157

نعت

سلیم شوق پورنوی
ہے بعدِ خدا سب سے تری ذات مکرم
تو سیدِ ابرار ہے تو مرسَلِ اعظم

والشمس ترا چہرہ ہے “شفتین” ترے لب
واللیل ترے گیسو ہیں اے نورِ مجسم

تو مرکزِ ایمان ، تو قرآن کی تفسیر
عرفانِ شریعت ہے تو اے رحمتِ عالم

فیضان ترا عام ہے ہر خلقِ خدا پر
تو باعثِ تخلیقِ جہاں، محسنِ اعظم

احمد ہے تری ذات ، صفت یٰسین و طٰہ
اور امی لقب تیرا ہے اے ہادیِ اکرم

ہے شہر ترا شہرِ امیں شہرِ مقدس
بستی ہے تری رشکِ فلک مرکزِ عالم

سرہند ہو ، اجمیر ہو، کربل ہو کہ بغداد
ان سب سے ترا روضہ ہے عظمت میں مقدم

ازواج تری یانبی! امت کی ہیں مائیں
اصحاب ترےبعد رسل سب سےمعظم

مکہ کی زمیں مطلع ِ انوار ِ خدا ہے
طیبہ کی زمیں ہے مرےجذبات کی سرگم

میں کیسے لکھوں نعت نبی اپنے قلم سے
جذبات پرا گندہ ہیں الفاظ بھی بیدم

اے شوق مجھے شوق ہے جانے کا مدینہ
اےکاش کہ جانے کےہوں اسباب فراہم

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں