109

نئے تنقیدی زاویے:ایک وقیع کتاب


مصنف: سکندراحمد مرحوم
مرتبہ: غزالہ سکندر
صفحات: 384 قیمت:500؍روپئے
پبلشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی
مبصر: شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردونیوز)
کچھ ذمے داریاں پتھر کی طرح وزنی ہوتی ہیں ـ مرحوم سکندراحمد کی کتاب ’نئے تنقیدی زاویے‘کے تعار ف وتبصرہ کی ذمے داری میرے لیے کچھ اسی طرح کی ہے۔ان کی اہلیہ غزالہ سکندرنے جب یہ کتاب مجھے بھیجی، توساتھ ہی مختصرسی یہ تحریر بھی تھی کہ ’تبصرے کی امید کے ساتھ بھائی شکیل رشید کے لیے ان کے مرحوم دوست کی کتاب کاتحفہ بصدخلوص۔‘سکندراحمد مرحوم میرے دوست ہی نہیں تھے، وہ میرے بھائی بھی تھے،دوست جیسے بھائی !غزالہ سکندرکی مذکورہ مختصرسی تحریر پڑھ کرمجھے مرحوم سے اپنی آخری ملاقات یاد آگئی،جوان کی موت سے بس چندروز قبل ہوئی تھی۔حالانکہ ان کاتبادلہ بھوپال ہوگیاتھا؛لیکن تبادلہ کے بعدان کا ممبئی آناجانا مسلسل رہا،وہ ممبئی آئےتھے اورکف پریڈ کے پانچ ستارہ’پرسیڈنٹ ہوٹل‘ میں ٹھہرے تھے،مجھے فون کرکے انہو ں نے فوراً پہنچے کوکہاتھا۔ان کاکہا میں نے کبھی نہیں ٹالاتھا۔میں پہنچاتھا اوراُن کے ہمراہ ایئرپورٹ تک گیاتھا۔راستے میں ممبئی،ادیبوں اورادب کی صورتحال پر بات چیت ہوتی رہی،مرحوم کچھ بے چین سے لگ رہے تھے، وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ ادھر چند روز سے شوگر اوربلڈپریشرزوروں پر ہے اورنصف سرمیں دردرہتا ہے۔پھر ہنس کرکہاتھا کہ اپنے ہومیوپیتھ سے فون پر بات کی ہے،وہ بہار میں رہتا ہے،ا س نے کچھ دوائیں لکھی ہیں اورکہا ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔الوداع کہتے کہتے انہوں نے کہاتھاکہ چند ایک روز میں پھر ممبئی آناہے؛لیکن وہ آخری ملاقات تھی، اس کے بعدایک روز نصف شب کو ان کی اہلیہ کافون ملاتھا کہ انہیں د ل کاشدید دورہ پڑا ہےاورصبح پتہ چلاکہ وہ مالکِ حقیقی سے جاملے ہیں۔اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت دےـ (آمین)
مرحوم نے جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی نے تحریر کیاہے، ادب کے میدان میں بڑی دیر سے قدم رکھا لیکن’’بہت جلد جہانِ تنقیدپر چھاگئے۔‘‘حالانکہ مرحوم فاروقی صاحب کو اپنے والد کی طرح چاہتے تھے اورادبی نظریات میں ان کے ہم خیال تھے؛ لیکن اگرکبھی کسی طرح کے ادبی اختلاف کی نوبت آتی، تووہ اپنی آرا کو سامنے رکھنے سے جھجھکتے نہیں تھے۔ادب کے حوالے سے مرحوم کے بہتوں سے اختلافات تھے؛لیکن اس کتاب کے دیباچے میں غزالہ سکندرکا یہ جملہ ’’ان کااختلاف کبھی ذاتی اورشخصی نہیں،ہمیشہ نظریاتی ہوا کرتاتھا‘‘مرحوم کے اوصافِ حمیدہ کو ظاہرکرنے کے لیے کافی ہے۔ادبی دنیامیں وہ کسی کے بھی دشمن نہیں تھے۔غزالہ سکندرنے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’وہ جنون کی حد تک مطالعہ کے شوقین تھے،بینک کی متضاد مصروفیات اورذمےداریوں کے باوجودمطالعہ انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا،مادری زبان اورشعروادب سے ان کی محبت مثالی تھی،نہ سائنس کی تعلیم کبھی آڑے آئی، نہ بنکاری کاپیشہ کبھی اس میں کوئی رخنہ ڈال سکا۔اردوادب،شاعری اورفکشن پر ان کے علمی وتنقیدی مضامین اس کاثبوت ہیں۔‘‘میں نے ان کے بھوپال جانے کے موقع پر دیکھا ہے کہ گھریلو اشیا سے کہیں زیادہ سامان میں کتابیں تھیں۔
غزالہ سکندرنے اپنے مرحوم شوہر کی یادکو کبھی اپنے دل ودماغ سے محونہیں ہونے دیا۔ان کی تحریروں کو اکٹھا کرکے انہیں کتابی شکل میں پیش کرنے کی انہوں نے ٹھانی اوریہ تیسری کتاب ’نئے تنقیدی زاویے‘سب کے سامنے ہے۔اس سے قبل ’مضامینِ سکندر‘اور’طلسمات عروض‘وہ شائع کراچکی ہیں۔جو مضامین یاتحریریں باقی رہ گئی ہیں، انہیں شائع کرانے کاعزم کررکھا ہے۔اللہ ان کے غم کوآسان کرے اورانہیں ہمت دے(آمین)۔
کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے:لسانیات،مابعدجدیدیت اور تھیوری،تنقید(یہ دوحصوں پر مشتمل ہے)فارسی عروض اورانٹرویوز۔دیباچہ غزالہ سکندرکاہے اورمرحوم کے فن پر ایک وقیع مضمون’تنقید تھیوری اورسکندراحمد‘پاکستانی ادیب محمد حمید شاہد کاہے۔محمدحمید شاہدکے۹؍صفحات پر پھیلے مضمون کالب لباب ان کے ہی جملوں میں یہ ہے’’اس کتاب میں اتنی قوت ہے کہ تھیوری کے دیسی شارحین کومرعوبیت کی اس فضا سے نکال سکتی ہے، جس میں تخلیق کو پس پشت ڈال کر یہ بے چارے ایک مدت سے لسانی اورفلسفیانہ مباحث کے پانی میں مدھانی ڈالے بیٹھے ہیں،یوں کہ اردوتنقیدبانجھ مشقت کےسواکچھ نہیں رہی۔‘‘
لسانیات مرحوم کاپسندیدہ موضوع تھا،اس باب میں چار مضامین،اردو صوتیات اوراصل تناظر‘’اردورسم الخط :مسائل اورامکانات‘’الفاظ کی تذکیروتانیث ‘اور’ہمزہ،اپنی اصل کے تناظرمیں‘شامل ہیں۔تمام ہی مضامین میں بقول فاروقی صاحب’’کوئی نہ کوئی علمی بات ہے،کوئی نیا نکتہ ہے۔‘‘
مابعدجدیدیت اورتھیوری والے باب میں بھی چار مضامین شامل ہیں،یہ مضامین ادبی تھیوری کے طالب علموں کوپڑھناچاہیے؛ کیونکہ ان سے بہت سی الجھی ہوئی گرہیں سلجھ جاتی ہیں۔پہلا مضمون’مابعدجدیدیت حقیقت کے آئینے میں‘ہے اوربے حد وقیع ہے۔’دریدا اورڈی کنسٹرکشن‘اس مضمون میں انہوں نے’ڈی کنسٹرکشن‘ کے ترجمے ’’ردتشکیل ‘کو ردکرتے ہوئے اس کاترجمہ’تخریبی تعمیر‘ کیا ہے اورپر زورانداز میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تھیوری اس لیے گھڑی گئی کہ ازلی سچائیوں پر سوالیہ نشان لگایا جائے۔دیگر دومضامین کے عنوان ہیں۔’مابعدجدید:مضمرات اورممکنات یاتعصبات اورتحفظات ‘اور’حالی کے بعدوالے۔‘تنقیدکے دوابواب ہیں،پہلے باب میں’ہم فکشن کیوں پڑھیں؟‘کے عنوان سے بے حدعلمی مضمون ہے۔ایک مضمون ’تکلم ،بیانیہ اور افسانویت‘کےموضوع پرہے۔اورایک مضمون میں احمد یوسف کی کہانی’جلتا ہوا جنگل‘کاتنقیدی جائز ہ لیا گیا ہے۔ تنقیدکے دوسرے باب میں آٹھ مضامین شامل ہیں،جن میں ایک مضمون ’ٹیگور اور گیتانجلی ‘معرکے کامضمون ہے۔فارسی عروض کے تحت مرحوم نے’عروض کاتاریخی پس منظر‘بیان کیاہے۔آخر میں دوانٹرویو ہیں‘ایک میرا لیا ہوا اوردوسرا اسدثنائی کا۔شمس الرحمن فاروقی نے مرحوم کو’نابغہ‘قراردیاہے۔بے شک سکندراحمدمرحوم’نابغہ‘تھے۔ان کے تحریر کردہ ان مضامین کو پڑھنے کے بعدہر کوئی فاروقی صاحب کی اس رائے سے متفق ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں