206

’می ٹومومنٹ‘:بارشِ سنگ کا موسم ہے مرے شہر میں تو!

نایاب حسن
بی جے پی کو’’مغلِ اعظم ‘‘والے اکبرسے بھلے ہی پرابلم ہو،مگرمودی کی کابینہ میں موجوداکبرسے کوئی پرابلم نہیں ہے ، ابھی توصرف نوخواتین نے ان کے خلاف جنسی ہراسانی وچھیڑخانی کے قصے بیان کیے ہیں،بات نکلی ہے، توپتانہیں کتنی دورتلک جائے، دی وائر پر1997کے عرصے میں’’ایشین ایج ‘‘میں موصوف کے ساتھ کام کرچکی غزالہ وہاب کاجومضمون شائع ہواہے، وہ رونگٹے کھڑے کردینے والاہے،ان کے ساتھ جوہوا،اس پربائیس سال کاعرصہ بیت چکاہے، مگرکہانی کی سطور/بین السطورسے ایک ملازمہ کی بے چارگی وبے بسی اورایک باس کی حیوانیت کاجونقش ابھرتاہے، وہ نارمل انسان کے لیے لرزہ انگیزہے ۔ الزام لگانے والی ان خواتین کی باتوں کی آنکھ موندکرتصدیق نہیں کی جاسکتی، مگرایک بات توپکی ہے کہ مسٹرایم جے اکبرکھل کرکھیل چکے ہیں۔
حیرت ہے کہ اس انتہائی سیریس معاملے میں بی جے پی نے من حیث المجموع چپی سادھ رکھی ہے، روی شنکرپرساداورسشماسوراج جس طرح صحافیوں کے سوال سے کنی کتراتے نظرآئے، اس سے تویہی لگتاہے کہ مودی حکومت اکبرکی پشتیبانی کررہی ہے ، ادھرحضرت اکبر اورمودی جی بیرونی دورے پرہیں؛ اس لیے نہ تو صاحبِ معاملہ کاکوئی رسپانس سامنے آیاہے، نہ ان کے باس کا، بہرحال ایسالگتاہے کہ’’می ٹو‘‘ کاہندوستانی ورژن خاصادھماکہ خیزثابت ہونے والاہے۔
ایم جے اکبر پرجن عورتوں نے جنسی ہراسانی یا چھیڑچھاڑکے الزامات لگائے ہیں،وہ سب ان کے ساتھ مختلف صحافتی اداروں میں کام کرچکی ہیں،ایک زمانہ تھا،جب انگریزی صحافت میں موصوف کے جلوے تھے،ان کی تحریروں اور تجزیوں کا وقار و اعتبار تھا اور انھیں ملک کے ٹاپ کے صحافیوں کی صفِ اول میں رکھاجاتا تھا، انھوں نے سب سے پہلے سیاسی ہفتہ وار انگریزی میگزین’’ سنڈے ‘‘کی ادارت کی ،انگریزی کے دوبڑے اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘اور’’ایشین ایج‘‘کے مدیر رہے، ’’انڈیاٹوڈے‘‘اور ’’سنڈے گارجین‘‘کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں،ان کے علاوہ دیگر کئی اہم اخبارات اور صحافتی اداروں سے ان کی وابستگی رہی ، موصوف اپنی صحافیانہ خدمات کا معاوضہ بھی ہاتھوں ہاتھ وصولتے رہے،کانگریس سے وابستہ ہوئے اور ۱۹۸۹ء میں کشن گنج،بہار سے ممبرپارلیمنٹ منتخب ہوئے،جبکہ ۱۹۹۱ء میں انھیں شکست سے دوچار ہونا پڑا،البتہ آں جہانی راجیوگاندھی سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی،سوانھیں کانگریس کی حکومت اور پارٹی میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہا ،ایک عرصے کے بعدگزشتہ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل انھوں نے اپنا سیاسی قبلہ بدلا اور بی جے پی کا دامن تھام لیا،بی جے پی کو بھی ایسے قابل انگریزی صحافی کی ضرورت تھی،انھیں ہاتھوں ہاتھ لیاگیا؛بلکہ حکومت میں آنے کے دوسرے سال مودی نے انھیں جونیئر وزیر خارجہ بھی بنادیا،اب ان کاکام ہے باہر کے ملکوں میں جاکر مودی حکومت کی’’ساکھ‘‘کومضبوط کرنا اور وہ یہ کام بخوبی کررہے ہیں۔
جس ’’می ٹو‘‘(MeToo) تحریک کا فی الحال ہندوستان میں شورہے اوراس کی زدمیں متعدد سلیبرٹیزاور اب سیاست دان بھی آگئے ہیں،اس کا آغاز دراصل سال بھر قبل امریکہ میں ہالی ووڈہیروئن الیساملانو(Alyssa Milano)نے کیاتھااوراس کا مقصدتھاکہ مختلف بڑے پلیٹ فارم پر سرگرمِ عمل خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی اور چھیڑخانی کوبرسرِ عام لایاجائے اور جن خواتین کے ساتھ یہ حادثے ہوئے ہیں،وہ خود آگے بڑھ کر اپنے بارے میں بتائیں،گزشتہ سال بھر سے یہ تحریک مسلسل عالمی صحافت میں زیر بحث ہے اور مختلف ممالک کے کئی بڑے نام اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں،بہت سی عورتوں کو اس سے حوصلہ ملاہے اور اپنے ساتھ ہونے والی جس زیادتی کے ذکر سے انھوں نے ایک زمانے تک خاموشی اختیار کیے رکھی،اب وہ سوشل میڈیاپر کھل کراپنی روداد بیان کررہی ہیں،ممکن ہے کہ اس تحریک کی آڑمیں کئی بے قصور لوگوں کابھی استحصال کیاجارہاہو،مگر بہر حال یہ ایک سنجیدہ ایشوہے اور عام طورپر ایسی خواتین کو لوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہورہی ہیں، جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو سرِعام بیان کررہی ہیں۔ہندوستان میں اب تک اس کے اثرات محسوس نہیں کیے گئے تھے،مگر گزشتہ ماہ ماضی قریب کی فلم ایکٹریس تنوشری دتا نے جب ایک میڈیاپلیٹ فارم پرآکر۲۰۰۸ء میں اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کی کہانی بیان کی اور اس ضمن میں انھوں نے فلم اسٹار نانا پاٹیکر، کوریوگرافر دنیش اچاریہ ،فلم ساز شامی صدیقی اور ہدایت کارراکیش سارنگ پر الزام لگایاکہ انھوں نے ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ نازیبا حرکت کی تھی، توان کی بات پر غیر معمولی توجہ دی گئی ،پھراسی کے بعد یہاں بھی’’می ٹو‘‘تحریک کی گونج سنائی دینے لگی اور فلم اسٹارآلوک ناتھ،مشہور کامیڈی شواے آئی بی کے اتسوچکرورتی ، تنمے بھٹ اورگرسمرن کھمبا،فلم ڈائریکٹر وکاس بہل،وویک اگنی ہوتری،سبھاش گھئی اورساجدخان وغیرہ پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے گئے ہیں ، اس کا فوری اثر یہ ہواہے کہ’’ آل انڈیابکچود‘‘نے اپنے تینوں لوگوں کو باہرکردیاہے،کنگنارناوت کے الزام کے بعد کوئن کے ڈائریکٹروکاس بہل ’’امیزون‘‘کی ویب سیریز سے علیحدہ کردیے گئے ہیں،تنوشری دتاکے ذریعے ممبئی کے اوشیوارہ تھانے میں ناناپاٹیکرکے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ۳۵۴؍ (چھیڑچھاڑ)اور دفعہ ۵۰۳؍ (خواتین کے ساتھ نازیباسلوک)کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے ،ان کے گھر کے باہر سیاسی و غیر سیاسی خواتین کا احتجاج بھی جاری ہے،جبکہ آلوک ناتھ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ونیتا ننداکے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائرکرنے کا فیصلہ کیاہے ،ساجد خان ’’ہاؤس فل۴‘‘کی ڈائریکٹرشپ سے کنارہ کش ہوچکے ہیں اور اکشے کمار نے بھی معاملہ صاف ہونے تک اس کی شوٹنگ سے منع کردیاہے۔
ایم جے اکبر کے خلاف ایک دونہیں ،اب تک کل نوخواتین نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں،سب سے پہلے پریہ رمانی(Priya Ramani) نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعے بیان کیاکہ ساؤتھ ممبئی کے ایک لگژری ہوٹل میں انٹرویوکے بہانے اکبر نے ان کے ساتھ نازیباحرکت کرنے کی کوشش کی، پھر شوما راہا (Shuma Raha)نے ایک انگریزی اخبارکوایم جے اکبر کے ساتھ اپنے اسی قسم کے تجربے کے بارے میں بتایا،پریرناسنگھ بندرانے بھی اپنی بیتی بیان کی، کنیکا گہلوت بھی سامنے آئیں، ایشین ایج کی موجودہ ریزیڈنٹ ایڈیٹر سپورناشرمانے بھی اپناواقعہ بیان کیا،پھرشتاپاپال نے سلسلہ وار ٹوئٹس کرکے اپنی رودادبیان کی اور غزالہ وہاب نے ’’دی وائر‘‘ پر اپنے ایک قدرے تفصیلی مضمون میں ایم جے اکبر کوبھگتنے کا اپنا تلخ تجربہ بیان کیا،ان سبھی خواتین کے ٹوئٹس اور بیانات سے جوحقیقت سامنے آتی ہے ،وہ روش کمارکے الفاظ میں یہ ہے کہ مسٹر اکبر کاجس خاتون پر دل آتاتھا،وہ اسے پیار سے ہموار کرنے یا منانے کی بجاے سیدھے اس پر حملہ کرتے تھے، غزالہ نے تواپنے مضمون میں لکھاہے کہ’’ ایشین ایج‘‘دہلی کی آفس میں مشہور تھاکہ مسٹراکبر کاکیبن ان کا’’حرم‘‘ہے،انھوں نے یہ بھی لکھاہے کہ اخبار کے ہر ریجنل آفس میں ان کی ایک گرل فرینڈ ہوتی تھی،اپنے ساتھ بیتنے والا جوواقعہ غزالہ نے بیان کیاہے،وہ نہایت ہی ڈراؤنااور ناقابلِ بیان ہے۔اس معاملے میں اب تک بی جے پی کی جانب سے باضابطہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاہے،وزیر قانون روی شنکر پرساداور وزیر خارجہ سشماسوراج صحافیوں کے سوالات سے پیچھاچھڑاتے نظر آئے ، البتہ دوسری خاتون وزرامینکاگاندھی،نرملاسیتارمن اور اسمرتی ایرانی نے بہ ظاہر ان خواتین کے تئیں ہمدردی ظاہر کی ہے اور کہاہے کہ متعلقہ شخص کو سامنے آکر اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے،جبکہ کانگریس سے بی جے پی سدھارنے والی یوپی کی موجودہ یوگی حکومت کی وزیر ریتابہوگنا جوشی نے ایم جے اکبر کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ چوں کہ ابھی ان کے خلاف کسی طرح کا جرم ثابت نہیں ہواہے؛لہذا استعفادینے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ویسے اس سارے سلسلۂ واقعات پر بعض لوگوں کاتبصرہ یہ بھی ہے کہ ان خواتین کی فوری تصدیق نہیں کی جاسکتی،جب تک کہ خودوہ لوگ اپنا موقف سرِعام بیان نہ کردیں،جن کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جارہے ہیں،کچھ لوگ اسے شہرت حاصل کرنے یاکسی کوبے جا بدنام کرنے کا شاخسانہ بھی قراردے رہے ہیں ،بہر کیف کم ازکم مسٹر اکبر کے معاملے میں تویہ بات نہیں کہی جاسکتی؛کیوں کہ ایک دونہیں ،نوخواتین نے ان کے خلاف ایک ہی قسم کے الزامات عائد کیے ہیں، مودی حکومت کا ان کے بارے میں فیصلہ کن موقف کیاہوگا،یہ توایک سیاسی معاملہ ہے،مگر خود مسٹر اکبر کوسامنے آکر اپنی پوزیشن صاف کرنی چاہیے۔
اس پورے معاملے میں ایک پہلو عبرت کابھی ہے اور وہ تہذیبِ نوکی چکاچوند،آزادیِ نسواں کے کھوکھلے نعروں،مساواتِ مردوزن کی پرفریب تحریک سے وابستہ ہے، جب بات اخلاقی قدروں کی کی جاتی ہے،جب خواتین اور مردوں کے حدودوشعبہ ہاے کار میں تفریق کا ذکر ہوتاہے،جب مردوزن کے بے محابااختلاط کے عواقب ونتائج پر گفتگو کی جاتی ہے ،توکچھ لوگ حکمتِ بقراط اور دانشِ سقراط کا پٹاراکھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور تہذیب و ثقافت کے ایسے ہی سورما ’’بے چاری‘‘ خواتین کے حقوق کے تحفظ کاعلم لے کر میدانِ کارزار میں کود پڑتے ہیں،مگر’’می ٹو‘‘ جیسی تحریک سے صاف طورپر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ لوگ خواتین کی آزادی نہیں چاہتے،خواتین تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں اور جب انھیں خواتین تک پہنچنے کا راستہ مل جاتاہے،توپھر وہ ہوتاہے،جس کا ہونا فطری ہے اورجس کے بارے میں ہمیں یہ الٹراماڈرن،انتہائی لبرل اوربے پناہ آزادخیال خواتین بتارہی ہیں۔راحت اندوری کا ایک شعر ہے:
آگ کے پاس کبھی موم کو لاکردیکھوں؟
ہواجازت توتجھے ہاتھ لگاکر دیکھوں؟
آگ اورموم جب باہم ملیں گے،توآگ کی تپش سے موم کا پگھلنایقینی ہے؛لیکن اکیسویں صدی کی تہذیب و فکر و دانش کے سرخیل یہ مان کرنہیں دے رہے،مگریہ تو بہرحال سوچنا ہوگاکہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا ’’می ٹو‘‘جیسی تحریکوں سے مسئلے کاحل نکل سکتاہے؟شایدنہیں،مگرجواس مسئلے کا درست حل ہے،کیایہ دنیاوہاں تک پہنچنے کوآمادہ ہے؟ اس کا جواب بھی شاید’’نہیں‘‘ہی ہوگا،پس ’’می ٹو‘‘مومنٹ کے بعد’’ہی ٹو‘‘یا’’شی ٹو‘‘جیسی مزید تحریکوں کے لیے تیار رہیں،ساتھ ہی اقبال کا یہ شعر بھی گنگناتے رہیں:
میں بھی مظلومیِ نسواں سے ہوغمناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کشود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں