153

میری زمین، میراآسمان


شعری مجموعہ: ونودکمارترپاٹھی
طباعت: انجمن ترقی اردوہند، دہلی
قیمت: چارسوروپے
تبصرہ: محمدامانت اللہ

اردو ادب میں بنیادی طور پر دو اصناف پائی جاتی ہیں، ایک نثری صنف اور دوسری شعری اور دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے- شعری اصناف میں بالخصوص غزل اور نظم اردو شاعری کی مقبول ترین صنفیں سمجھی جاتی ہیں جنھیں ابتدائی دور سے ہی ہر خاص و عام نے قبول کیا ہے اور سراہا ہے، زیر نظر کتاب “میری زمین میرا آسمان” ونود کمار تر پاٹھی کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے- اس کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، پہلے حصے میں غزل کو جگہ دی ہے اور دوسرے حصے میں نظم کو شامل کیا ہےـ ونودکمارترپاٹھی نے الہ آباد یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا اور انڈین ریونیو سروس (جس کے وہ نہایت اچھے افسر تصور کیے جاتے تھے) جوائن کرنے سے پہلے ایونگ کرسچین کالج(ECC) الہ آباد میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے – ان دنوں وہ بمبئی میں مقیم ہیں جہاں ریلائنس گروپ میں پریزیڈنٹ اور گروپ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں-
    ونود کمار اپنی گو ناگوں مصروفیات کے باوجود شعر و سخن کو بھی وقت دیتے ہیں، ان کا یہ شعری مجموعہ اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے کہ انہیں شاعری سے دلچسپی اور گہرا ربط ہے –
   کتاب کے شروع میں شاعر نے “دو باتیں آپ سے” کے تحت مختصر تحریر میں اپنی بات قارئین تک جس صاف انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے اس کو واضح کیا ہے اور ان شخصیات کا بھی ذکر کیا ہے جن سے قدم قدم پر انہیں حوصلہ افزائی ملی ہے –
    اس کے بعد “سچائی کا پیکر: ونود ترپاٹھی” کے تحت سید محمد اشرف نے اس مجموعے کی خصوصیات کو بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے-
  اس شعری مجموعے کو پڑھ کر مصنف کے شعری اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، خوبصورت لب و لہجے اور منفرد اسلوب کی حامل ان کی شاعری قاری کے دل پر دیر پا نقش چھوڑ جاتی ہے، ونود کمار ترپاٹھی نے اپنے مشاہدے، جذبات، خیالات اور احساسات کو بہت خوش اسلوبی سے ہم تک پہنچانے کی کوشش کی ہے –
     پیش نظر مجموعے کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان اور اسلوب بیان ہے، انہوں نے ایسی زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو عام آدمی کی زبان ہوتی ہے، جو لفظ انہیں جہاں مناسب اور موزوں معلوم ہو تا ہے وہ اسے وہاں استعمال کر لیتے ہیں، مثال کے طور پر حصئہ غزل سے ووشعر:
میں تو رسوائی سے ڈرتا تھا تمہاری خاطر
جب تلک ساتھ تمہارا تھا میسر مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ نہ تم ہو نہ کوئی رسوائی
شام تنہائی ملی بن کے مقدر مجھ کو

اس مجموعے کی دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں شاعر نے قارئین کو حقائق اور سچائی سے روشناس کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور سچائی کے پھولوں کو بہت ہی خوبصورت اور دلکش اندازمیں شعری سانچے میں ڈھالاہے، مثلایہ دوشعرملاحظہ فرمائیں:
بہتے پانی کا کچھ حساب نہیں
زندگی ہے کوئی کتاب نہیں
عمر بھر ساتھ جو نبھا جائے
اس زمانے میں ایسا خواب نہیں

اس مجموعے میں پائی جانے والی تیسری اہم خوبی سلاست اور روانی ہے، ان کی شاعری میں خیالات کا ایک تسلسل نظر آتا ہے جو ان کی شاعری کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے جیسا کہ حصۂ نظم سے ان کی ایک نظم “بے نام” کے چند اشعار سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
ہر ملاقات کا ہو نام ضروری تو نہیں
جیسا آغاز ہو انجام ضروری تو نہیں
اتفاقاً ہی تعارف ہوا تھا اس سے میرا
گفتگو ہونے لگی جانے کہاں تک پہنچی
اس کے جذبوں سے حقیقت یوں بیاں ہوتی تھی
جیسے بندش نہ کوئی، حد نہ رکاوٹ کوئی
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خوبیاں اس مجموعے میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،اس کے اشعار پڑھتے ہوئے قاری کے دل پر ایک سحر انگیز کیفیت پیدا ہو جاتی ہے –
      “میری زمین میرا آسمان” میں سموئی ہوئی شاعری کا جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے اور پرکھا جائے یہ بہترین شاعری کے معیار پر پوری اترتی ہے، بلکہ دل پر ایک دیرپااثر چھوڑ جاتی ہے، اس خوبصورت شعری مجموعہ کے لیے ونود کمار یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں – 152 صفحات پر مشتمل اس مجموعے کی قیمت 400 روپے ہے، کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت اور دیدہ زیب ہے، اس کے أوراق بھی بہت دلکش اور شاندار ہیں ،کتاب کی طباعت بھی بہت عمدہ ہے، جید پریس، بلی ماران. دہلی سے اشاعت عمل میں آئی ہے، امید کرتے ہیں کہ ادبی دنیامیں اس مجموعے کو مقبولیت حاصل ہوگی اورباذوق طبقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں