒ سے بیعت ہوئے،اور انہیں سے خلافت پائی۔ مولانا سے جن لوگوں کی ملاقات رہی ہے ان کے صلاح وتقویٰ اور علم و عمل سے متاثر نظر آئے۔
مہمان نوازی
مولانا بڑے مہمان نواز اور بااخلا ق تھے۔ہر ایک سے محبت اور اخلاق سے پیش آتے ،ان کی ایسی تواضع کر تے کہ بسا اوقات لوگ شرمندہ ہوجاتے ،طلبا کے ساتھ شفقت و ہمدردی کا معاملہ فرماتے، ان کی آرام و راحت کا ہمیشہ خیال رکھتے ،ان کے مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اپنی توانائیاں صرف کر تے ،سفر کی صعوبتوں کو برداشت کر تے ،ٹھنڈی کے موسم میں مہمان رسول کیلئے گرم کپڑے اور کمبل کاانتظام کر واتے ،مدرسہ میں نووارد مہمانوں کا پرزور استقبال کر تے ،اور ان کو عزت و احترام کے ساتھ رکھتے۔رمضان المبارک میں خصوصی طورپر غرباء و مساکین کیلئے کپڑے اور دیگر اشیا کا انتظام کرواتے اور یہ سلسلہ رمضان المبارک سے شروع ہو کر عید تک چلتا رہتا۔مولانا کے تعلقات وسیع تھے۔علماء ،دانشو ران ، افسران،سیاستداں اور دوسرے شعبہ حیات کے لوگوں سے آپ کے مراسم گہرے تھے۔سبھوں کے ساتھ حسب مراتب خندہ پیشانی سے پیش آتے اور ہر ایک کا اکرام کر تے ،ہر حلقے کے لوگ آپ کو دل و جان سے چاہتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں