196

میرے دادا

( مولانا واضح رشید ندوی اپنے پوتے کی نظر میں )
آج لوگ میرے دادا حضرت مولانا واضح رشید ندوی رحمہ اللہ کو یاد کررہے ہیں ، ان کے علمی کارناموں کا تذکرہ کر رہے ہیں ، ان کا ذکر ایک ماہر ادیب ، نقاد اور نام ور صحافی کے طور پر کررہے ہیں،لیکن میری نظر میں ان کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں :
1- قرآن کریم سے بے انتہا شغف :
اگر یہ کہا جائے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور بینائی کم زور ہوجانے کی صورت میں اس کی تلاوت سننا ان کے لیے روح کا درجہ رکھتا تھا،تو یہ ادنی جھوٹ نہیں ہوگا، رمضان کے علاوہ ایام میں روزانہ دو پارے کا معمول تھا، جس میں کسی بھی حال میں ناغہ ان کو برداشت نہیں تھا ۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، طبیعت میں چاہے جتنا اضمحلال ہو ، فجر کی نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرنا یا سننا ان کے لیے فرض کا درجہ رکھتا تھا، مجھ سے اکثر پوچھتے تھے : “کتنا قرآن کریم پڑھ لیتے ہو؟ قرآن کریم سے تعلق قائم کرلو ! نجات وکامیابی تمہارا مقدر بن جائے گی”. خاص کر فجر کے بعد قرآن کی بہت زیادہ تاکید کرتے تھے۔ کئی بار مجھ سے فرمایا کہ: “حضرت شیخ سے جب سے تعلق قائم کیا، اس دن سے لے کر آج تک الحمدللہ قرآن کا ناغہ نہیں ہوا “ـ یہ بات وہ شوق دلانے کے لیے فرماتے تھے، یہ بات بھی بارہا مجھ سے کہی کہ “میرا معمول اسی وقت سے یہ بھی ہے کہ اگر فجر کی نماز کے معاً بعد کبھی تلاوت نہ کرسکا تو قلم اٹھانے سے قبل تلاوت ضرور کرتا ہوں یا سنتا ہوں” ـ
ان کو سورۂ یس ، سورۂ فتح ، سورۂ ملک ، سورۂ الحاقہ اور ایک سورت جس کا نام ذہن سے نکل رہا ہے، یاد تھیں، جن کا ان کے یہاں اہتمام تھا اور اس میں تاحیات کبھی ناغہ نہیں ہوا۔
جو آپ کو قران کریم سناتا تھا اس کا احسان مانتے تھے اور اس کا حد سے زیادہ خیال فرماتے تھے، یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ وہ قرآنی تھےـ
2- مسجد سے تعلق :
مسجد سے ان کا تعلق کسی بھی تعلق والے پر مخفی نہیں، ہر حال میں مسجد میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے،کئی بار میں نے عرض کیا: “آج ٹھنڈ بہت ہے ، ہوا تیز چل رہی ہے ، موسم سخت ہے ، آپ مہمان خانہ میں نماز ادا کرلیں ـ جواب میں فرماتے: “قریب کی مسجد کو چھوڑ کر یہاں نماز کس منھ سے پڑھوں، جب کہ میں جاسکتا ہوں، تم مجھ کو مسجد جانے سے مت روکا کرو _” پاوں میں درد رہنے لگا تھا ، گھٹنے کی تکلیف بڑھ گئی تھی ، زیادہ چلنے پر سینے میں بھی درد ہونے لگتا تھا ، لیکن اس وقت بھی مسجد جانا ترک نہیں کیا اور ہر نماز مسجد میں ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے _ آخری دنوں میں فجر کو چھوڑکر ہر نماز مسجد میں ادا کرتے تھے اور فجر کے ادا نہ کرپانے کا احساس بہت ہوتا تھاـ
مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد نفل عبادات میں غرق ہو جاتے، اس کے بعد وہیں کچھ وقت کے لیے مراقب ہوجاتے۔ یہ چیز رمضان مبارک میں بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی ـ
3- حدیث شریف وسنت سے وابستگی :
آپ کا اختصاص ادب تھا، لیکن وابستگی حدیث شریف سے تھی،حدیث سے نسبت رکھنے والوں کا بہت بلند الفاظ میں تذکرہ کرتے اور اس سے تعلق قائم کرنے کی خاص تاکید فرماتے، مجھ کو ایک مرتبہ اسلامی معاشرہ پر چالیس احادیث جمع کرنے ، ان کا ترجمہ کرنے اور تشریح کرنے کا حکم دیا اور اس پر ایک نہایت وقیع مقدمہ تحریر کیا، ابھی کچھ دن قبل ان احادیث کو جمع کرنے کا حکم دیا جو “لا یؤمن” سے شروع ہوتی ہیں ، یا اس موضوع سے متعلق ہیں اور فرمایا : “تمہارے نیک عمل کا ثواب مجھ کو ملے گا”ـ
فرماتے تھے: “تقریر کیا کرو، دین کی بات دوسروں تک پہنچاؤ ۔ اس سے خود بھی عمل کا جذبہ پیدا ہوتا یے اور کسی نے اس پر عمل کرلیا تو تمہارے لیے صدقہ جاریہ ہوگا،فرماتے تھے: “تمہاری ہر بات احادیث شریفہ سے مزین ہونی چاہیے”.
اسی طرح اتباع سنت کا خاص اہتمام تھا،ہمیشہ مسواک کا معمول رہا، اسی کی برکت سے آخری وقت میں ، جب کہ سکرات کا عالم تھا ، خود بھی کلمہ کا ورد کرنے لگے اور پاس والوں کو بھی پڑھنے کی نصیحت کی ـ
بارہا ایسا ہوا کہ میں موزے اتارنے لگا اور غفلت میں داہنی جانب سے نکالنے لگا تو فورا پیر کھینچ لیا اور فرمایا: “بائیں پیر سے نکالوـ” اور پہنانے میں بارہا ایسا ہوا کہ غفلت میں میں نے بائیں پیر میں پہنانا چاہا تو فوراً پیر کھینچ لیا کہ داہنے پیر میں پہناؤـ سنتوں کا استحضار بہت تھا،خاص کر اوابین، چاشت کی رکعات، اس میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، کبھی ناغہ نہیں ہوا، بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھےـ
3- صدقہ :
آپ کے یہاں صدقہ کا خاص اہتمام تھا۔ بسا اوقات ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ لٹادیں گے، بسا اوقات مجھ کو رقم دے کر فرماتے کہ “صدقہ کردو”. کبھی مجھ کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیے رقم دیتےـ میں عرض کرتا کہ “میرے پاس ہیں” تو فرماتے : “میں اس لئے دیتا ہوں کہ انفاق کی بڑی فضیلت ہے اور اپنوں پر انفاق کی اور زیادہ فضیلت یے”.
4-تواضع:
آپ تواضع کا عملی پیکر تھے، اس میں ادنی تصنع کی آمیزش نہیں تھی. یہی وجہ تھی کہ آپ کےتلامذہ کے دلوں میں آپ کی بڑی قدرومنزلت تھی_آپ “من تواضع للہ رفعہ اللہ” کا عملی مصداق تھے.
اس کے علاوہ نہ جانے کتنے اوصاف کے حامل تھے _
انتقال سے ایک دن قبل معمول کے مطابق سورۂ آل عمران مجھ سے سنی اور عام معمول سے ہٹ کر اس بار جب میں “متاع قلیل” پر پہنچا تو بے ساختہ بول اٹھے: “کیا خوب کلام الہی ہے! کیا خوب اس کی تجلیات ہیں! کتنا زبردست اس کا ادب ہے!، “متاع قلیل” چند دن کا مزہ پھر اللہ کے دشمنون کے لیے تباہی اور ایمان والوں کے لیے کام یابی کی بشارت، لیکن ایک شرط کے ساتھ اور وہ ہے: اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا اللہ”. فرمایا: “کام یاب زندگی تو اللہ والوں کی ہے”.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں