117

نعت

نبی کا شہر ہے شہر مدینہ
مدینہ چل مدینہ چل مدینہ

بھٹک جاؤں میں رستہ چلتے چلتے
کوئی لے جائے مجھ کو پھر مدینہ

صبا کہیو مدینہ جا کے ان کو
کہ ہے اب ہند میں دشوار جینا

کہاں کا مشک؟ کیسا عود و عنبر
مری خوشبو، نبی جی کا پسینہ

مہ و انجم، فلک سے بھی ہیں بہتر
در و دیوار اور خاک مدینہ

ملے دو گز زمیں مجھ کو بھی یا رب
نہیں اس جیسا کوئی بھی خزینہ

مقدر مانگنا ہو، تو یہ مانگیں
مدینے میں ہی مرنا اور جینا

بہا لیں سعد دو قطرے خدا را
ندامت کے تو آنسو ہیں نگینہ

سعد مذکر دہلی
مقیم حال مدینہ منورہ

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں