184

نعت

عارف امام
کہیں خلا میں ہے کاغذ، قلم زمیں پہ نہیں
میں نعت لکھتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں

خرامِ ناز ! کہ رستے پہ بچھ گئے ہیں فقیر
ہمارے سینے پہ رکھیے قدم زمیں پہ نہیں

خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں پڑتے*
یقیں ہوا کہ دیارِ حرم زمیں پہ نہیں

یہ لوگ عشقِ محمدؐ کے آسمان پہ ہیں
عرب زمیں پہ نہیں ہیں، عجم زمیں پہ نہیں

سرشکِ عشق، تجھے آسماں سمیٹتا ہے
زمیں پہ میں ہوں، مری چشمِ نم زمیں پہ نہیں

کسی میں تاب کہ تصویرِ نور کھینچ سکے؟
یہاں تو سایۂِ شاہِ اممؐ زمیں پہ نہیں

درِ رسولؐ پہ ہیں، اے قضائے عُجلت خیز
یہیں سے ہم کو اٹھا لے کہ ہم زمیں پہ نہیں

بُتانِ کعبہ! تمہیں اب زمیں پہ گرنا ہے
یہ بُت شکن ہے اور اس کے قدم زمیں پہ نہیں

سُخن کی بھیک ہے، افلاک سے اترتی ہے
کہ اس شمار میں دام و درم زمیں پہ نہیں

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں