128

نعت پاک

اعظم سیتا پوری
نبی کو بلانا فلک سے بھی اوپر محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کبھی والضحی اور والليل کہنا یہ الفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کروں حق ادا کیسے نعتِ نبی کا، ہے عاجز قلم اور زباں بھی ہے قاصر
مگر حصہ جو بھی مجھے مل گیا ہے، عنایت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
نبی نے ہمیشہ اس امت کی خاطر ستم سہ لیے اور آنسو بہائے
مصیبت کے ماروں کی فریاد سننا، یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ستاتے تھے مشرک وہ سجدہ جو کرتے، مظالم کیے اہلِ طائف نے ان پر
مگر بد دعا سے گریزاں ہی رہنا شرافت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
وہ آسودہ ہو کر کبھی کھا سکے نہ، کبھی اہلِ حاجت کو واپس نہ بھیجا
رہے ہاتھ خالی، وہ پھر بھی نوازش، مروت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
نہ دعوی کریں ہم، عمل خود ہی بولے، دلائل کی بالکل ضرورت نہیں ہے
یہ سنت پہ ان کی سدا چلتے رہنا، محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جزا ان کو امت کی جانب سے یا رب، تو دیتا رہے جو بھی شایاں ہو تیرے
عقیدت سے اعظم درود ان پہ پڑھنا، سعادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں