149

نعت

سلیم شوق پورنوی

مکہ ہے انوار ِ خدا اور طیبہ ہے مینارِ رسول
ایک جگہ اللہ کا گھر ہے ایک جگہ دربارِ رسول

جنت جس پر رشک کناں ہے، لندن ہےنہ پیرس ہے
وہ ہے ارضِ شہرِ مدینہ جس پر ہے گھربارِ رسول

ان کا سراپا نور ِ مجسم ، قرآں کی تفسیر لگے
مازاغ بصر ہے چشمِ نبی والشمس ضحیٰ رخسارِ رسول

ذکرِ نبی سے صبح کروں میں فکرِ نبی میں اپنی شام
میرے مرض کی یہ ہی دوا ہے میں تو ہوں بیمارِ رسول

ہند کا اک دیوانہ شاعر سب سے کہتا پھرتا ہے
فضلِ خدا ہو مجھ پہ اگر تو ہوجائے دیدارِ رسول

فرشِ زمیں سے عرش علاٰ پر اک لمحے میں پہنچے وہ
کیسی بلند ہے شانِ پیمبر کیسا ہے معیارِ رسول

آپ کے جانی دشمن بھی یہ بات ہمیشہ کہتے تھے
ارفع و اعلی ذات ِ محمد اونچا ہے کردار رسول

سارے صحابہ سچے ہیں ، سب صدق و وفا کے پیکر ہیں
سارے صحابہ موتی ہیں اور سارے ہیں شہکارِ رسول

بوبکر ہیں یار ِ غار ِ پیمبر اور عمر محبوبِ نبی
عثماں کی ہے شان نرالی حیدر ہیں کرارِ رسول

اس کی دنیا قعرِ مذلت جس سے نبی ناراض ہوا
اس کی دنیا روشن روشن، جس پہ ہوا ضوبارِ رسول

دل ہی دل میں شوق خدا سے ایک دعا میں کرتا ہوں
میرے بھی اسباب بندھے اور میں بھی بنوں رہوارِ رسول

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں