209

نئے امیرجماعت اسلامی ہند سے چندباتیں

تحریر:عمیر انس
ترتیب وتبصرہ: عبدالعزیز
یہ خبر کہ جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب ہندستان کی بیحد معتبر دینی جماعت کے امیر منتخب قرار پائے ہیں سارے مسلمانان ہند میں بہت خوشی اور اطمینان سے سنی جارہی ہے، لیکن میں مبارکباد پیش کرنے کی ہمت نہیں کر پارہا ہوں، آپ سے پہلے جو لوگ اس منصب سے رخصت ہوئے ہیں انہوں نے علم و فضل کا بیش بہا سرمایہ چھوڑا ہے، طویل عمر کے تجربے ان کے محافظ تھے، ہندستان کے نا مساعد حالات میں وہ اس تحریک کی حفاظت کی بلکہ اسے ملک کے طول و عرض میں اور اس کے باشندگان میں مقبول و معروف بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، در اصل مبارکباد کے اصل مستحق تو وہی ہیں جو اس راہ سے کامیابی سے گزر گئے! یہ ذمے داری ملنے کے بعد آپ یقیناًاس حیرت میں ہوں گے کہ اپنے پیش روؤں سے علم و فضل، اعتبار اور تجربے میں بہت پیچھے ہونے کے باوجود آپ کو اتنی بڑی ذمے داری کیوں کر حوالے کر دی گئی ہے۔
میرے خیال سے آپ اس نئی نسل کے ہندستانی مسلمان قائد ہیں جن کے سامنے ہندستان کی سیاسی اور سماجی تبدیلی کا وہ دور پروان پایا ہے جس کی بلندی کا نام فاشزم ہے، آپ ایسی ملت اسلامیہ کے نمائندے ہیں جس نے اپنے دینی تشخص کیلئے، اپنے حقوق کیلئے، اپنے فروغ کیلئے اپنی بقا اور تحفظ کیلئے ہر ممکن کوشش کر دینے کے باوجود بھی اندیشوں کے اندھیروں میں گرفتار ہے، نا امیدی ہر دروازے سے داخل ہو رہی ہے، اور برادرانِ وطن میں آپ کے خیر خواہوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جارہی ہے، آپ ایک ایسی عالمی تبدیلی کے گواہ ہیں جس میں عالم اسلام اور اسلامی ملت کو سب سے گہرا زخم باہر کی بجائے اندر سے لگائے جارہے ہیں، جہاں ایران کے نقلی اسلامی انقلاب کا طلسم ٹوٹ چکا ہے، سر زمین حجاز کا توحیدی انقلاب خودکشی کر رہا ہے، بہتر مستقبل کے بیشتر خواب یا تو استبداد کی جیلوں میں قید ہیں یا ان کی گولیوں کے نشانے پر ہیں، آپ ایک ایسی تنظیمی ماحول میں پرورش پائی ہیں جس میں ان تمام امراض کی تشخیص ہو چکی ہے جس نے زیادہ تر دینی جماعتوں کو برباد کر دیا ہے، آپ کی تنظیم کو ایسے ہاتھی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی عظمت اس کا وجود ہے ، جس کی خوراک بہت زیادہ ہے لیکن جس کی چال اتنی سست ہے کہ اس پر بیٹھ کر اس تیز رفتار دوڑ کا مقابلہ تو دور مقابلے میں بنے رہنا بھی نا ممکن ہے، اور اس بات میں کسی کو شک کیوں ہوگا کہ آج ہندستانی مسلمان اپنے فکری اور عملی قوت میں خود کو بقیہ تمام اقوام سے پیچھے پارہا ہے۔
آپ کو چیلنجز سے بھرے اس ہندستان میں اسلام کی اقامت کی کوششوں کی نگرانی اور قیادت کی ذمہ داری یقیناًمبارکباد کی وجہ نہیں ہو سکتی، البتہ جماعت اسلامی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے اپنے درمیان موجود ایک ایسے شخص کو ذمہ داری دینے کا بیحد بیباک اور بیخوف فیصلہ کیا ہے جو شخص ہندستان کے چیلنجز کے ساتھ اس کے بہترین امکانات سے واقف ہے، وہ ٹکنالوجی اور معیشت کے بدلتے بنیادی ڈھانچے سے واقف ہے جو ہندستان کو دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جو ہندستان کی نئی نسل کی بہترین کامیابیوں سے واقف ہے، جس نے پچیس سالوں میں عام ہندو اور مسلمان نوجوانوں کو ٹکنالوجی، سائنس، علم اور ادب، آرٹ اور کلچر، میڈیا اور کمیونیکیشن میں مقابلہ کی فضا میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔
آپ پر اتنی بڑی جماعت نے اور اس کے افراد اور ملت کے عام نوجوانوں نے اعتماد غالباً اس لئے کیا ہے کیوں کہ آپ نے اپنی جماعت کے سامنے یہ سوال پوری قوت سے پیش کیا ہے کہ ’’ہم کیوں نہیں کر سکتے‘‘؟ اور آپ یہ بتانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہہ ’’ہم بھی کر سکتے ہیں!‘‘ کیسے کر سکتے ہیں اور کر دکھانے کے اس چیلنج میں اسلامی اقدار کو مقبولیت حاصل ہو گی، اسلامی تشخص کی حفاظت آسان ہو گی، برادران وطن میں اہل اسلام اور مذہب اسلام کے خیر خواہوں کی تعداد بڑھے گی، اور یہ سب کرنے میں آپ کی جماعت کا نظم ایک ہاتھی کی جگہ ایک کمپیوٹر کی طرح کام کر سکتا ہے جسکے سارے پارٹس ایک ساتھ مل کر کم وسائل میں، کم وقت میں زیادہ خوبصورت انداز میں زیادہ بڑے حلقوں تک پہنچ سکتا ہے۔
توقعات کے مستحق ہونے پر آپ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں، آپ کی فکر انگیز تقریروں اور تحریروں نے توقعات پیدا کی ہیں لیکن ان کو کر دکھانے کی ذمے داری آپ سے مزید صفات کا مطالبہ کرتی ہے، قیادت کا کام فیصلہ لینا ہوتا ہے، فیصلے کے انتظار میں وقت گزارنا نہیں، قیادت خطرے لینے کیلئے دی جاتی ہے خطروں کے گذر جانے کا انتظار کرنے کیلئے نہیں، جماعت اسلامی ملت کے اخلاقی اور فکری امراض سے محفوظ نہیں رہی ہے، آپ کی صفوں میں بھی ایسے افراد ہیں جوں ذاتی بلندی کیلئے تنظیم اور تنظیمی مفادات کو قربان کرنے میں بے خوف ہو چکے ہیں، آپ کی بعض ریاستی تنظیمیں اندر سے منہدم ہونے سے محض چند قدموں کے فاصلے پر ہیں، مدارس سے آنے والے مولویوں کی باہمی چپقلش اور شیروانیوں کا مقابلہ آپ کی جماعت میں بھی منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، الفلاح، جامعہ ملیہ سمیت تمام اہم اداروں میں آپکا نظم اور اسکے افراد افکار کی جنگ میں شکست خوردہ اور تھکے ہوئے نظر آتے ہیں، اسلامی فکر کی صحیح ترجمانی غیر مسلموں کے خلاف تو سارے مسلمان اچھی کر لیتے ہیں لیکن خود مسلمانوں کی بے عملی اور بے فکری کے خلاف جب کرنا ہو تو آپ کی جماعت بھی عوامی دھارے میں بہ جاتی ہے۔
نئی صلاحیتوں کو جماعت اسلامی کے نظم میں فروغ پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، معاف فرمائیں فکری پختگی، اخلاص اور تنظیمی شعور کے الفاظ کا استعمال کرکے آپ کی قیادت نئی نسل کے افراد کو تنظیم سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے، ملت اسلامیہ کے عام نوجوانوں کیلئے تحریک میں استقبال کا ماحول ختم ہو رہا ہے، خوشامد پسندی اور چاپلوسی مناصب حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ بن چکے ہیں، خواتین کو اسلامی دعوت کا حصہ بنانے کے معاملے میں آپ آج بھی دنیا کی سبھی اسلامی تحریکوں میں سب سے پیچھے ہیں، دور اول میں معمولی لوگ بڑی صلاحیت والے افراد کو متاثر کرکے اپنی صفوں میں شامل کرتے تھے اور اب آپ کا نظم سماج کے با صلاحیت طبقے سے الرجی رکھتا ہے، آپ کو عمر، کنہیا اور شہلا کو اپنے جلسوں میں بلانے اور ان کی پزیرائی کرنے میں اچھا لگتا ہے لیکن اپنی صفوں میں کسی نوجوان کو کنہیا، عمر اور شہلا جیسا بننا ناقابل قبول ہے، آپ کے اندر تنظیمی روایات کے نام پر ایک ایسا ماحول باقی رہ گیا ہے جو کسی زمانے میں فاتحہ خوانی اور میلاد شریف منعقد کرنے والوں کا ہوتا تھا، سماج میں انقلاب پیدا کرنے میں آپ کے نظم کی کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ہے، نظم میں کام نہ کرنا تو قابل قبول ہے لیکن زیادہ کام کرنے کی خواہش رکھنے والے ہمیشہ نظم کے چابک کی زد میں ہوتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ گئی گزری حالت میں بھی ملت کی موجودہ سبھی تنظیمی اور جماعتی گروہوں سے زیادہ مشاورتی اور شفاف نظم رکھتے ہیں لیکن آپ کے اپنے دور اول کے معیار اہداف سے آپ خود سے بہت پیچھے ہیں، عزیمت کا راستہ چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے۔ بغیر جہیز کی شادیوں، غربا پروری، پسماندہ افراد کو معاشرے میں قابل احترام بنانے والے کاموں میں آپ کے افراد پہلے سے کم ہونے لگے ہیں، غریب کارکنان کی بے وقعتی فیشن ہے اور اپر کلاس نظر آنے کیلئے شیروانی ٹوپی کا مقابلہ کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، زمین سے ربط کا مطلب صرف رپورٹ حاصل کرنا اور اس کی فوٹو شائع کرنے تک محدود ہے، کل ملا کر یہ کہ آپ کی تحریک بھی پرانے ملی امراض کا شکار ہو نے لگی ہے، اور آپ کو یقیناًاس کا اعتراف اپنی مجلسوں میں کرنا چاہئے اور اس کی اصلاح کیلئے نیت کرنی چاہئے، ہمیں احساس ہے کہ آپ کے پڑھے لکھے افراد کسی بھی مسئلے کی موجودگی کو ہی غلط ثابت کرنے کا شاندار ریکارڈ رکھتے ہیں لیکن کسی دور گاوں سے دلی اور لکھنؤ میں بیٹھے ذمے داران سے ملنے آنے والے کارکن کا تجربہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہوگا۔
ذاتی طور پر میں آپ کا بیحد مداح اور قدر دان ہوں، میں نے دیکھا ہے کہ اپنے ماضی میں تحریک کا مفاد اپنے تمام ذاتی امنگوں سے اوپر رکھا ہے، سوشل میڈیا پر نوجوان طبقے میں آپ کے انتخاب پر خوشی کا اظہار اسی وجہ سے ہے کہ آپ نوجوان اور نئی صلاحتوں کیلئے ہمیشہ منتظر رہتے ہیں، آپ سوال کرنے والوں کو خوشامد پسندوں سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، آپ بزرگوں کا احترام طالب علم کی طرح کرتے ہیں، لہٰذا اس استقبالیہ مراسلے کو بھی خیر خواہی پر محمول فرمائیں! آپ کی تحریک مسلمانوں کے تمام طبقات کی تحریک بنے، علما دانشوران طلبہ اور معلّمین وکلا اور ڈاکٹرز مرد و خواتین تمام مسالک اور مذاہب تمام فقہوں اور مکاتب کیلئے آپ کی تحریک اپنے دروازے کھولے ایسی دعا اور تمنا کرتے ہیں، تحریک کے باہر چمکنے والے ستاروں کے ساتھ تحریک کے اندر ستاروں اور ممکنہ ستاروں کو بھی آپ کی توجہ نصیب ہو ایسی خواہش ہے ! آپ ایسا کر سکتے ہیں اس کی توقع ملک کے طول عرض میں آپ کے کارکنان کے ساتھ ملت کے دیگر خادموں کو بھی ہے اور اسی وجہ سے یہ طویل مراسلہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں !
اللہ آپ کے قدموں کو طاقت بخشے اور آپ کے انتخاب کو ملت اسلامیہ ہند کیلئے برکت اور سعادت کا سبب بنائے ! (عمیر انس)
تبصرہ: جماعت اسلامی ہند کا انتخابی نظام کبھی بھی باصلاحیت افراد کے آگے آنے میں رکاوٹ نہیں رہا، جس کا ثبوت نہ صرف حالیہ انتخابات میں دیکھنے میں آیا بلکہ روزِ اول سے آج تک اس میں کمی نہیں آئی۔ پہلے امیر مولانا ابواللیث ندوی، انجینئر سید سعادت اللہ حسینی سے بھی کم عمر تھے۔ کسی بھی جماعت کا نظام اگر صحیح اور مضبوط ہو تو کام آگے بڑھتا رہتا ہے۔ قیادت سے زیادہ اہم جماعتی نظام ہوتا ہے۔ افراد کے کردار کی خامیوں اور کوتاہیوں کو بھی نظام درست کرتا رہتا ہے۔ جو لوگ آپ کی طرح جماعت کے مشاورتی نظام سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک امیر کیلئے کئی نام پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر نام پر کھل کر اس کی خوبیاں اور کمیاں مجلس نمائندگان کے اجلاس میں بیان کی جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ دو تین دنوں تک جاری رہتا ہے، پھر انتخاب کی گھڑی آتی ہے اور لوگ اپنی رایوں کا استعمال کرتے ہیں۔ میرے خیال میں جو کمی آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے منصب کی چاہت لوگوں میں بالکل نہیں تھی لیکن آہستہ آہستہ کچھ لوگ اس مرض کے شکار ہوئے ہیں جسے مولانا نعیم صدیقی نے تحریکی شعور میں لکھا ہے کہ یہ اسلامی نظام میں مجرمانہ فعل ہے۔ اس بار یقیناًبقول آپ کے جماعت نے بڑی بے خوفی بے باکی سے ایک بڑے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ گزشتہ میقات میں بھی محترم سعادت اللہ حسینی صرف پانچ ووٹوں کی وجہ سے منتخب نہیں ہوسکے تھے۔ بعض وجوہ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس بار امیر جماعت اور ان کی ٹیم لباس نو میں ہے۔ مرکزی ٹیم کی تصویر دیکھ کر علامہ اقبالؒ کا ایک مصرعہ زبان پر بے ساختہ آجاتا ہے ؂ ’’قمر اپنے لباسِ نو میں بیگانہ سا لگتا ہے‘‘ (عبد العزیز)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں