493

میں جواب دے سکتا ہوں؛لیکن نہیں دوں گا!


ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی

  

قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا واقعہ بیان کیا گیا ہے،دونوں نے اللہ کی راہ میں قربانی دی ، لیکن کسی وجہ سے ایک کی قربانی بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی ، دوسرے کی قربانی شرفِ قبولیت حاصل نہ کرسکی، جس کی قربانی مقبول نہ ہوئی تھی اس نے اپنا احتساب اور جائزہ نہیں لیا ، اللہ سے اپنے تعلّق کو نہیں دیکھا اور اپنی کم زورریاں دور کرنے کی کوشش نہیں کی ، بلکہ یہ سوچ لیا کہ اس کی قربانی مقبول نہ ہونے کی وجہ اس کا بھائی ہے ، چنانچہ اس نے بھائی کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دے دی ـ اس موقع پر اس کے بھائی نے کیا جواب دیا تھا، اسے قرآن نے نقل کیا ہے، اس نے کہا تھا:

” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا،میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے،ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے”ـ (المائدۃ : 28 _29)
آگے قرآن نے فیصلہ سنایا ہے کہ دھمکی دینے والے نے اپنے بھائی کو قتل کردیا ، اس طرح وہ خسارہ میں رہنے والوں میں شامل ہوگیا ( فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ) بعد میں اسے اپنے رویّے پر افسوس ہوا ، جب کہ اس وقت افسوس کا کچھ حاصل نہ تھاـ ( فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ)
سوشل میڈیا پر ایک تحریر بہت تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ کے بعض افکار کو گم راہ کن قرار دیا گیا ہے اور ان کی قائم کردہ جماعت ( جماعت اسلامی ) کو ‘مودودی فرقہ’ کہتے ہوئے اس کا شمار ‘فِرَقِ ضالّہ’ (گم راہ فرقوں) میں کیا گیا ہے، میرے بہت سے احباب نے مجھے وہ تحریر بھیجی ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ میں اس کا جواب دوں،میں اپنے محبّت کرنے والے ان احباب سے بہت معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی خواہش پوری نہیں کرسکتا، میں ان تمام اعتراضات کے جوابات دے سکتا ہوں؛لیکن نہیں دوں گاـ
مولانا مودودی پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں اور جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کے جوابات دیے گئے ہیں ـ حلقۂ دیوبند ہی کے ایک عالم مفتی محمد یوسف رحمہ اللہ کی کتاب ‘مولانا مودودی پر اعتراضات کا علمی جائزہ’ 2 جلدوں میں موجود ہے، خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا جواب جناب ملک غلام علی صاحب نے دیا ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے لفظ ‘ڈکٹیٹر’ کا استعمال ، صحابۂ کرام کے معیارِ حق ہونے کا معاملہ ، عبادات اصل مطلوب ہیں یا وسیلہ ہیں؟ یہ اور اس طرح کے اور بھی جو اعتراضات اب اٹھائے جا رہے ہیں ،ان میں سے کوئی بھی نیا نہیں ہےـ
زمانۂ طالب علمی میں ایک بریلوی عالم کی کتاب مطالعے میں آئی تھی ، جس کا نام تھا ‘خوابوں کی بارات’، اس میں انھوں نے یہی شکایت کی تھی اور باقاعدہ حوالے دیے تھے کہ دیوبندی علماجن جن باتوں کے سلسلے میں بریلویوں پر اعتراضات کرتے ہیں، وہ سب باتیں خود ان کے اکابر کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں ـ یہی بات جماعت اسلامی کے تعلق سے بھی کہی جا سکتی ہے، مولانا مودودی کی جن باتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ان میں سے بیش تر باتیں خود اکابرِ دیوبند کی کتابوں میں موجود ہیں،جس طرح مولانا مودودی کے بعض جملے سیاق و سباق سے کاٹ کر ان پر انحراف و ضلالت کا ٹھپّہ لگایا جا رہا ہے ، اکابرِ دیوبند کی کتابوں سے بھی اسی طرح بہت سے جملے سیاق و سباق سے کاٹ کر ان سے کفر و فسق و ضلالت کا استنباط کیا جا سکتا ہےـ
مولانا مودودی کو ہم معصوم عن الخطأ نہیں سمجھتے،انھوں نے صاف الفاظ میں خود لکھا ہے کہ فقہی ، تاریخی یا دیگر معاملات میں ان کی آرا ان کی ذاتی آرا ہیں،جماعت اسلامی کے وابستگان کے لیے ان کی موافقت ضروری نہیں ہے،جماعت اسلامی ہند کے علما و دانش وران ، مثلاً مولانا سید احمد عروج قادری ، پروفیسر محمد عبد الحق انصاری اور دیگر نے ان سے اختلاف کیا ہے، خود میں نے متعدد موضوعات پر مولانا کی عظمت کے اعتراف کے ساتھ ان سے اختلاف کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا نے دین کی جو خدمت کی ہے اس کا اجر انھیں ان شاء اللہ بارگاہِ الٰہی میں ملے گا، جو خطائیں اور لغزشیں ان سے سرزد ہوئی ہیں ان کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ جو معاملہ کرنا چاہے گا ، کرے گاـ ہم دین کی خدمت کے معاملے میں جو کچھ کرسکتے ہیں، اس کا حساب کتاب ہمیں بارگاہ الٰہی میں دینا ہےـ
جماعت اسلامی ہند کی قیادت نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب مولانا مودودی کے خلاف گِھسے پِٹے اعتراضات کا جواب دینے میں اپنی توانائیاں صرف نہیں کریں گےـ ہم جماعت کے ارکان ، کارکنان ، وابستگان اور بہی خواہان سے بھی یہی درخواست کریں گےـ
مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں سے ہم وہی بات کہیں گے، جو آدم کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی سے کہی تھی : ” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ـ”
یہ تصوّر میرے اوپر لرزہ طاری کردیتا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں جب مولانا مودودی کھڑے ہوں گے اور ان پر کفر و ضلالت کے فتوے صادر کرنے والے بھی اور مولانا مودودی پر زیادتی کی پاداش میں مولانا کی لغزشوں اور گناہوں کا بوجھ ان کے مخالفین پر لاد دیا جائے گا، یہی بات آدم کے مقتول بیٹے نے ان الفاظ میں کہی تھی : ” میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے”ـ
مجھے یقین ہے کہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے والے آخرکار خسارےمیں رہیں گے ، جیسے قرآن نے فیصلہ سنایا ہے کہ آدم کا قاتل بیٹا خسارہ میں رہنے والوں میں شامل ہوگیاـ
مجھے یقین ہے کہ آخرکار جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے والے اپنے فعل پر نادم ہوں گے اور کفِ افسوس مَلیں گے ، جیسے قاتل ابنِ آدم کو ندامت ہوئی تھی؛ لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب ندامت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور ندامت حسرت سے بدل جائے گی ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

میں جواب دے سکتا ہوں؛لیکن نہیں دوں گا!” ایک تبصرہ

  1. محترم۔رضی الاسلام ندوی صاحب کا جواب بالکل برحق بھی ہے اور اس بان کا متقاضی ہے کہ اسے خوب عام کیا جائے تاکہ غیر ضروری نقادوں کا بھرم کھل سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں