494

نظم

ڈاکٹر ولاء

بے تکا وقت میں اس سے ملی
کہنے لگا کہ کوئی عیب نہیں تجھ میں
ایک بات کی کمی نہیں تجھ میں
تو قائم رہے گی مجھ میں
زندگی ملی تجھ میں
تیرا غلام ہوں میں
جو چاہے مانگے تیرے لئے ہو جائے
میں نے کہا مجھ میں خطرناک عیب ہے
سورج کے سائے کی طرح تغیر پذیر ہوتی
آنے والے چیزوں کے سائے سے خوفزدہ رہتی
کوئی راہ پر چلتی اسے اختیار کرنی مجھے
لیکن ابھی میری راہ نہیں پتہ مجھے
کونسی راہ اختیار کرنی چاہیے مجھے
میرا دل اسی راہ پر لے گیا مجھے
سیدھی راہ پر چلنے س روکا مجھے
تیرا سایہ جس راہ پر چلنا ہوگا مجھے
تیرے سایہ میں سکونت اختیار کروں
تیرے سایہ کی رہنمائی میں چلوں
تو ایسے مرہم کی طرح ہے
میرے دل پر لگے زخم ٹھیک ہو جاتے جس سے
میرے مستقل درد کم ہو جاتے جس سے
میری محبت نا مکمل ہو گی
لیکن مجھے تو سے جدا کر سکے گی
نہ زندگی ۔۔ نہ موت ۔۔ نہ کوئی نہ کوئی
*عین شمس یونیورسٹی مصر

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں