126

نئے زمانے کے چیلنجزسے نمٹنے کیلئے علماء خود کو تیار کریں


جامعۃ الشیخ دیوبندمیں طلباء کشن گنج و پورنیہ کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ پروگرام میں مولانا اسرارالحق قاسمی کاخطاب
دیوبند:موجودہ دور میں علماء کی ذمے داریاں پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اورانہیں اپنی ذمے داریوں کومحسوس کرکے دنیا کی قیادت کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین و ممبر پارلیمنٹ اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ مولانا اسرارالحق قاسمی نے جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی میں دیوبند میں موجودکشن گنج و پورنیہ کے طلباء کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ مجلس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا قاسمی نے کہاکہ اسلام دشمن طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ علماء اور دین سے توڑدیں مگر آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنے علماء پر اور مدارس اسلامیہ پر اعتماد کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر سال صرف ہندوستان سے دارالعلوم دیوبند سمیت دسیوں مدارس اور دینی جامعات سے ہزاروں کی تعداد میں علماء تیار ہورہے ہیں ،البتہ عصر حاضر میں مسلمانوں کو جو مذہبی چیلنجز درپیش ہیں ان کا بروقت اور صحیح مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے علماء کو دینی علوم میں رسوخ ہونے کے ساتھ عصر حاضر کے تمام مسائل سے واقفیت ہو تاکہ وہ دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں۔مولانا نے کہاکہ فی الوقت ہندوستان میں کئی فتنے سرابھاررہے ہیں،انتہا پسند ہندوتنظیموں کی جانب سے پسماندہ اور دین سے ناواقف مسلمانوں کو بہلا پھسلاکر ارتدادکی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اسی طرح عصری تعلیم گاہوں میں زیر تعلیم مسلم بچیوں کو پھنساکر گمراہ کرنے کی سازشیں چل رہی ہیں ،ہماری ذمے داری ہے کہ مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کریں،جولوگ دین سے نابلد ہیں انہیں دینی تعلیمات سے روشناش کروائیں،بچوں اور بچیوں کی اسلامی تربیت کے فوائد ونتائج سے انہیں آگاہ کریں اور بتائیں کہ اسلام اولاد کی صحیح تربیت پر کتنا زیادہ زور دیتاہے۔قبل ازاں جامعۃ الشیخ کے مہتمم مولانا مزمل علی آسامی نے اپنی بیماری کے باوجود مولانا اسرارالحق قاسمی پرتپاک استقبال کیا اور طلباء کشن گنج و پورنیہ کی جانب سے مولوی شمیم ربانی نے مولانا اسرارالحق قاسمی کو سپاس نامہ پیش کیا۔جس میں ہندوستان اور خاص کرکشن گنج و پورنیہ کے علاقے میں مولانا کی رفاہی و تعلیمی خدمات کوسراہاگیا ،بہ طور خاص مولانا کے ایم پی بننے کے بعد اس علاقے کی تعلیمی شرح میں جو اضافہ ہواہے اس پر مولانا کی تحسین کی گئی۔اسی طرح کشن گنج میں اے ایم یوسینٹر کے قیام کے سلسلے میں مولانا قاسمی نے خاموشی اور اخلاص کے ساتھ جو قربانیاں دی ہیں ان کا بھی ذکر کیاگیا۔اس موقع پرمولانا قاسمی نے طلباء کی انجمن کی لائبریری کے لئے ایک الماری اوردارالعلوم دیوبند میں طلبہ بہاراڑیسہ و جھارکھنڈ کی مشترکہ سجادلائبریری کے دوالماریوں اور تعمیری کام کے لئے پچیس ہزار روپے کے تعاون کا بھی اعلان کیا۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں جامعۃ الشیخ کے استاذمفتی ابصارحسن ،ناظم تعلیمات مفتی آصف، طلبائے کشن گنج کی انجمن کے صدرمولوی حسن احمد،نائب صدرمولوی سلمان اختر،حافظ عامل،مولوی حماد،نظر عالم ،تفسیرعالم سجاد لائبریری کے مولانااشرف علی قاسمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں،جبکہ پروگرام میں دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم وقف اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم سیکڑوں طلبانے شرکت کی۔واضح رہے کہ اس موقع پر مولانا اسرارالحق قاسمی نے کئی ماہ سے علیل دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانامحمد اسلام قاسمی کی ان کی رہائش گاہ پرجاکر عیادت کرکے ان کی احوال پرسی کی اور ان کی صحت و عافیت کے لئے خصوصی دعاء بھی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

نئے زمانے کے چیلنجزسے نمٹنے کیلئے علماء خود کو تیار کریں” ایک تبصرہ

  1. عصر حاضر کے لئے اشد ضرورت ہے , اچھا اور مستحسن قدم ہے ,اللہ تعالی کامیابی عطا فرماے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں