61

نامور سنگھ کو یاد کرتے ہوئے

ڈاکٹر سرورالہدیٰ
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
نامور سنگھ انیس فروری کو گزرے اور اکیس کو سہ پہر قریب ساڑھے چار بجے انکی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ اسی مقام پر چند ماہ قبل کیدار ناتھ سنگھ کی بھی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ کیدار ناتھ سنگھ اور نامور سنگھ ہندی ادب کی اہم شخصیات کے ساتھ یہ دونوں سمدھی بھی تھے۔ جامعہ سے نامور سنگھ کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے جب میں روانہ ہوا تو میں اکیلا تھا۔ انہیں پہلی مرتبہ 1996 میں جے این یو میں دیکھا تھا اور اب آخری مرتبہ انہیں دیکھنے کے لئے جامعہ سے روانہ ہوا۔ جامعہ آنے کے بعد میں نے ان کے کچھ مضامین کا اردو میں ترجمہ کیا تھا اور کئی مرتبہ انہیں یہاں کے جلسوں میں دیکھا اور سنا۔ 2008 میں میں ان کے گھر حاضر ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’اتہاس اور آلوچنا‘‘ اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کی تھی۔ اس دستخط کے نیچے 6/04/2008 کی تاریخ درج ہے۔ جے این یو وہ تشریف لاتے تھے اور اس کی اطلاع طالب علموں کو ہوجاتی تھی۔ مجھے پہلی مرتبہ نامور سنگھ کے تعلق سے ہی یہ احساس ہوا کہ شخصیت کا رعب کیا ہوتا ہے اور ایسی شخصیت کو دیکھنے اور سننے کا تجربہ کیا ہے۔ راستے میں نامور سنگھ کی شخصیت کے تعلق سے بہت سی باتیں یاد آنے لگیں۔ انہیں پڑھنا تو ایک مستقل مشغلہ جیسا رہا ہے لیکن ان کے بارے میں گفتگو کرنا اور گفتگو سننا بھی ادبی مشاغل میں شامل رہا ہے۔
جامعہ سے لودھی گارڈن سریمیشن گھاٹ تک کا سفر کوئی آدھے گھنٹے کا ہے اس درمیان میرے ذہن میں ان کی کتابوں کے نام اور ان کے مباحث گردش کرنے لگے۔ جب میں شمشان گھاٹ پہنچا تو باہر کچھ لوگ کھڑے تھے اور ان میں سے کسی کو میں نے پہچانا نہیں۔ دھیرے دھیرے تعداد بڑھنے لگی ان میں کچھ وہ لوگ بھی تھے جن کا تعلق جے این یو سے تھا اور ہے اور بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جن کا تعلق زندگی سماج اور ادب کے مختلف شعبوں سے ہے۔ اسی درمیان پھولوں سے سجی ہوئی ایک گاڑی احاطے میں داخل ہوئی۔ باہر کھڑے لوگ اس گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔ ایک خاموش وجود کو گاڑی سے باہر لایا گیا اور کاندھا دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ گاڑی سے اس پشتے کا فاصلہ بس چند منٹوں کا تھا لہٰذا زیادہ تر لوگ پشتے پر اس وجود کو رکھے جانے کا انتظار کررہے تھے تاکہ قریب سے ان کا آخری دیدار کیا جاسکے۔ اس درمیان میری ملاقات نامور سنگھ کے ہمدم دیرینہ پروفیسر منیجر پانڈے سے ہوئی۔ پھر نامور سنگھ کے شاگرد عزیز پروفیسر پرشوتم اگروال سے ملاقات ہوئی۔ علی جاوید صاحب کو دیکھ کر میں ان سے ملنے چلا گیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو نامور سنگھ نے پڑھایا ہوگا تو انہوں نے ایک پیپر کا ذکر کیا جو وہ اردو اور ہندی کے طلبہ کو مشترکہ طور پر پڑھاتے تھے۔
نامور سنگھ کے دوستوں، عزیزوں اور شاگردوں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ زندگی اور ادبی زندگی تو اس طرح گزاری جاتی ہے۔ وقفے وقفے سے رونے اور سسکنے کی آوازیں بھی آجاتی تھیں۔ لوگ ادھر ادھر کھڑے ہوکر نامور سنگھ کے بارے میں باتیں کررہے تھے اور کچھ لوگ بالکل خاموش تھے۔ رویش کمار بھی کچھ لوگوں سے گھرے ہوئے تھے۔ چند ہفتے ہوئے رویش کمار نے این ڈی ٹی وی پر نامور سنگھ سے ایک ملاقات کے مناظر بھی دکھائے تھے۔ ان کی رہائش گاہ کو غالبا پہلی مرتبہ بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ قریب ہی اشوک واجپائی کھڑے تھے۔ ایک ہمہ ہمی کا عالم تھا۔ ڈاکٹر نیل کنٹھ سے ملاقات ہوئی۔ صبح فون پر نیل کنٹھ نے کہا کہ سرور نامور جی نے لمبی عمر پائی اور بھرپور زندگی گزاری۔ تم بھی پہنچو میں بھی آرہا ہوں۔
گذشتہ سال ورلڈ بک فیئر (پرگتی میدان) میں میں نے آخری مرتبہ نامور سنگھ کو دیکھا تھا۔ سچ پوچھئے تو انہیں دیکھنے ہی کے لیے گیا تھا۔ نامور سنگھ کو نیل کنٹھ کے والد کے ایک ناول کی رسم رونمائی ادا کرنی تھی۔ ان کا چہرہ بشاش تھا۔ آہستہ آہستہ چل رہے تھے، قد کی درازی اسی طرح قائم تھی۔ گفتگو ظاہر ہے پہلے جیسی نہیں تھی لیکن مجھے یاد ہے انہیں دیکھ کر لوگ ادھر ادھر سے جمع ہونے لگے۔ گزرنے والا بھی رک کر ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا۔ پان کی لالی سے ان کے ہونٹ سرخ تھے۔ آنکھ سے پانی نکل کر چہرے پر آجاتا وہ کبھی پوچھتے اور کبھی یوں ہی چھوڑ دیتے تھے۔ آنکھوں میں شاید کوئی تکلیف تھی اورآنکھیں بھر آتی تھیں۔ ممکن ہے اس پانی میں آنسو کا بھی کوئی قطرہ ہو جسے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہوگا۔
وقت بہت تیزی کے ساتھ نہیں گزرا تھا لیکن وقت ٹھہرا بھی نہیں تھا۔ موسم ابرآلود تھا اور باہر کچھ ہلکی بارش بھی ہورہی تھی۔ موسم کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔ آج دن کا آخری حصہ بلکہ پورا دن بجھا بجھا سا تھا۔ نامور سنگھ نے دنیا کو اور ادب کی دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ انہوں نے وقت کی رفتار کو بھی جس طرح دیکھا اور محسوس کیا وہ بھی ایک واقعہ ہے۔ آج وقت بظاہر ان کے ساتھ نہیں تھا یا وہ وقت کے ساتھ عملی طور پر شامل نہیں تھے مگر کئی معنوں میں وقت ان کے ساتھ تھا۔ ان کی تحریروں اور باتوں نے وقت کی دھارا کے رخ کو موڑا بھی ہے۔ نامور سنگھ کی شخصیت ایک وچار ایک خیال ایک روشنی کے استعارے کا نام ہے۔ آج ان کے خاموش وجود کو دیکھ کر محسوس ہورہا تھا کہ تحریر گویا ہے اور مصنف خاموش۔ جس ذہن نے فکر کے نہ جانے کتنے چراغ روشن کئے وہ ذہن علم ، ذہانت اور بصیرت کی تثلیث کا مفہوم سمجھا رہا تھا۔
اب لوگ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے تھے، ہر طرف خاموشی تھی۔ نامور سنگھ کے اس آخری سفر کی خاموشی کے درمیان مجھے ان کی ایک کتاب ’’زمانے کے ساتھ دو دو ہاتھ‘‘ کا خیال آیا اور میں باہر نکل آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں