88

نظام آبادکے ایک گاؤں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان

ماہ مبارک میں مسلم آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا،شکایت درج
نظام آباد
ملک کے مختلف علاقوں میں فرقہ ورانہ منافرت میں کس قدراضافہ ہورہاہے ،آئے دن اس کی رپورٹیں آرہی ہیں۔مسلمانوں کے تئیں پہلے شک کاماحول تھا،پھراعتمادمیں کمی آئی ،اب منافرت کے ماحول کی اچھی خاصی پرورش ہوگئی ہے ،گﺅرکشکوں کی غنڈہ گردی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ فرقہ پرستوں کے حوصلے کس قدربلندہیں۔اقلیتوں کے تئیں عرصہ حیات تنگ کرنے اوران کااستحصال کرنے کی روایت اورعدم تحفظ کاماحول جہاںایک طرف زورپکڑرہا ہے تودوسری طرف سب کاساتھ ،سب کاوکاس اورسب کاوشواس کانعرہ لگایاجارہاہے ۔ایساہی ایک واقعہ نظام آباد ضلع کے بال کنڈہ میں پیش آیاجہاں ویلج ڈویلپمنٹ کمیٹی(دیہی ترقیاتی کمیٹی) نے گاو ¿ں میں مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی سماجی یا تجارتی تعلقات رکھنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔سیاست میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق وی ڈی اے نے ایک قبرستان پرمسلمانوں کے دعوے کوترک کرنے کے لیے ان پر دباو ¿ ڈالنے کاہتکھنڈہ اپناتے ہوئے ان کے سماجی اور تجارتی بائیکاٹ کافیصلہ کیاہے۔مقامی مسجدکمیٹی نے مقامی عدالت میں کیس دائر کر دیا ہے جس میںاس نے مقدمہ واپس لینے سے انکارکردیا۔سیاست کی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ وی ڈی سی نے کہاہے کہ کسی بھی شخص کو جو ایک مسلمان کے ساتھ بات کرے،اس کو 5000 روپے کاجرمانہ دیناہوگا اور وہ اگرکسی مسلم ملکیت کے ریسٹورنٹ میں چائے پیتا ہے تو جرمانہ بیس ہزارروپیہ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ، ایک غیر مسلم کسی مسلمان کی ایک جنرل اسٹورسے کچھ خریدتا ہے تو اس پربیس ہزارروپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح کوئی غیرمسلم ،کسی مسلمان کے آٹو رکشہ پرسفرکرتاہے تواسے بھی سزادی جائے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان غیرقانونی پابندیوں کی وجہ سے گاو ¿ں میں رمضان المبارک میںمسلمانوں کوشدیدمشکلات کاسامناہے۔ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے راشن اور دودھ خریدنہیں سکتے۔ ہندوملکیت والے گھروں میں مسلم کرایہ داروں کومکانات خالی کرنے کے لیے کہاجارہاہے۔الزام ہے کہ گاو ¿ں میںبعض لوگوں نے چند قبروں کونقصان پہونچاکر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس بائیکاٹ کے خلاف مسجدکمیٹی نے علاقائی پولیس افسران کے سامنے شکایت درج کرائی ہے لیکن تاہنوزکارروائی نہیں کی گئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں